پالیسی، احتساب اور شفافیت کے فروغ سے وابستہ ادارے پی آئی ایل ڈی اے ٹی نے وفاقی بجٹ 2026-27 پر قومی اسمبلی کی سطح پر ہونے والی مفصل جانچ کو اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔ ادارے کے مطابق بجٹ کی جانچ کا یہ عمل پارلیمان کے اس آئینی کردار کو مضبوط بناتا ہے جو عوامی مالیات کی نگرانی سے متعلق ہے۔ادارے نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کے کام کو خاص طور پر سراہا، جس نے چیئرمین سید نوید قمر کی زیر صدارت بجٹ تجاویز کے جائزے کے لیے متعدد اجلاس منعقد کیے۔ ان اجلاسوں میں حکومتی حکام، متعلقہ فریقین اور ماہرین کی آرا بھی سنی گئیں، جب کہ ٹیکس اور اخراجاتی اقدامات کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ پی آئی ایل ڈی اے ٹی کے مطابق یہ طرزِ عمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پارلیمانی کمیٹیوں کے ذریعے مالی فیصلوں میں جواب دہی اور شفافیت کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ادارے نے یہ بھی کہا کہ بجٹ پر محض ایوان میں محدود بحث کے بجائے کمیٹی سطح پر منظم، شواہد پر مبنی اور تفصیلی غور و خوض زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔ پارلیمانی کمیٹیاں بجٹ تجاویز کے اثرات کا جائزہ لینے، ان کی تکنیکی تفصیلات سمجھنے اور ایسی سفارشات دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں جو قانون سازی اور سرکاری مالی نظم و نسق دونوں میں بہتری لا سکتی ہیں۔ اسی تناظر میں بجٹ کی جانچ کو پارلیمانی عمل کا لازمی حصہ قرار دیا گیا ہے۔پی آئی ایل ڈی اے ٹی نے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا، جنہوں نے ایسا پارلیمانی ماحول فراہم کیا جس میں کمیٹی کی سطح پر بجٹ کا بامعنی جائزہ ممکن ہو سکا۔ ادارے کے مطابق یہ انتظام پارلیمان کی مجموعی کارکردگی اور اس کے نگرانی کے کردار کے لیے مثبت مثال ہے۔ادارہ برسوں سے اس مؤقف پر قائم ہے کہ بجٹ کے عمل میں پارلیمان کی شمولیت زیادہ مضبوط ہونی چاہیے اور قائمہ کمیٹیوں کو مناسب وقت، تکنیکی معاونت اور ادارہ جاتی صلاحیت فراہم کی جانی چاہیے تاکہ وہ بجٹ تجاویز کو تفصیل سے جانچ سکیں۔ وفاقی بجٹ 2026-27 کے موقع پر سامنے آنے والی پیش رفت اس بات کی عملی مثال بن کر سامنے آئی ہے کہ مؤثر بجٹ کی جانچ نہ صرف فیصلوں کے معیار کو بہتر بناتی ہے بلکہ عوامی مفاد کی نمائندگی کو بھی مضبوط کرتی ہے۔
