پیپلز پارٹی کی رکن کا وفاقی بجٹ پر جذباتی خطاب

newsdesk
7 Min Read
قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کی خاتون رکن نے وفاقی بجٹ ۲۰۲۶-۲۷ پر مہنگائی، پانی اور بے روزگاری کے خلاف بھرپور موقف اختیار کیا۔

قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں پیپلز پارٹی کی خاتون رکن نے وفاقی بجٹ ۲۰۲۶-۲۷ پر طویل اور مدلل خطاب کرتے ہوئے ملک کی معاشی پالیسیوں پر سخت تنقید کی جس سے ایوان کا ماحول شدید جذباتی اور سیاسی ہو گیا۔ ان کی تقریر کے دوران بلند نعروں اور میزوں کی دستک سنائی دی اور حکومتی و اپوزیشن دونوں جانب سے ان کے کئی نکات پر اتفاق رائے کا منظر بھی دکھائی دیا۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے بڑی اقتصادی روئیتیں پیش کی ہیں مگر عام آدمی تک ریلیف پہنچانے کی واضح حکمتِ عملی نظر نہیں آتی۔ وفاقی بجٹ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ حکومتی دعوائیں زمینی حقائق سے میل نہیں کھاتیں اور عوام کے گھر کا بجٹ تباہ ہو چکا ہے۔انہوں نے مہنگائی کے تیزی سے بڑھتے ہوئے اثرات پر تشویش ظاہر کی اور کہا کہ سرکاری شرحِ مہنگائی آٹھ اعشاریہ دو فیصد (۸٫۲ فیصد) بتائی گئی ہے مگر بازاروں کے حالات اس سے کہیں خشونت ہیں۔ سبزی، آٹا، چینی، دودھ، گھی، دالیں اور ادویات غریب خاندانوں کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔حکومت کی پٹرولیم لیوی اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کو براہِ راست عوام پر بوجھ ڈالنے والا قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پٹرول مہنگا ہونے سے ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھتے ہیں، زرعی لاگت میں اضافہ ہوتا ہے، کھاد اور بیج مہنگے ہو جاتے ہیں اور بالآخر اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہو کر غریب پر اثر انداز ہوتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر پٹرولیم لیوی میں کمی کی جائے تاکہ عوام کو فوری ریلیف ملے۔خاتون رکن نے زور دیا کہ اس وفاقی بجٹ میں کم آمدنی والے طبقات کی مکمل نظراندازی ہوئی ہے اور مزدور، دیہاڑی دار، چھوٹے ملازمین، پنشنرز، چھوٹے کسان اور بے روزگار نوجوان کسی واضح ریلیف کے مستحق نہیں دکھائی دیتے۔ کم از کم اجرت میں محض دس فیصد اضافہ مہنگائی کے موجودہ دور میں ناکافی اور غیرمنصفانہ ہے۔انہوں نے غربت کے بلند اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ موجودہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں غربت کی شرح تقریباً ۲۸٫۹ فیصد تک پہنچ چکی ہے جبکہ شہری علاقوں میں یہ شرح ۱۷٫۴ فیصد اور دیہی علاقوں میں ۳۶٫۲ فیصد تک جا پہنچی ہے۔ اسی تناظر میں انہوں نے کہا کہ ایک سال کے دوران تقریباً آٹھ لاکھ افراد بیرونِ ملک منتقل ہوئے جو قوم کے مستقبل کے لیے تشویشناک امر ہے۔نوجوانوں کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے رکن اسمبلی نے کہا کہ تعلیم یافتہ نوجوان روزگار کے مواقع نہ ملنے کی وجہ سے مایوسی کا شکار ہیں اور ہنر مند افراد کو مناسب مواقع فراہم کیے جانے چاہیے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ نوجوانوں کے لیے خصوصی آئی ٹی اور ہنر مندی پروگرام، ٹیکنیکل تعلیم اور کاروباری قرضوں کے پیکیجز متعارف کرائے جائیں تاکہ ملک کا مستقبل محفوظ بنایا جا سکے۔خاتون رکن نے اپنی جماعت کے تاریخی موقف کو اجاگر کرتے ہوئے شہید ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے عوامی رول کا ذکر کیا اور کہا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ غریبوں، مزدوروں، کسانوں، خواتین اور محروم طبقات کی آواز رہی ہے۔ انہوں نے خواتین کے لیے خصوصی ترقیاتی فنڈز، آسان قرضے، ہنر مندی کے پروگرام اور موثر تحفظی اقدامات کے مطالبات دہرائے تاکہ صنفی مساوات ممکن بنائی جا سکے۔سندھ کے پانی کے بحران کو اپنی تقریر کا مرکزی معاملہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پانی سندھ کا آئینی حق ہے، کوئی احسان نہیں۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ پانی کی قلت سے زراعت تباہ ہو رہی ہے، انڈس ڈیلٹا متاثر ہو رہا ہے، ماہی گیری زوال پذیر ہے اور صاف پینے کے پانی کا بحران بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے وفاقی اداروں خصوصاً ارسا سے مطالبہ کیا کہ سندھ کے ساتھ ہونے والی ناانصافی فوری طور پر ختم کی جائے۔کسانوں کی مظلومیت پر روشنی ڈالتے ہوئے رکن اسمبلی نے کہا کہ کسان مہنگی کھاد، بڑھتی زرعی ادویات، مہنگے ڈیزل اور مارکیٹ تک رسائی کے مسائل کا شکار ہیں۔ اگر کسان خوشحال نہیں ہوں گے تو ملک کی معیشت مضبوط نہیں بن سکتی، اس لیے کسانوں کو فوری ریلیف اور سہولتیں دینی ہوں گی۔بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو غریب خواتین کے لیے امید کا سہارا بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لاکھوں خاندان اس پروگرام سے فائدہ اٹھا رہے ہیں مگر مہنگائی کے تیز رفتار اضافے کی وجہ سے امدادی رقم میں فوری اضافہ ناگزیر ہے تاکہ اس پروگرام کی افادیت برقرار رہے۔اپنے حلقے تحصیل مہیسر ضلع دادو کے بارے میں انہوں نے ایوان کو بتایا کہ طویل لوڈشیڈنگ، گیس کی قلت اور کم پریشر نے عوام کی زندگی عذاب بنا دی ہے اور اس صورتحال سے طلبہ، کسان، خواتین اور چھوٹے کاروبار ضعیف ہو رہے ہیں۔ انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ دادو اور مہیسر میں بجلی اور گیس کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے۔اپنے بیان کے آخر میں انہوں نے کہا کہ ملک کو ایسے حالات تک لے جانا ہوگا جہاں غریب کو انصاف، نوجوان کو روزگار، کسان کو خوشحالی، خواتین کو بااختیاری اور ہر شہری کو بنیادی سہولتیں میسر ہوں۔ ان کے اختتامی نعروں میں پاکستان کھپے، جیئے بھٹو اور جیئے عوام شامل تھے جن کے دوران ایوان میں پیپلز پارٹی کے ارکان کی شدید جھلک نظر آئی اور بعض اپوزیشن اراکین نے بھی ان کے نکات کی حمایت کی۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا اشارہ ہے کہ وفاقی بجٹ، مہنگائی، پانی کی تقسیم، صوبائی حقوق اور عوامی ریلیف جیسے موضوعات آئندہ پارلیمانی مباحث میں مرکزی حیثیت اختیار کریں گے اور اگر حکومت نے بروقت اقدامات نہ کیے تو معاشی دباؤ سیاسی تناظرات میں بڑے چیلنجز پیدا کر سکتا ہے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے