وزیراعلیٰ پنجاب کا تعلیمی معیار بہتر بنانے کا عزم

newsdesk
3 Min Read
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے ہدایت نامہ پر راولپنڈی بورڈ نے امتحانی مراکز کی سخت نگرانی، موبائل ضبطگی اور معائنوں سے شفاف امتحانی ماحول یقینی بنایا

مورخہ 18 جون 2026 کو وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے تعلیمی معیار کو بہتر بنانے اور شفاف امتحانی نظام کو یقینی بنانے کے وژن کے تحت راولپنڈی بورڈ میں سخت حفاظتی اور انتظامی اقدامات جاری رہیں۔ چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان اور صوبائی وزیر تعلیم کی موثر سرپرستی میں ڈویژن بھر میں امتحانی نظم و نسق کی مسلسل نگرانی کی گئی تاکہ امیدواروں کے لیے منصفانہ اور قابل اعتبار ماحول فراہم کیا جا سکے۔کمشنر و چیئرمین تعلیمی بورڈ راولپنڈی انجینئر عامر خٹک کی ہدایات کے مطابق امتحانی مراکز پر اچانک دورے کیے گئے اور انتظامی کارکردگی بہتر بنانے کے اقدامات کو عملی جامہ پہنایا گیا۔ کنٹرول اینڈ کنٹرول سینٹر سے امتحانی مراکز کی آن لائن مانیٹرنگ مستقل بنیادوں پر جاری رہی، جس سے کسی بھی بے ضابطگی پر فوری کارروائی ممکن بنی اور شفاف امتحانی نظام کی پاسداری کو یقینی بنایا گیا۔کنٹرولر امتحانات تنویر اصغر اعوان نے گورنمنٹ اسلامیہ ہائی اسکول فار بوائز چکوال اور گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول نمبر 1 چکوال کے مراکز کا دورہ کر کے انتظامات، سکیورٹی اور امیدواروں کو فراہم کردہ سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اسلامیہ ہائی اسکول فار بوائز کے کمپیوٹر لیب کے ایک ایگزامینر کو امتحانی ڈیوٹی سے برطرف کیا گیا اور مبینہ طور پر ضبط کیا گیا موبائل فون ڈسپلن برانچ کو بھجوا دیا گیا، جس سے واضح پیغام گیا کہ نقل کے مخالف سرگرمیوں کے خلاف سخت رویہ اپنایا جا رہا ہے۔امتحانی عمل کے دوران زیرو ٹالرنس پالیسی پر عملدرآمد کو ہر سطح پر یقینی بنانے کے لیے انتظامی عملہ متحرک رہا اور فوری شکایات کی صورت میں بروقت کاروائیاں عمل میں لائی گئیں۔ محکماتی اندازِ کار میں بہتری، اچھی نظافت اور امتحانی مراکز میں نظم و ضبط کے باعث امتحانات خوش اسلوبی سے جاری ہیں اور نقل مافیا کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ بھی برقرار ہے۔اس مجموعی نگرانی اور مستقل معائنہ کاری کے نتیجے میں امیدواروں کو شفاف، منظم اور محفوظ امتحانی ماحول فراہم کرنے کے عزم کو تقویت ملی ہے۔ متعلقہ افسران نے کہا ہے کہ آئندہ بھی شفاف امتحانی نظام کے نفاذ کے لیے کڑی نگرانی اور فوری انتظامی اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے