سینیٹ کی قیادت نے نفرت آمیز تقریر کے خلاف بین الاقوامی دن کے موقع پر سماجی ہم آہنگی، باہمی احترام اور پرامن بقائے باہمی کی ضرورت پر زور دیا۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ نفرت انگیز تقاریر ملکی یکجہتی اور جمہوری اقدار کے لیے سنگین خطرہ ہیں اور معاشرتی ہم آہنگی کو بروئے کار لانے کے لیے تمام اداروں کو سنجیدہ کردار ادا کرنا ہوگا۔انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی شناخت تنوع، بین المذاہب ہم آہنگی اور تمام برادریوں کے احترام میں مضمر ہے اور اسلامی تعلیمات نفرت، تعصب اور امتیاز کو مسترد کرتی ہیں۔ چیئرمین نے پارلیمنٹیرینز، میڈیا، تعلیمی اداروں اور سول سوسائٹی سے اپیل کی کہ وہ حصّہ لیں اور منظم انداز میں اختلافی بیانیوں کا مقابلہ کریں جبکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا ذمہ دارانہ استعمال اور غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکنا لازمی قرار دیا۔ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹ کے سیکرٹری سید حسنین حیدر نے بتایا کہ ملازمین کے لیے قائم فلاحی فنڈ مکمل طور پر سینیٹرز اور سینیٹ ملازمین کی رضاکارانہ شمولیت سے چلتا ہے اور یہ درجہ ۱ تا ۱۵ کے ملازمین کو ہنگامی امداد، شادی اور سوگ کے مواقع پر مالی معاونت فراہم کرتا ہے۔ چیئرمین نے ہدایت کی کہ اس ملازمین فلاح کے دائرہ کار کو مزید مضبوط اور وسیع کیا جائے تاکہ ملازمین کو بہتر سہولیات مل سکیں اور رضاکارانہ تعاون کو فروغ دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ سینیٹرز اور ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کے باعث فنڈ کے مالیاتی فریم ورک اور عملی ڈھانچے کا ازسرِ نو جائزہ ضروری ہے تاکہ فوائد کو زیادہ سے زیادہ کیا جا سکے۔ اسی سلسلے میں انشورنس کمپنیوں سے مشاورتی مذاکرات کرنے اور پائیدار ماڈلز کے ذریعے حمایت کے طریقہ کار تیار کرنے کی ہدایت دی گئی۔اجلاس میں ایک ذیلی کمیٹی قائم کی گئی جس کے اراکین میں سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری، سینیٹر ناصر محمود بٹ اور سینیٹر عامر ولی الدین چشتی شامل ہیں جنہیں مرکزی کمیٹی کو سفارشات پیش کرنے کا کام سونپا گیا ہے۔ اجلاس کے دوران سینیٹر عامر ولی الدین چشتی نے تجاویز میں کہا کہ دیگر سرکاری اداروں کی طرز پر سینیٹ ملازمین کے لیے حج کے مواقع بڑھائے جائیں اور خود انہوں نے دو ملازمین کو حج بھیجنے کے لیے مالی معاونت کا اعلان کیا جبکہ اپنے تنخواہ سے ماہانہ ایک لاکھ روپے بطور عطیہ فنڈ میں شامل کرنے کا عہد کیا۔دوسرے اجلاس میں چیئرمین نے سینیٹ موبائل ایپلیکیشن کی ترقی کا جائزہ لیا جو پارلیمانی نظام کو جدید بنانے کی ایک اہم کوشش ہے۔ سیکرٹری سینیٹ نے بریفنگ میں بتایا کہ یہ ایپلیکیشن مکمل طور پر سینیٹ سیکرٹریٹ کے اندرونی وسائل اور تکنیکی ٹیم کے ذریعے تیار کی گئی ہے اور اس کا مقصد شفافیت، کارکردگی اور ماحولیاتی پائیداری کو فروغ دینا ہے۔بیان کے مطابق ایپلیکیشن سینیٹرز کو اسمارٹ فون اور ٹیبلیٹس کے ذریعے پارلیمانی امور، سیشنز، مستقل کمیٹیوں کی معلومات، سرکاری نوٹیفکیشنز، قانون سازی کے دستاویزات اور شیڈول تک محفوظ رسائی فراہم کرے گی۔ سیکیورٹی، صارف دوست پن اور رسائی کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے تاکہ اطلاعات تک بروقت رسائی ممکن ہو اور کاغذ کے استعمال میں نمایاں کمی آئے۔چیئرمین نے سینیٹ سیکرٹریٹ کے عملے اور تکنیکی ٹیم کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ یہ اقدام ادارے کو شعوری انداز میں ڈیجیٹل بنائے گا، وقت اور وسائل کی بچت کرے گا اور عوامی خدمات کی فراہمی میں بہتری لائے گا۔ ایپ کی باضابطہ رونمائی جلد متوقع ہے اور اس کے بعد سینیٹرز کے لیے تربیتی و آگاہی سیشنز منعقد کیے جائیں گے تاکہ اس کے تمام فیچرز مؤثر طور پر استعمال ہوں۔چیئرمین نے اپنی تقریروں میں بار بار اس بات پر زور دیا کہ جمہوری اقدار، شفافیت اور ملازمین کے تحفظ کے لیے ادارہ جاتی اصلاحات اور ٹیکنالوجی کے استعمال کو جاری رکھا جائے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ملازمین فلاح کو مستقل اور پائیدار شکل دی جائے اور سینیٹ جدید انتظامی اصلاحات کے ذریعے عوامی اعتماد کو مزید مستحکم کرے۔
