اسلام آباد: پاکستان نرسنگ اینڈ مڈوائفری کونسل نے نرسنگ اور مڈوائفری اداروں کی انسپکشن کے لیے نئی درخواستیں 6 ماہ تک وصول نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ فیسوں میں نمایاں اضافہ بھی کر دیا گیا ہے۔ نئے شیڈول کے تحت انسپکشن فیس 2 گنا بڑھا کر 5 لاکھ روپے اور درخواست پراسیسنگ فیس 4 گنا بڑھا کر 2 لاکھ روپے کر دی گئی ہے۔
کونسل کے مطابق نئی انسپکشن درخواستوں پر عارضی پابندی زیر التوا کیسز کا بیک لاگ ختم کرنے کے لیے لگائی گئی ہے۔ 13 اکتوبر کو جاری نوٹیفکیشن کے تحت 6 ماہ کے دوران کوئی نئی انسپکشن درخواست نہ قبول کی جائے گی اور نہ ہی اس پر کارروائی ہو گی۔ نرسنگ اور مڈوائفری اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس مدت میں تازہ درخواستیں جمع نہ کرائیں، کیونکہ ایسی درخواستوں کو زیر غور نہیں لایا جائے گا۔
پاکستان نرسنگ اینڈ مڈوائفری کونسل نے واضح کیا ہے کہ جو درخواستیں پہلے ہی جمع ہو چکی ہیں اور فیصلے کی منتظر ہیں، ان پر متعلقہ قواعد، ضوابط، پالیسیوں اور شرائط کے مطابق کارروائی جاری رہے گی۔ 6 ماہ کی مدت مکمل ہونے کے بعد نئی درخواستیں وصول کی جا سکتی ہیں، تاہم یہ موجودہ بیک لاگ کے خاتمے اور مجاز اتھارٹی کی مزید ہدایات سے مشروط ہو گا۔
دوسری جانب کونسل نے 19 اکتوبر کو ایک الگ نوٹیفکیشن کے ذریعے فیسوں کا نیا شیڈول فوری طور پر نافذ کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ کونسل کے 2026 کے پانچویں اجلاس میں منظور کیا گیا تھا، جو 23 ستمبر کو منعقد ہوا۔
نظرثانی شدہ شیڈول کے مطابق درخواست پراسیسنگ فیس 50 ہزار روپے سے بڑھا کر 2 لاکھ روپے کر دی گئی ہے۔ انسپکشن فیس 2 لاکھ 50 ہزار روپے سے بڑھا کر 5 لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے۔ ہر ڈگری پروگرام کی فیس 2 لاکھ روپے سے بڑھا کر 5 لاکھ روپے کر دی گئی ہے، جبکہ ہر ڈپلومہ پروگرام کی فیس ایک لاکھ روپے سے بڑھا کر ایک لاکھ 50 ہزار روپے کر دی گئی ہے۔
ادارے کی منظوری یا ریکگنیشن فیس بھی ایک لاکھ روپے سے بڑھا کر 3 لاکھ روپے کر دی گئی ہے۔ ریکگنیشن سے مراد کونسل کی جانب سے کسی ادارے کو دی جانے والی باضابطہ منظوری ہے۔
نئے شیڈول کے تحت درخواست پراسیسنگ فیس سابقہ رقم کے مقابلے میں 4 گنا ہو گئی ہے، جبکہ انسپکشن فیس پہلے سے دگنی ہو گئی ہے۔ ڈگری پروگرام کی فیس میں 3 لاکھ روپے اور ادارے کی ریکگنیشن فیس میں 2 لاکھ روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔
پرانے فیس شیڈول میں ماسٹر آف سائنس اِن نرسنگ، بیچلر آف سائنس اِن نرسنگ، پوسٹ رجسٹرڈ نرسنگ اور دیگر ڈگری پروگراموں کے لیے 2 لاکھ روپے فیس درج تھی۔ لیڈی ہیلتھ وزیٹر، کمیونٹی مڈوائف اور سرٹیفائیڈ نرسنگ اسسٹنٹ ڈپلومہ پروگراموں کے لیے فیس ایک لاکھ روپے مقرر تھی۔ سابقہ شیڈول میں انہانسمنٹ فیس 3 لاکھ روپے، انسپکشن فیس 2 لاکھ 50 ہزار روپے اور درخواست فیس 50 ہزار روپے درج تھی۔
کونسل نے تمام متعلقہ دفاتر اور اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ نئے فیس شیڈول پر عمل کریں۔ نوٹیفکیشن کی نقول وفاقی سیکریٹری صحت، جنرل ہیڈکوارٹرز راولپنڈی میں آرمڈ فورسز نرسنگ سروس کے ڈائریکٹر، صوبائی صحت حکام، نرسنگ ڈائریکٹرز، کنٹرولرز، کونسل اراکین اور کونسل کے فنانس و ایڈمنسٹریشن شعبوں کو ارسال کر دی گئی ہیں۔
کونسل نے اپنے مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم شعبے کو بھی ہدایت کی ہے کہ نظرثانی شدہ فیس شیڈول ویب سائٹ پر جاری کیا جائے۔
کونسل کے یہ دونوں فیصلے الگ الگ ہیں۔ انسپکشن درخواستوں پر 6 ماہ کی پابندی زیر التوا کیسز نمٹانے کے لیے لگائی گئی ہے، جبکہ فیسوں کا نیا شیڈول فوری طور پر ان اداروں اور درخواست گزاروں پر لاگو ہو گا جو اس کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔

