اسلام آباد، یکم نومبر 2026: پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم اینڈ ڈی سی) نے رجسٹریشن کے عمل کو تیز، شفاف اور مؤثر بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات کے نتیجے میں موصولہ درخواستوں کی 99 فیصد تک تکمیل یقینی بنا دی ہے۔ کونسل کے مطابق صدر پی ایم اینڈ ڈی سی پروفیسر ڈاکٹر رضوان تاج کی قیادت اور ہدایات میں رجسٹریشن سسٹم کو مضبوط بنانے، کیسز کے فوری نمٹانے اور ڈاکٹروں و ڈینٹل پروفیشنلز کی درخواستوں کو بہتر انداز میں پروسیس کرنے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔
پی ایم اینڈ ڈی سی کے مطابق بہتر ورک فلو مینجمنٹ، فعال مانیٹرنگ اور زیرِ التوا کیسز پر توجہ کے ذریعے اب تک 302,000 سے زائد درخواستوں پر کارروائی کی جا چکی ہے، جبکہ درخواست گزاروں کو بروقت جواب دینے کے نظام کو بھی مؤثر بنایا گیا ہے۔
کونسل کی جانب سے رجسٹریشن سے متعلق امور کو آن لائن پورٹل اور انتظامی رابطہ کاری کے ذریعے بہتر بنانے کے بعد ڈاکٹروں کو غیر ضروری طور پر پی ایم اینڈ ڈی سی دفتر آنے کی ضرورت کم ہوئی ہے۔ اس سہولت کے تحت میڈیکل اور ڈینٹل پروفیشنلز اپنے کیسز دور بیٹھے مکمل کر سکتے ہیں، جس سے وقت کی بچت، سفری اخراجات میں کمی اور غیر ضروری پریشانی سے بچاؤ ممکن ہوا ہے۔ یہ سہولت خاص طور پر اسپتالوں، دور دراز علاقوں اور مصروف پیشہ ورانہ ماحول میں خدمات انجام دینے والے ڈاکٹروں کے لیے اہم قرار دی گئی ہے۔
پی ایم اینڈ ڈی سی کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل رجسٹریشن پورٹل کے تازہ اعداد و شمار رجسٹریشن اور تصدیقی خدمات کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے کونسل کی کوششوں کو ظاہر کرتے ہیں۔ رجسٹریشن نظام کی مسلسل اپ گریڈیشن اور فعال نگرانی کے ذریعے درخواستوں کی تعداد، پراسیسنگ کی صورتحال، اعتراضات اور زیرِ التوا کیسز کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ انتظامی فیصلے زیادہ مؤثر انداز میں کیے جا سکیں اور متعلقہ معاملات پر بروقت فالو اَپ ہو سکے۔
کونسل نے مختلف کیٹیگریز میں درخواستوں کی پراسیسنگ اور اجرا مکمل کیا ہے، جن میں فل لائسنس، پروویژنل لائسنس، لائسنس کی تجدید، گڈ اسٹینڈنگ سرٹیفکیٹس، پوسٹ گریجویٹ قابلیت کی رجسٹریشن، فیکلٹی رجسٹریشن اور تجربے کی تصدیق شامل ہیں۔
اکتوبر 2026 تک پی ایم اینڈ ڈی سی رجسٹریشن پورٹل کے اعداد و شمار کے مطابق کونسل کو مختلف رجسٹریشن کیٹیگریز میں مجموعی طور پر 304,819 درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں سے 302,587 درخواستوں کا کامیاب اجرا کیا جا چکا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق فل لائسنس کی تجدید کے لیے موصول ہونے والی 90,837 درخواستوں میں سے 90,683 نمٹا دی گئیں۔ فل لائسنس کے اجرا کی 54,620 درخواستوں میں سے 54,044 جاری کی گئیں۔ اسی طرح پروویژنل لائسنس کی 51,736 درخواستوں میں سے 51,702 پر اجرا مکمل کیا گیا، جبکہ گڈ اسٹینڈنگ سرٹیفکیٹس کی 40,630 درخواستوں کے مقابلے میں 40,619 سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے۔
مزید براں پوسٹ گریجویٹ قابلیت کی رجسٹریشن کی 17,203 درخواستوں میں سے 17,158 پر کارروائی مکمل کی گئی۔ فیکلٹی رجسٹریشن کی 11,308 درخواستوں میں سے 11,065 درخواستیں نمٹائی گئیں، جبکہ بیرون ملک بنیادی پروویژنل لائسنس کے خواہشمند پاکستانی شہریوں کی 7,347 درخواستوں میں سے 7,343 کا اجرا کیا گیا۔
صدر پی ایم اینڈ ڈی سی پروفیسر ڈاکٹر رضوان تاج نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ اعداد و شمار کونسل کے کام کے وسیع حجم اور رجسٹریشن کی بڑی کیٹیگریز میں حاصل ہونے والی پیش رفت کو ظاہر کرتے ہیں۔ انہوں نے ادارہ جاتی کارکردگی، شفافیت، جواب دہی اور میڈیکل و ڈینٹل پروفیشنلز کو بروقت سہولت فراہم کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔
ان کے مطابق کونسل قابلِ اطلاق قواعد اور ریگولیٹری تقاضوں کے مطابق رجسٹریشن کے عمل کو بہتر بنانے، انتظامی نگرانی کو مضبوط کرنے اور زیرِ التوا کیسز کو نمٹانے پر توجہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ عملی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور رجسٹریشن سروسز کو صحت کے شعبے سے وابستہ پروفیشنلز کی ضروریات کے مطابق بنانا کونسل کی ترجیحات میں شامل ہے، جبکہ پاکستان کے قومی میڈیکل و ڈینٹل ریگولیٹری ادارے کے طور پر مطلوبہ معیار کو برقرار رکھنا بھی اہم ہے۔
پی ایم اینڈ ڈی سی کے مطابق کونسل ریگولیٹری معیار، مؤثر رجسٹریشن اور میڈیکل و ڈینٹل پروفیشنلز کے لیے بہتر سہولت کاری کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔ درخواستوں میں خامیوں اور اعتراضات کی بروقت نشاندہی پر بھی زور دیا جا رہا ہے تاکہ درخواست گزاروں کو باقی ماندہ تقاضوں سے بروقت آگاہ کیا جا سکے اور کیسز غیر ضروری تاخیر کے بغیر آگے بڑھ سکیں۔
کونسل کا کہنا ہے کہ درخواستوں کی بروقت جانچ پڑتال اور مسلسل فالو اَپ سے مجموعی پراسیسنگ سائیکل بہتر ہو رہا ہے اور رجسٹریشن نظام کو مزید شفاف، مؤثر اور درخواست گزار دوست بنانے میں مدد مل رہی ہے۔
