پمز برن سینٹر کی نمایاں پیش رفت، ایک ارب روپے کی اپ گریڈیشن منصوبہ بندی تیار

newsdesk
3 Min Read
پمز برن سینٹر نے جدید برن، پلاسٹک اور ری کنسٹرکٹو سرجری میں اہم پیش رفت کی ہے۔

اسلام آباد: پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے برن سینٹر نے پلاسٹک، ری کنسٹرکٹو اور برن سرجری کے شعبوں میں اہم سنگ میل عبور کیے ہیں اور خصوصی علاج معالجے کے ایک نمایاں مرکز کے طور پر اپنی حیثیت مضبوط کی ہے۔ برن سینٹر کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر عبد الخالق ملک کی قیادت میں سینٹر کی کارکردگی کو جدید طبی نگہداشت کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

مرکز میں 25 سے زائد ڈاکٹروں پر مشتمل ٹیم گزشتہ دو برس کے دوران ہزاروں پیچیدہ آپریشنز اور طبی طریقہ ہائے کار کامیابی سے انجام دے چکی ہے۔ سینٹر کی مہارت میں شدید جھلسنے کے مریضوں کا فوری علاج، ابتدائی سرجیکل ایکسیژن، حساس اسکن گرافٹنگ، چہرے، ہاتھوں اور جسم کے دیگر شدید متاثرہ حصوں کی پیچیدہ ری کنسٹرکشن شامل ہے۔

ان کامیابیوں کو مزید مستحکم بنانے کے لیے پلاسٹک اور ری کنسٹرکٹو سرجری خدمات کی جامع بہتری کا تقریباً ایک ارب روپے مالیت کا پی سی ون تیار کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت جدید طبی آلات، جدید انفراسٹرکچر کی توسیع اور اضافی اہل میڈیکل و نرسنگ عملے کی بھرتی کا تصور پیش کیا گیا ہے۔

اسی سلسلے میں بین الاقوامی تعاون بھی حاصل ہوا ہے۔ امریکا اور برطانیہ میں مقیم ڈاکٹروں کی جانب سے 2 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے عطیات دیے گئے، جن میں پانچ وینٹی لیٹرز، ایک اینستھیزیا مشین اور جلد حاصل کرنے کے خصوصی آلات شامل ہیں۔ وزیراعظم کے مشیر جنرل (ر) اظہر کیانی اور پمز اسپتال کے سربراہ پروفیسر تنویر خالق کی کوششوں نے اس عالمی معاونت کو ممکن بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

طبی ماہرین اور متعلقہ حلقوں کا کہنا ہے کہ برن سینٹر کی کلینیکل کارکردگی کو عالمی معیار سے ہم آہنگ رکھنے کے لیے وزارت قومی صحت کو فیکلٹی سروس رولز کی فوری جدید کاری کرنی چاہیے۔ موجودہ پرانے قواعد کے تحت ایسے نان اسپیشلائزڈ جنرل سرجن بھی اسسٹنٹ یا ایسوسی ایٹ پروفیسر جیسے اہم تدریسی عہدوں پر فائز ہو سکتے ہیں جن کے پاس پہلے سے تدریسی تجربہ نہ ہو۔

ماہرین کے مطابق سروس معیار کو اس طرح اپ ڈیٹ کیا جانا ضروری ہے کہ پلاسٹک اور ری کنسٹرکٹو سرجری میں پوسٹ گریجویٹ قابلیت کے ساتھ متعلقہ کلینیکل اور تدریسی تجربہ بھی لازمی ہو۔ اس اقدام سے پمز کو عالمی بہترین طریقہ کار کے مطابق لانے میں مدد ملے گی۔

پمز بورڈ آف گورنرز موجودہ ٹیم کی اہم کامیابیوں کو مکمل طور پر تسلیم کر چکا ہے۔ حکومتی سطح پر ایک ارب روپے کے پی سی ون کی جلد منظوری اور وزارت کی جانب سے سروس رولز کی بروقت نظرثانی سے کلینیکل معیار کا تحفظ، تعلیمی مضبوطی اور خطے کے مریضوں کے لیے اعلیٰ معیار کی خصوصی نگہداشت یقینی بنائی جا سکے گی۔

Share This Article