راولپنڈی: سماجی رہنما اور ترقی پسند فلاحی تنظیم کے صدر محمد عامر صدیقی نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے اور روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کے تعین کو ظلم اور ناانصافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پیٹرول کی قیمتوں کا تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچنا عوام کو مہنگائی کے سونامی میں دھکیلنے کے مترادف ہے۔
محمد عامر صدیقی نے اپنے بیان میں کہا کہ حکمرانوں کے مشکل فیصلوں نے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ قوم پہلے ہی غربت اور مہنگائی کے عذاب سے دوچار ہے، جبکہ بجلی، گیس اور ایل پی جی کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ عوام کے لیے مزید پریشانیوں کا باعث بنے گا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سعودی عرب اور دیگر ممالک سے خریدی گئی پیٹرولیم مصنوعات جب سات سے دس دن میں پاکستان پہنچتی ہیں تو ان کی قیمتوں کا تعین روزانہ کی بنیاد پر کیسے کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ پہلے سے خریدی گئی چیز کی قیمت میں اضافہ ظلم و ناانصافی نہیں تو اور کیا ہے۔ حکومت کو ایسے فیصلے واپس لینے چاہئیں جو عوام پر اضافی بوجھ ڈال رہے ہیں۔
عامر صدیقی نے کہا کہ قیام پاکستان سے لے کر آج تک ملک مسلسل مشکلات کا شکار رہا ہے اور ہمیشہ مشکل دور سے گزرنے کی بات کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عجیب صورتحال ہے کہ اشرافیہ امیر سے امیر تر جبکہ غریب، غریب سے غریب تر ہوتا جا رہا ہے۔
ان کے مطابق تیس سے چالیس ہزار روپے ماہانہ کمانے والے اور محدود آمدنی رکھنے والے شہری بجلی، گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ادا کرنے پر مجبور ہیں، جبکہ ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر فیصلے کرنے والوں نے غریب صارف کو 200 یونٹ کے چکر میں ایک پنکھے کی ہوا سے بھی محروم کر رکھا ہے، کیونکہ 200 یونٹ سے زائد استعمال ہونے پر ہزاروں روپے کے بل کا بوجھ اٹھانا ان کے لیے ممکن نہیں رہتا۔
محمد عامر صدیقی نے کہا کہ لاکھوں روپے تنخواہیں لینے والے اور مراعات و سہولیات سے مستفید ہونے والے مفت سہولتیں کیوں حاصل کریں؟ کیا اس ملک کے لیے قربانی ہمیشہ غریب ہی کے حصے میں رہے گی؟ انہوں نے سوال کیا کہ اشرافیہ اور بیوروکریسی کب تک مراعات سے فائدہ اٹھاتی رہے گی، اور آج کے مشکل حالات میں بھی اپنا حصہ نہ ڈالنا ظلم و ناانصافی نہیں تو کیا ہے۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مراعات یافتہ طبقے سے تمام مراعات واپس لی جائیں تاکہ مساویانہ نظام رائج ہو اور مفت سہولیات کا خاتمہ کیا جا سکے۔
عامر صدیقی نے مزید کہا کہ بجلی، گیس، ایل پی جی، اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ، پیٹرولیم مصنوعات کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتیں اور پیٹرولیم لیوی کا بھاری بوجھ بھی عوام پر ظلم و ناانصافی کے مترادف ہے۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پیٹرولیم مصنوعات پر غریب اور کمزور صارفین، موٹر سائیکل سواروں اور دیہاڑی دار مزدور طبقے کے لیے خصوصی اور براہ راست ریلیف کا اعلان کیا جائے تاکہ وہ اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ بآسانی پال سکیں اور ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔
محمد عامر صدیقی نے کہا کہ ملکی ترقی کے لیے قرضوں پر انحصار کے بجائے سادگی اور کفایت شعاری اپنانا ہوگی۔ ان کے مطابق درآمدات کے بجائے برآمدات کے فروغ سے ہی ترقی کا عمل آگے بڑھ سکتا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان کا اختتام اس عزم کے ساتھ کیا کہ سب سے پہلے پاکستان، اور پاکستان ہمیشہ زندہ باد۔
