پشاور میں شہید بینظیر بھٹو ویمن یونیورسٹی پشاور (SBBWUP) میں دخترانِ پاکستان کی سماجی و معاشی خودمختاری کے موضوع پر ایک روزہ سیمینار منعقد کیا گیا۔ یہ سیمینار پاکستان پاورٹی ایلیوی ایشن فنڈ (PPAF) کے اشتراک سے، وزارتِ دفاع، پیغامِ پاکستان، وزارتِ قومی ورثہ و ثقافت اور خیبر پختونخوا سینٹر آف ایکسیلنس کے تعاون سے منعقد ہوا۔
تقریب میں وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی، جبکہ چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان مہمانِ اعزاز تھے۔ دیگر معزز شخصیات میں خیبر پختونخوا اسمبلی کی رکن آمنہ سردار، ڈائریکٹر جنرل KPCVE ڈاکٹر محمد قاسم خان اور چیف ایگزیکٹو آفیسر PPAF نادر گل بریچ بھی شامل تھے۔
سیمینار میں نوجوان خواتین کے لیے معاشی خودمختاری، ہنرمندی کے فروغ، کاروباری صلاحیتوں اور مواقع تک رسائی کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ خواتین کو بااختیار بنانا امن، برداشت، سماجی ہم آہنگی اور پاکستان کے بھرپور ثقافتی ورثے کے فروغ میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ اس موقع پر نوجوان لڑکیوں کی کامیابیوں اور صلاحیتوں کے اعتراف میں یوتھ ایکسیلنس ایوارڈز بھی تقسیم کیے گئے۔
وائس چانسلر شہید بینظیر بھٹو ویمن یونیورسٹی پشاور پروفیسر ڈاکٹر انیلہ انور نے اپنے خطاب میں خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے ایک جامع وژن پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی اعلیٰ تعلیم کو پائیدار سرمایہ کاری، ادارہ جاتی ترقی، تحقیق، جدت اور قومی و بین الاقوامی اداروں کے ساتھ تعاون کے ذریعے مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یونیورسٹی کا کردار صرف تعلیمی معیار تک محدود نہیں، بلکہ طالبات کو بااختیار بنانا، قیادت کی صلاحیتیں پروان چڑھانا اور سماجی مسائل کے حل میں حصہ ڈالنا بھی اس کی ذمہ داری ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر انیلہ انور نے صنعت اور اکیڈمیا کے روابط کو مضبوط بنانے اور طالبات کو صنعتی ماحول سے آگاہی فراہم کرنے پر زور دیا تاکہ کلاس روم کی تعلیم اور عملی کام کی جگہوں کے درمیان فاصلے کو کم کیا جا سکے۔ انہوں نے اسٹارٹ اپ کاروبار کے فروغ، کاروباری مہارتوں کی ترقی، اختراعی خیالات کو عملی منصوبوں میں بدلنے اور مالی خودمختاری کے لیے بزنس انکیوبیشن سینٹر کے قیام کی سفارش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے خواتین کا سماجی و معاشی ترقی میں کردار بڑھے گا اور وہ قومی معیشت میں فعال کردار ادا کر سکیں گی۔
انہوں نے شہید بینظیر بھٹو ویمن یونیورسٹی پشاور کو AI-enabled یونیورسٹی میں تبدیل کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا، جس کے تحت تدریس، تحقیق، انتظامی امور اور ہنرمندی کے فروغ میں مصنوعی ذہانت کو شامل کیا جائے۔ وائس چانسلر نے کہا کہ یونیورسٹی میں تمام ضروری ترقیاتی منصوبوں کو ترجیح دی جانی چاہیے تاکہ معیاری تعلیم تک رسائی بہتر ہو اور خواتین کے لیے زیادہ معاون، جامع اور ترقی پسند تعلیمی ماحول پیدا کیا جا سکے۔ انہوں نے یونیورسٹی کی طویل المدتی ترقی کے لیے حکومت، اکیڈمیا، صنعت اور نجی شعبے کے درمیان مضبوط تعاون کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
تقریب میں SBBWUP اور PPAF کے اسٹارٹ اپس کی نمائش بھی لگائی گئی، جہاں خواتین کاروباری شخصیات نے اپنا کام، مصنوعات اور اختراعی کاروباری خیالات پیش کیے۔ مختلف اسٹالز نے نوجوان خواتین کو اپنے کاروباری منصوبے متعارف کرانے، معزز مہمانوں اور شرکا سے رابطہ کرنے، رہنمائی حاصل کرنے اور اپنے کاروبار کو وسعت دینے کے لیے حوصلہ افزائی کا موقع فراہم کیا۔
