پاکستان کے سفیر زاہد حفیظ چودھری نے آج پاکستان کے سفارت خانے میں میڈیا سے بریفنگ اور ملاقات کی، جس میں انہوں نے مشرق وسطیٰ کے تنازع کے تناظر میں پاکستان کی سفارتی کوششیں اور بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے کی پالیسی پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کا مؤقف تصادم کے بجائے سفارت کاری اور مکالمے کو ترجیح دینے پر مبنی ہے۔میڈیا سے گفتگو کے دوران سفیر نے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے اور فریقین کو مذاکرات کی طرف لانے کے لیے فعال کردار ادا کرتا رہا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی سفارتی کوششیں اصولی اور متوازن خارجہ پالیسی کی عکاس ہیں، جن کا مقصد امن، استحکام اور باہمی سمجھ بوجھ کو فروغ دینا ہے۔زاہد حفیظ چودھری نے پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ دونوں ممالک دفاع، صحت، تعلیم اور تجارت کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دوطرفہ روابط میں یہ پیش رفت دونوں برادر ممالک کے درمیان اعتماد اور اشتراکِ عمل کی نشاندہی کرتی ہے۔سفیر نے اس موقع پر صحافیوں کے سوالات کے جواب بھی دیے اور پاکستان کے علاقائی اور عالمی موقف سے متعلق مختلف نکات پر گفتگو کی۔ ان کی بریفنگ میں اس بات کو نمایاں رکھا گیا کہ پاکستان کی سفارتی کوششیں نہ صرف موجودہ کشیدگی کے حل میں اہم ہیں بلکہ یہ خطے میں دیرپا امن کے لیے بھی ایک مؤثر راستہ فراہم کرتی ہیں۔
