اسلام آباد: عالمی یومِ ہنرمندیٔ نوجوانان کے موقع پر منعقدہ اعلیٰ سطحی گول میز اجلاس میں شرکا نے زور دیا ہے کہ پاکستان کو اپنے نوجوانوں کی صلاحیت کو باوقار روزگار میں بدلنے کے لیے ہنرمندی کے نظام کو لیبر مارکیٹ کی ضروریات سے زیادہ مضبوطی کے ساتھ جوڑنا ہوگا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ ملک میں 28.4 فیصد نوجوان روزگار، تعلیم یا تربیت سے باہر ہیں۔
شرکا کے مطابق ڈیجیٹلائزیشن، مصنوعی ذہانت، موسمیاتی تبدیلی اور آبادیاتی تبدیلیاں کام کی دنیا کو تیزی سے بدل رہی ہیں، اس لیے پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ نوجوانوں کو ایسے ہنر دیے جائیں جو ابھرتے ہوئے روزگار کے مواقع سے ہم آہنگ ہوں۔
اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 15 سے 24 سال عمر کے نوجوانوں کی تعداد تقریباً 4 کروڑ 63 لاکھ ہے۔ پاکستان لیبر فورس سروے 2024-25 کے مطابق 2 کروڑ 6 لاکھ نوجوان لیبر فورس کا حصہ ہیں جبکہ 26 لاکھ نوجوان بے روزگار ہیں۔ نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح 12.8 فیصد ہے، جو مجموعی بے روزگاری کی شرح 7.1 فیصد کے مقابلے میں تقریباً دگنی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اگرچہ روزگار، تعلیم یا تربیت سے باہر نوجوانوں کا تناسب 2020-21 میں 32.5 فیصد سے کم ہو کر 28.4 فیصد رہ گیا ہے، تاہم اب بھی ہر چار میں سے ایک سے زائد نوجوان ایسے راستوں سے کٹے ہوئے ہیں جو انہیں ہنر سیکھنے، ملازمت حاصل کرنے اور معیشت میں کردار ادا کرنے کے قابل بنا سکتے ہیں۔
اسی پس منظر میں انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او)، پنجاب اسکلز ڈویلپمنٹ فنڈ (پی ایس ڈی ایف) اور برٹش کونسل نے "Skills for a Shared Future" کے عنوان سے گول میز اجلاس منعقد کیا، جس میں اس بات پر غور کیا گیا کہ پاکستان کا ہنرمندی کا نظام نوجوانوں کو مستقبل کے روزگار کے مواقع کے لیے بہتر طور پر کیسے تیار کر سکتا ہے۔
لیبر فورس سروے کے مطابق 15 سے 24 سال عمر کے 49 لاکھ نوجوانوں نے تکنیکی یا پیشہ ورانہ تربیت حاصل کی ہے۔ ان میں 30 لاکھ نوجوان مرد اور 19 لاکھ نوجوان خواتین شامل ہیں۔ یہ اعداد و شمار موجودہ تربیتی کوششوں کی رسائی کو بھی ظاہر کرتے ہیں اور اس ضرورت کو بھی اجاگر کرتے ہیں کہ تربیت تک رسائی، خاص طور پر نوجوان خواتین کے لیے، مزید بڑھائی جائے اور اسے پائیدار روزگار سے منسلک کیا جائے۔
آئی ایل او کنٹری آفس برائے پاکستان کے ڈائریکٹر گیر ٹونسٹول نے کہا کہ پاکستان کو ایسے تربیتی نظام کی ضرورت ہے جو صنعت کی رفتار کے ساتھ چل سکے، اختراع کی حوصلہ افزائی کرے اور نوجوانوں کو ان ملازمتوں کے لیے تیار کرے جو آج وجود میں آ رہی ہیں، نہ کہ ماضی کی ملازمتوں کے لیے۔ ان کے مطابق حکومت، صنعت اور ترقیاتی شراکت داروں کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانا ضروری ہے تاکہ ہنرمندی میں سرمایہ کاری زیادہ روزگار پذیری، بہتر پیداواری صلاحیت اور مضبوط معاشی نمو میں تبدیل ہو سکے۔
اجلاس میں تکنیکی و پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت کے نظام کو زیادہ جامع، طلب کے مطابق اور مستقبل کے لیے تیار بنانے سے متعلق عملی اصلاحات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ شرکا نے تربیتی اداروں اور صنعت کے درمیان قریبی تعاون، لیبر مارکیٹ کی معلومات کے بہتر استعمال اور ہنرمندی میں سرمایہ کاری کو ایسے شعبوں سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت پر زور دیا جو پیداواری روزگار پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
پنجاب اسکلز ڈویلپمنٹ فنڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر احمد خان نے کہا کہ ہنرمندی کی ترقی کو صرف مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹلائزیشن اور گرین ٹرانزیشن کا جواب نہیں دینا چاہیے بلکہ ان ساختی رکاوٹوں کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے جو کاروباری اداروں اور کارکنوں دونوں کو متاثر کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیداواری صلاحیت، اختراع اور باوقار روزگار قومی ہنرمندی ایجنڈے کا مرکز ہونے چاہئیں۔ ان کے مطابق جب پیداواری صلاحیت بڑھتی ہے تو ادارے زیادہ مسابقتی بنتے ہیں، کارکن بہتر اجرت حاصل کر سکتے ہیں اور معیشتیں زیادہ پائیدار انداز میں ترقی کرتی ہیں۔
برٹش کونسل پاکستان کے ڈپٹی ڈائریکٹر بین لاٹن نے کہا کہ برٹش کونسل نوجوانوں کو وہ ہنر اور اعتماد فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے جن کی انہیں بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں کامیابی کے لیے ضرورت ہے۔ ان کے مطابق ابلاغ، تخلیقی صلاحیت اور تنقیدی سوچ جیسے بنیادی انسانی ہنر کو ڈیجیٹل اور گرین صلاحیتوں کے ساتھ ملا کر پاکستان کے نوجوانوں کے لیے روزگار، اختراع اور زندگی بھر سیکھنے کے راستے پیدا کیے جا سکتے ہیں۔
گول میز اجلاس میں زندگی بھر سیکھنے کے عمل میں زیادہ سرمایہ کاری کا بھی مطالبہ کیا گیا تاکہ کارکن ٹیکنالوجی اور لیبر مارکیٹ کی بدلتی ہوئی ضروریات کے مطابق اپنے ہنر کو مسلسل اپ ڈیٹ کر سکیں۔ شرکا نے قومی اسکلز پاسپورٹ کو ایک ممکنہ طریقہ کار کے طور پر زیر بحث لایا، جس کے ذریعے کارکنوں کی موجودہ صلاحیتوں کو تسلیم کیا جا سکے اور آجروں، شعبوں اور ممالک کے درمیان نقل و حرکت کو بہتر بنایا جا سکے۔
تقریب کے موقع پر پی ایس ڈی ایف اور آئی ایل او نے ہنرمندی کی ترقی، لیبر مارکیٹ تحقیق، ادارہ جاتی استعداد کار میں اضافے اور پالیسی مکالمے کے لیے تعاون مضبوط بنانے کی غرض سے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے۔
اس شراکت داری کے تحت مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہنر کو فروغ دینے، تعلیم سے روزگار تک منتقلی کو مضبوط بنانے اور پنجاب میں خواتین اور مردوں کے لیے باوقار روزگار کے مواقع آگے بڑھانے کی مشترکہ کوششوں کی حمایت کی جائے گی۔
