پاکستان میں بچوں پر تشدد کے خاتمے کے لیے پہلی قومی حکمت عملی متعارف

newsdesk
9 Min Read
پاکستان کی وزارتِ انسانی حقوق نے ڈبلیو ایچ او، شراکت داروں، سول سوسائٹی، نوجوان تنظیموں اور بچوں کے ساتھ پہلی قومی حکمت عملی 2026 تا 2031 کا آغاز کیا۔ تصویر: WHO/Hamid Inam

اسلام آباد، 14 اکتوبر 2026: پاکستان کی وزارتِ انسانی حقوق اور عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے ملک میں بچوں کے تحفظ اور تشدد کی روک تھام کو مضبوط بنانے کے لیے پہلی قومی حکمت عملی برائے خاتمۂ تشدد علیه اطفال 2026 تا 2031 کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ حکمت عملی پاکستان میں رہنے والے 12 کروڑ بچوں کے لیے تحفظ، بچاؤ اور معاونت کے نظام کو بہتر بنانے کے مقصد سے تیار کی گئی ہے۔

یہ قومی حکمت عملی دوسری عالمی وزارتی کانفرنس برائے خاتمۂ تشدد علیه اطفال کی قومی تیاری مشاورت کے دوران باضابطہ طور پر پیش کی گئی۔ یہ عالمی کانفرنس نومبر میں منیلا، فلپائن میں منعقد ہوگی۔ اسلام آباد میں 14 اور 15 اکتوبر کو ہونے والی دو روزہ مشاورت وزارتِ انسانی حقوق کی قیادت میں یونیسف اور ڈبلیو ایچ او کے اشتراک سے منعقد کی جا رہی ہے، جس میں 100 سے زائد شرکا شریک ہیں۔ ان میں ماہرین، وفاقی اور صوبائی حکام، شراکت دار ادارے، سول سوسائٹی، نوجوانوں کی تنظیموں کے نمائندے اور بچے شامل ہیں۔

مشاورت میں پاکستان کی جانب سے 2024 میں بوگوٹا، کولمبیا میں ہونے والی سابقہ عالمی وزارتی کانفرنس کے دوران کیے گئے وعدوں پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ مشترکہ طور پر قابلِ پیمائش اقدامات اور حل کی نشاندہی پر بات چیت جاری ہے۔

حکمت عملی کے مطابق پاکستان میں 10 میں سے 8 بچوں، یعنی 80 فیصد تک، کو پرتشدد نظم و ضبط کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے 12 سے 17 سال کے ہر 16 میں سے ایک بچے کو ٹیکنالوجی کے ذریعے استحصال یا بدسلوکی برداشت کرنا پڑتی ہے۔ 10 سے 17 سال عمر کے 8 لاکھ 40 ہزار بچے کبھی نہ کبھی شادی شدہ رہ چکے ہیں، جبکہ 86 لاکھ بچے چائلڈ لیبر میں مصروف ہیں۔ اسی طرح پانچ سال سے کم عمر 57 فیصد سے زائد بچوں کی سول اتھارٹی کے پاس رجسٹریشن نہیں، جس کے باعث وہ تشدد کے زیادہ خطرے سے دوچار ہوتے ہیں اور تحفظ و بنیادی خدمات تک ان کی رسائی محدود ہو جاتی ہے۔

قومی حکمت عملی کا مقصد ہر بچے کے لیے، اس کی سماجی یا معاشی حیثیت سے قطع نظر، روک تھام، تحفظ، ردِعمل، بحالی، دوبارہ انضمام اور انصاف کے نظام کو مضبوط بنانا ہے۔ اس کے تحت تشدد کی مختلف صورتوں کا مقابلہ کیا جائے گا جن میں پرتشدد قتل، جسمانی تشدد، جنسی تشدد، نفسیاتی تشدد، بچوں سے غفلت، اور ٹیکنالوجی کے ذریعے تشدد، استحصال اور بدسلوکی شامل ہیں۔

حکمت عملی میں نشاندہی کی گئی ہے کہ بے گھر، نقل مکانی کرنے والے، غیر رسمی یا غریب شہری آبادیوں میں رہنے والے بچوں جیسے کمزور طبقات کو استحصال، کم عمری کی شادی، انسانی اسمگلنگ اور چائلڈ لیبر سمیت تشدد کے خطرات غیر متناسب طور پر زیادہ درپیش ہیں۔

یہ اقدام کنونشن آن دی رائٹس آف دی چائلڈ کے اصولوں اور INSPIRE فریم ورک پر مبنی ہے۔ INSPIRE شواہد پر مبنی ایک پیکج ہے جسے ڈبلیو ایچ او کی قیادت میں 10 عالمی اداروں کے گروپ نے تیار کیا۔ اس میں سات حکمت عملیاں شامل ہیں جنہوں نے کئی ممالک میں بچوں پر تشدد کم کرنے میں مدد دی ہے۔ یہ حکمت عملیاں قوانین، سماجی رویوں، محفوظ ماحول، والدین اور دیکھ بھال کرنے والوں کی معاونت، مالی استحکام، ردِعمل کی خدمات اور زندگی کی مہارتوں سے متعلق ہیں۔

گرل گائیڈ قرۃ العین صفدر خان نے اس موقع پر کہا کہ وہ ایک سادہ امید کے ساتھ کھڑی ہیں کہ پاکستان کا ہر بچہ خوف کے بغیر پروان چڑھ سکے۔ ان کے مطابق بہت سے بچوں کی روزمرہ زندگی کا حصہ خوف ہے، جو اسکول میں دھونس، تکلیف اور تذلیل کا باعث بننے والی سزا، ہراسانی یا موبائل اسکرین پر دھمکیوں کی صورت میں ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ تر بچے کسی ایسے فرد کی طرف سے زیادتی کا سامنا کرتے ہیں جسے وہ جانتے اور اس پر اعتماد کرتے ہیں۔ کچھ بچوں کو کام پر مجبور کیا جاتا ہے اور کچھ کو بچپن ہی میں شادی پر مجبور کر دیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بچے کو خاموشی سے دکھ سہنے اور بولنے سے ڈرنے کے درمیان انتخاب پر مجبور نہیں ہونا چاہیے۔ ہم اکثر سنتے ہیں کہ بچے مستقبل ہیں، لیکن ہمارا بچپن ابھی گزر رہا ہے، اس لیے حفاظت، تحفظ اور مدد کے لیے بڑے ہونے کا انتظار نہیں کیا جا سکتا۔

وزارتِ انسانی حقوق کے سیکرٹری عبدالخالق شیخ نے کہا کہ پاکستان کی پہلی قومی حکمت عملی کا آغاز متعلقہ شعبوں اور اداروں میں روک تھام، تحفظ اور ردِعمل کو مضبوط بنانے کے لیے ایک جامع اور مربوط قومی فریم ورک قائم کرنے کی کوششوں میں اہم سنگِ میل ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حکمت عملی صرف آغاز ہے، کامیابی کا پیمانہ ہمارے اقدامات اور بچوں کو تشدد سے بچانے کی صلاحیت ہوگی۔

پارلیمانی سیکرٹری برائے انسانی حقوق صبا صادق نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں حکومتِ پاکستان بچوں کے تحفظ کو مضبوط بنانے اور ہر بچے کو محفوظ اور تشدد سے پاک ماحول میں پروان چڑھنے کا حق یقینی بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں پر تشدد کے خاتمے کے لیے مؤثر پالیسیاں، مضبوط ادارے اور اجتماعی کوششیں ضروری ہیں تاکہ بچوں کے حقوق، وقار اور مستقبل کا تحفظ کیا جا سکے۔

پاکستان میں یونیسف کی ڈپٹی نمائندہ قائم مقام جینیفر میلٹن نے کہا کہ بچوں کی جانب سے دیا گیا یہ پیغام خاص طور پر اہم ہے کہ تشدد کو اب بھی نظم و ضبط سمجھا جاتا ہے۔ ان کے مطابق اس سے واضح ہوتا ہے کہ تشدد کا خاتمہ صرف نقصان ہونے کے بعد ردِعمل دینے کا نام نہیں بلکہ اس کا تعلق روک تھام، والدین اور دیکھ بھال کرنے والوں کی معاونت، محفوظ اور مثبت تعلیمی ماحول، نقصان دہ سماجی رویوں سے نمٹنے، اور بچوں کو ان کے حقوق اور مدد حاصل کرنے کے راستوں سے آگاہ کرنے سے ہے۔

پاکستان میں ڈبلیو ایچ او کے نمائندے ڈاکٹر لوو ڈاپینگ نے کہا کہ بچوں پر تشدد کا خاتمہ صحتِ عامہ کے لیے مرکزی اہمیت رکھتا ہے اور بچے کے خلاف تشدد کی کوئی بھی شکل ہمارے مستقبل پر براہِ راست حملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ تشدد کے اثرات فوری جسمانی چوٹ سے کہیں آگے جا سکتے ہیں اور بچے کی ذہنی صحت، نشوونما، تعلیم اور تعلقات کو متاثر کرتے ہوئے بلوغت تک صحت اور فلاح پر اثر انداز رہ سکتے ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ پاکستان بچوں پر ہر قسم کے تشدد کے خاتمے کے عزم کو آگے بڑھانے کے لیے ڈبلیو ایچ او کی حمایت پر اعتماد کر سکتا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال ایک ارب بچے جسمانی، جنسی یا جذباتی تشدد کا سامنا کرتے ہیں، جس کے اثرات عمر بھر جسمانی اور ذہنی صحت پر رہ سکتے ہیں۔ عالمی ادارے کے مطابق ہر پانچ منٹ میں ایک بچہ تشدد کے نتیجے میں جان سے جاتا ہے، جبکہ بچوں پر تشدد سے ہونے والی اموات اور طویل مدتی نقصان قابلِ روک تھام ہیں۔

Share This Article