جنسی نوعیت کے بغیر دفتری بدسلوکی ہراسانی ایکٹ کے تحت قابل کارروائی نہیں، وفاقی آئینی عدالت

newsdesk
6 Min Read
وفاقی آئینی عدالت نے 2010 کے دفتری ہراسانی قانون کی دفعہ 2(ایچ) کی تشریح کرتے ہوئے جنسی عنصر کو لازمی قرار دیا۔

اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ بدانتظامی، توہین آمیز رویہ، مخاصمانہ دفتری ماحول یا کوئی اور نامناسب طرزعمل محض اپنی نوعیت کی بنا پر تحفظ خواتین برائے ہراسانی مقام کار ایکٹ 2010 کے تحت قابل کارروائی ہراسانی نہیں سمجھا جائے گا، جب تک اس میں جنسی نوعیت کا عنصر موجود نہ ہو۔

چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ، جس میں جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس سید ارشد حسین شاہ شامل تھے، نے یہ فیصلہ عثمان شاہد اور عقیل عباس کی جانب سے نادیہ سرور اور دیگر کے خلاف دائر درخواستوں پر سنایا۔ مقدمہ نیشنل بینک آف پاکستان کی ایک ملازمہ کی شکایت سے متعلق تھا اور اس میں وفاقی محتسب، صدر پاکستان اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات زیر بحث آئے۔

ریکارڈ کے مطابق نادیہ سرور، جو این بی پی کی ملازمہ ہیں، نے دونوں درخواست گزاروں کے خلاف جنسی ہراسانی، دھمکانے اور دفتر میں مخاصمانہ ماحول پیدا کرنے کے الزامات عائد کیے تھے۔ انہوں نے 2013 میں وفاقی محتسب سے رجوع کرنے سے قبل بینک حکام کے سامنے بھی معاملہ اٹھایا تھا۔ وفاقی محتسب نے دونوں درخواست گزاروں کو جبری ریٹائرمنٹ کی بڑی سزا دی، جس کے خلاف انہوں نے صدر پاکستان سے رجوع کیا۔ صدر نے سزا تبدیل کر کے سرزنش کر دی۔

بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے صدر کے حکم کو کالعدم قرار دے کر وفاقی محتسب کا فیصلہ بحال کر دیا۔ دونوں ملازمین نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کیا۔

اپنے تفصیلی فیصلے میں عدالت نے 2010 کے ایکٹ کی دفعہ 2(ایچ) کا جائزہ لیتے ہوئے قرار دیا کہ قانون میں ہراسانی کی تعریف جامع اور محدود ہے۔ عدالت کے مطابق کسی عمل کو اس ایکٹ کے دائرہ کار میں لانے کے لیے اس کا جنسی نوعیت کا ہونا ضروری ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ جنسی ہراسانی زبانی، غیر زبانی یا جسمانی صورت اختیار کر سکتی ہے، تاہم لازمی جنسی عنصر کا موجود ہونا ضروری ہے۔

عدالت نے عمومی ہراسانی اور اس قانون کے تحت قابل کارروائی ہراسانی کے درمیان فرق بھی واضح کیا۔ فیصلے کے مطابق ایسا رویہ جسے عمومی طور پر ہراسانی کہا جا سکتا ہو، بشمول دفتری سطح پر سنگین یا نامناسب طرزعمل، صرف اس لیے 2010 کے ایکٹ کے تحت قابل کارروائی نہیں بن جاتا کہ وہ نقصان دہ، تکلیف دہ یا ناقابل قبول ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ جنسی عنصر کی عدم موجودگی میں ایسا طرزعمل محکمانہ انضباطی کارروائی کے دائرے میں آ سکتا ہے۔

فیصلے میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ قانون کام کرنے والی خواتین اور مردوں دونوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے، لیکن یہ تحفظ صرف اس دفتری ہراسانی کے خلاف ہے جس میں جنسی جہت پائی جائے۔ عدالت نے کہا کہ اس خصوصی قانون کو ہر قسم کی دفتری بدانتظامی کے لیے عمومی قانون کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

وفاقی آئینی عدالت نے جنسی ہراسانی کی شکایات کے لیے ثبوت کے معیار پر بھی روشنی ڈالی۔ عدالت کے مطابق شکایت کے حق میں غیر جانبدار اور قابل اعتماد مواد ہونا چاہیے جو معقولیت کے معیار پر پورا اتر سکے، اور اسے قائل کرنے والے اور آزاد شواہد کی تائید حاصل ہو۔ فیصلے میں خبردار کیا گیا کہ سنگین الزامات کو غیر متعلقہ انتظامی شکایات کے ساتھ ملانے سے اصل الزامات کی وضاحت اور مؤثریت کمزور ہو سکتی ہے۔

عدالت نے نادیہ ناز، راجہ تنویر صفدر اور محمد دین کے مقدمات میں سپریم کورٹ کی سابقہ تعبیرات سے اس حد تک اختلاف کیا کہ ان میں غیر جنسی دفتری ہراسانی کو بھی 2010 کے ایکٹ کے تحت قابل کارروائی سمجھا گیا تھا۔ وفاقی آئینی عدالت نے کہا کہ اس کی تشریح دفعہ 2(ایچ) کے الفاظ اور آئین کے آرٹیکل 189 کی بنیاد پر ہے۔

فیصلے میں ایکٹ کی دفعہ 9 کے تحت نمائندگی پر صدر کے حکم میں ہائی کورٹ کی مداخلت کی حدود بھی بیان کی گئیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ایسے حکم کو رِٹ اختیار کے ذریعے معمول کے طور پر نہیں چھیڑا جانا چاہیے۔ ہائی کورٹ صرف اس صورت میں مداخلت کر سکتی ہے جب سنگین غلطی موجود ہو، جیسے شواہد نہ پڑھنا یا غلط پڑھنا، قانون کا غلط اطلاق، اختیار سے تجاوز یا اس کا غلط استعمال، یا فطری انصاف کی خلاف ورزی۔ عدالت کے مطابق ہائی کورٹ محض حقائق سے متعلق نتائج کو اپنی رائے سے تبدیل نہیں کر سکتی۔

وفاقی آئینی عدالت نے آخرکار درخواستوں کو اپیلوں میں تبدیل کرتے ہوئے منظور کر لیا اور اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا، جس کے نتیجے میں صدر پاکستان کا حکم برقرار رہا۔

فیصلے میں یہ بھی بتایا گیا کہ 2010 کا قانون اداروں کے اندر انکوائری کمیٹیوں، وفاقی محتسب کے سامنے کارروائی اور محتسب کے فیصلے کو صدر یا گورنر کے سامنے چیلنج کرنے کا حق فراہم کرتا ہے۔ عدالت کی تازہ تشریح کے مطابق اس قانون کے تحت مخصوص ہراسانی کا اختیار دفعہ 2(ایچ) میں بیان کردہ جنسی عنصر کی موجودگی پر منحصر ہے۔

Share This Article