اسلام آباد: پاکستان میں ایچ آئی وی کی صورتحال مزید تشویشناک ہوتی جا رہی ہے جہاں حکومتی ٹاسک فورس کی رپورٹ کے مطابق ملک میں تقریباً 3 لاکھ 69 ہزار افراد ایچ آئی وی کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، تاہم باضابطہ طور پر رجسٹرڈ کیسز کی تعداد صرف 84 ہزار 400 کے قریب ہے۔ ماہرین صحت اور فکرمند شہریوں نے خبردار کیا ہے کہ قابل اعتماد اور مکمل اعدادوشمار نہ ہونے کے باعث اصل صورتحال اس سے کہیں زیادہ سنگین ہوسکتی ہے۔
یہ انتباہ لوک صحت کے زیر اہتمام ایچ آئی وی اور ایڈز پر قومی مکالمے کے دوران سامنے آیا، جس میں ڈاکٹروں، صحت عامہ کے ماہرین، طبی تنظیموں، سول سوسائٹی اور ایچ آئی وی سے متاثرہ کمیونٹیز کے نمائندوں نے شرکت کی۔ شرکا نے کہا کہ بیماری پر قابو پانے کے لیے حقائق کو چھپانے یا اعدادوشمار کو محدود رکھنے کے بجائے شفاف معلومات، محفوظ علاج، مضبوط نگرانی اور مؤثر ریگولیشن ناگزیر ہیں۔
لوک صحت کے کنوینر ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ حکومت کو بیماریوں پر قابو پانے کے لیے ڈیٹا کنٹرول کرنے یا چھپانے کا طریقہ ترک کرنا ہوگا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایچ آئی وی اور خون کے ذریعے منتقل ہونے والی دیگر بیماریوں کے درست اعدادوشمار عوامی سطح پر دستیاب کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایچ آئی وی، ٹی بی اور ملیریا کے پروگراموں کے لیے عالمی عطیہ دہندگان پر زیادہ انحصار کے بجائے حکومت کو اپنی مالی ذمہ داری بڑھانی چاہیے۔
ٹاسک فورس رپورٹ کے مطابق ملک میں ایچ آئی وی کے اندازاً 3 لاکھ 69 ہزار مریض موجود ہیں، لیکن صرف تقریباً 84 ہزار 400 کیسز رجسٹرڈ ہیں اور 60 ہزار 789 کے لگ بھگ افراد اینٹی ریٹرو وائرل علاج حاصل کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کم خطرے والی دیہی آبادیوں میں بچوں میں ایچ آئی وی کا سامنے آنا انفیکشن کنٹرول، خون کی حفاظت، صحت کی سہولیات کی نگرانی اور طبی انتظام میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔
ڈیرہ غازی خان کی تحصیل تونسہ کی صورتحال خاص طور پر تشویش کا باعث بنی ہے۔ ٹاسک فورس رپورٹ کے مطابق دسمبر 2024 سے اپریل 2025 کے پانچ ماہ کے دوران 127 بچوں میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہوئی۔ ان بچوں میں تقریباً 79 فیصد پانچ سال سے کم عمر تھے، جبکہ درمیانی عمر صرف تین سال تھی۔ تحقیقات میں ماں سے بچے کو وائرس کی منتقلی کا امکان بڑی حد تک رد کیا گیا کیونکہ متاثرہ بچوں کی تقریباً تمام ماؤں کے ایچ آئی وی ٹیسٹ منفی آئے۔
رپورٹ نے تونسہ میں سامنے آنے والے آؤٹ بریک کے اہم عوامل میں غیر محفوظ انتقال خون اور آلودہ انجیکشن کے طریقوں کو شامل کیا ہے۔ اس کے ساتھ خون کے عطیہ دہندگان کی اسکریننگ، غیر منظم طبی فراہم کنندگان، ڈسپوزایبل سرنجوں کے دوبارہ استعمال، انجیکشن کے غیر ضروری اور زیادہ استعمال، جراثیم کشی کے ناقص انتظام اور انفیکشن سے بچاؤ کے کمزور نظام کو بھی اہم مسائل قرار دیا گیا۔
ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ علاج کے دوران سرنجوں اور سوئیوں کا بار بار استعمال ایچ آئی وی کی منتقلی کا ایک بڑا مشتبہ راستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ طبی عملے کی مناسب تربیت ضروری ہے جبکہ مریضوں اور اہل خانہ کو بھی یہ آگاہی دی جائے کہ ہر انجیکشن یا متعلقہ طبی عمل میں نئی سرنج اور نئی سوئی کے استعمال پر اصرار کریں۔ انہوں نے ڈاکٹروں پر زور دیا کہ جہاں منہ کے ذریعے دی جانے والی دوا طبی طور پر مناسب ہو وہاں غیر ضروری انجیکشن تجویز نہ کیے جائیں۔
سابق نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام اور اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی کے سربراہ ڈاکٹر قائد سعید نے کہا کہ گزشتہ 18 برسوں میں پاکستان میں ایچ آئی وی کے 13 آؤٹ بریک رپورٹ ہو چکے ہیں، لیکن صرف دو آؤٹ بریکس، جن میں جلال پور جٹاں اور رتوڈیرو شامل ہیں، کی تفصیلی تحقیقات کی گئیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہر آؤٹ بریک کی مکمل وبائی تحقیقات کی جانی چاہئیں تاکہ وجوہات واضح ہوں اور مستقبل میں پھیلاؤ روکا جا سکے۔
ٹاسک فورس رپورٹ کے مطابق سندھ میں 2019 کے رتوڈیرو آؤٹ بریک سے ایک ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے جن میں اکثریت 12 سال سے کم عمر بچوں کی تھی۔ تحقیقات نے اس آؤٹ بریک کو آلودہ سرنجوں، غیر محفوظ انجیکشنز، غیر منظم انتقال خون، عطائیت اور انفیکشن سے بچاؤ اور کنٹرول کے شدید نقائص سے منسلک کیا۔
ماہرین نے ایچ آئی وی کے ساتھ زندگی گزارنے والے افراد کے ساتھ امتیازی رویوں پر بھی تشویش ظاہر کی۔ ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ بدنامی اور تعصب اب بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، حتیٰ کہ طبی شعبے کے بعض حصوں میں بھی یہ رویہ پایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جن میں ڈاکٹروں نے مریض کے ایچ آئی وی مثبت ہونے کا علم ہونے کے بعد علاج سے انکار کیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایچ آئی وی ہاتھ ملانے، ساتھ بیٹھنے یا عام سماجی رابطے سے منتقل نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیلی ویژن، اخبارات اور سوشل میڈیا کے ذریعے وسیع پیمانے پر عوامی آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ غلط تصورات ختم ہوں اور مریضوں کے خلاف امتیازی سلوک میں کمی آئے۔
اسلام آباد میں متعدی امراض کی ماہر ڈاکٹر نسیم اختر نے بتایا کہ ان کے مرکز میں آنے والے بہت سے ایچ آئی وی کیسز انجیکشن کے ذریعے منشیات استعمال کرنے والوں، ڈی پورٹ ہو کر واپس آنے والوں، خواجہ سرا افراد، مردوں کے ساتھ جنسی تعلق رکھنے والے مردوں اور خواتین سیکس ورکرز سے متعلق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بچوں میں بھی کچھ کیسز سامنے آئے ہیں۔
ڈاکٹر عاصمہ نسیم نے کہا کہ کراچی کی صورتحال بھی تشویشناک ہے، خاص طور پر بچوں میں ایچ آئی وی کیسز میں اضافے کے باعث خطرات بڑھ گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایچ آئی وی سے متاثرہ بچے گردوں کی خرابی کے ساتھ سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن لائے جا رہے ہیں، جو ایک نہایت تشویشناک رجحان ہے۔
ماہرین نے صحت کی سہولیات کی کمزور ریگولیشن کو بھی مسئلے کا اہم حصہ قرار دیا۔ ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ ہیلتھ کیئر کمیشنز، بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹیز اور دیگر ریگولیٹری اداروں کو مضبوط بنایا جائے۔ ان اداروں کو بہتر فنڈنگ، تربیت یافتہ عملہ اور جدید ٹیکنالوجی فراہم کی جائے تاکہ کلینکس، لیبارٹریوں، بلڈ بینکس اور دیگر طبی مراکز کی مؤثر نگرانی ہوسکے۔
حکومتی ٹاسک فورس نے ملک بھر میں سرنجوں کی نگرانی، میڈیکل ڈیوائسز کی سخت ریگولیشن اور مرحلہ وار آٹو ڈس ایبل سرنجوں کی طرف منتقلی کی سفارش کی ہے۔ رپورٹ میں غیر محفوظ طبی طریقوں کے خلاف سخت کارروائی کی تجویز بھی دی گئی ہے۔
ٹاسک فورس کی ایک اہم سفارش قومی سطح پر ریئل ٹائم ایچ آئی وی سرویلنس ڈیش بورڈ قائم کرنا ہے۔ اس نظام کے ذریعے علاج مراکز، بلڈ ٹرانسفیوژن سینٹرز، صوبائی ڈیزیز سرویلنس یونٹس اور دیگر صحت سہولیات سے معلومات جمع کی جائیں گی تاکہ نئے کیسز کی اطلاع فوری طور پر قومی سطح پر پہنچ سکے۔
رپورٹ میں بچوں کے لیے ٹیسٹنگ اور علاج کو مضبوط بنانے کی بھی سفارش کی گئی ہے، جس میں ابتدائی شیر خوار تشخیص، تربیت یافتہ کونسلرز اور آؤٹ بریک والے علاقوں میں بچوں کے ایچ آئی وی ماہرین کی دستیابی شامل ہے۔ بچوں کے لیے ادویات، غذائیت، تعلیم، ٹرانسپورٹ اور نفسیاتی مدد سمیت سماجی تحفظ کی تجاویز بھی دی گئی ہیں۔
مجوزہ اصلاحات میں قوانین کو مضبوط بنانا، ایچ آئی وی کیسز اور آؤٹ بریکس کی لازمی رپورٹنگ، صوبوں اور اداروں کے درمیان صحت کے ڈیٹا کا بہتر تبادلہ اور ایسے سرکاری و نجی طبی فراہم کنندگان کا احتساب شامل ہے جن کی غفلت بیماری کی منتقلی میں کردار ادا کرے۔
حکومتی رپورٹ کے مطابق ایک اعلیٰ سطحی نیشنل ایچ آئی وی ٹیکنیکل ورکنگ گروپ بھی تجویز کیا گیا ہے جس میں میجر جنرل ریٹائرڈ ڈاکٹر اظہر محمود کیانی، ڈاکٹر ظفر مرزا، ڈاکٹر عبد الولی خان، ڈاکٹر امجد محمود، ڈاکٹر عدنان خان، ڈاکٹر ہما قریشی، ڈاکٹر حسن عباس ظہیر، بریگیڈیئر ڈاکٹر نزہت مشاہد، ڈاکٹر سائرہ افضل، ڈاکٹر فاطمہ میر، ڈاکٹر صبا جمال، ڈاکٹر رانا جواد اصغر اور ڈاکٹر خالد رحمٰن سمیت ماہرین شامل ہوں گے۔
ڈاکٹر ظفر مرزا نے پاکستان کے عالمی فنڈنگ پر انحصار پر بھی تشویش ظاہر کی۔ بریفنگ کے دوران انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں ایچ آئی وی، ٹی بی اور ملیریا پر ہونے والے اخراجات کا تقریباً 90 فیصد حصہ گلوبل فنڈ کے ذریعے آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ان پروگراموں کی مکمل مالی ذمہ داری بتدریج خود قبول کرنی چاہیے اور عطیہ دہندگان کی مدد کو مستقل حل نہیں سمجھنا چاہیے۔
قومی مکالمے میں پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن، پاکستان پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن، پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن، میڈیکل مائیکرو بائیولوجی اینڈ انفیکشس ڈیزیزز سوسائٹی آف پاکستان، سوسائٹی آف آبسٹیٹرکس اینڈ گائناکالوجی آف پاکستان، ایسوسی ایشن آف پیپل لیونگ ود ایچ آئی وی اِن پاکستان، انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک، نئی زندگی ٹرسٹ، وجود سوسائٹی، برج فاؤنڈیشن، دریچہ میل ہیلتھ سوسائٹی اور یو این ایڈز کے نمائندوں نے شرکت کی۔
ماہرین نے کہا کہ پاکستان کو اب صرف بیانات اور اجلاسوں سے آگے بڑھنا ہوگا۔ ان کے مطابق محفوظ انجیکشن، اسکرین شدہ خون، ہسپتالوں میں سخت حفاظتی اصول، قابل اعتماد بیماری ڈیٹا، آؤٹ بریکس کی باقاعدہ تحقیقات، کلینکس کی بہتر نگرانی اور مستقل حکومتی فنڈنگ وقت کی اہم ضرورت ہیں۔
ٹاسک فورس کی سفارشات سے واضح ہوتا ہے کہ ایچ آئی وی کا مسئلہ صرف مریضوں کے علاج تک محدود نہیں بلکہ اس بات سے بھی جڑا ہے کہ علاج کے لیے ہسپتال یا کلینک جانے والے افراد غیر محفوظ طبی طریقوں، کمزور نگرانی یا ناقص ریگولیشن کے باعث ایسے خطرات کا سامنا نہ کریں جن سے بچا جا سکتا ہے۔
