یوریشین سکیورٹی فورم: لاوروف کا پاکستان کی امن سفارتکاری کو خراجِ تحسین،

newsdesk
3 Min Read
پرم میں یوریشیائی فورم میں لاوروف نے پاکستان کی امن سفارتکاری سراہا اور مشاہد حسین نے پاکستان کے کردار کی تفصیل پیش کی۔

یوریشین سکیورٹی فورم: لاوروف کا پاکستان کی امن سفارتکاری کو خراجِ تحسین، مشاہد حسین کا پاکستان کو عالمی سفارتکاری کا مرکز قرار

پرم (روس): روس کے زیر اہتمام یوریشین سکیورٹی فورم کے موقع پر روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے سینیٹر مشاہد حسین سید سے ملاقات میں ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے خاتمے کیلئے پاکستان کے “مثبت اور فعال امن کردار” کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے اہم سفارتی کوششیں کیں۔

سینیٹر مشاہد حسین سید، جو انٹرنیشنل کانفرنس آف ایشین پولیٹیکل پارٹیز (ICAPP) کے شریک چیئرمین بھی ہیں، نے روسی وزیر خارجہ کو پاکستان کی مسلسل امن سفارتکاری سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے متحارب فریقین کے درمیان اعتماد سازی کیلئے مؤثر کردار ادا کیا جس کے باعث دونوں جانب پاکستان پر اعتماد، احترام اور بھروسہ پیدا ہوا۔

سرگئی لاوروف نے ایران جنگ کے بعد پیدا ہونے والی “نئی عالمی حقیقتوں” کا ذکر کرتے ہوئے پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور مصر پر مشتمل چار ملکی کردار کو اہم قرار دیا۔ یہ ملاقات یوریشین سکیورٹی فورم کے موقع پر ہوئی جہاں مشاہد حسین نے کوریا، کمبوڈیا اور ایران سے تعلق رکھنے والے ICAPP وفد کے اراکین کے ہمراہ شرکت کی۔

یوریشین سکیورٹی فورم سے اپنے کلیدی خطاب میں سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ “پاکستان اس وقت عالمی سفارتکاری کے مرکز میں کھڑا ہے اور دونوں فریقین کا اعتماد اور احترام حاصل کر چکا ہے۔” انہوں نے ایران جنگ کے دوران اقوام متحدہ، یورپی یونین، او آئی سی اور عرب لیگ جیسے عالمی اداروں کے غیر مؤثر کردار پر افسوس کا اظہار کیا۔

انہوں نے چین اور روس کے اصولی مؤقف کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں ممالک ایک نئے عالمی نظام کے علمبردار ہیں، جہاں یوریشیا جغرافیائی سیاست اور جغرافیائی معیشت کا مرکز بن کر ابھر رہا ہے۔

سینیٹر مشاہد حسین نے فورم میں موجود بھارتی وفد کی موجودگی کا حوالہ دیتے ہوئے خطے کے تمام تنازعات کے حل کیلئے پرامن مذاکرات اور سفارتکاری کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اقبال نے تقریباً ایک صدی قبل ایشیا اور چین کے عروج کی پیشگوئی کر دی تھی۔

یوریشین سکیورٹی فورم میں 20 سے زائد یوریشین ممالک سے تعلق رکھنے والے 200 بین الاقوامی مندوبین نے شرکت کی۔ فورم کے اختتام پر روسی میزبانوں نے سینیٹر مشاہد حسین سید سے حتمی اعلامیہ پڑھنے کی درخواست کی، جس میں اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے مطابق انصاف اور برابری پر مبنی نئے عالمی نظام کے قیام کا مطالبہ کیا گیا۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے