راولپنڈی (اسلام آباد میل) امیر جماعت اسلامی ڈھوک منگٹال راولپنڈی سٹی نے ایک اخباری بیان میں کہا ہے کہ یونین کونسل نمبر 4 ڈھوک منگٹال میں تقریباً 50 سال قبل سوئی گیس کی پائپ لائنیں اُس وقت کی آبادی کو مدنظر رکھتے ہوئے بچھائی گئی تھیں، تاہم آبادی میں مسلسل اضافے کے باعث یہ لائنیں اب موجودہ ضرورت کے لیے ناکافی ہو چکی ہیں۔
بیان کے مطابق ڈھوک منگٹال اب ایک گنجان آباد علاقہ بن چکا ہے اور اندرون محلہ بچھائی گئی انتہائی پتلی گیس لائنیں موجودہ حالات میں ناکام ثابت ہو رہی تھیں۔ اسی تناظر میں گزشتہ کچھ عرصہ قبل پرانی لائنوں کی جگہ بہتر اور موٹی پائپ لائنیں ڈالنے کی منظوری دی گئی، جس کے بعد علاقے میں کام شروع کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ سڑکوں پر گیس پائپ لائنیں کافی عرصہ پہلے، غالباً 2025 میں، ڈال دی گئی تھیں جبکہ اندرون محلہ، خصوصاً محلہ فاروقیہ کی گلی نمبر 27 میں بھی لائن بچھا دی گئی۔ تاہم بعض گلیوں میں کام کے حوالے سے رکاوٹیں پیدا ہونے کی شکایت سامنے آ رہی ہے۔
بیان میں الزام عائد کیا گیا کہ بعض علاقوں میں نون لیگ کے سابق وائس چیئرمین یو سی 4 حاجی ریاض نے واسا کے ٹھیکیدار کے ساتھ مل کر گلی نمبر 39، گلی نمبر 34 اور دیگر گلیوں میں اچانک سیوریج لائن ڈالنے کا کام شروع کیا، جو گلیوں سے اوپر باہر نکل رہی تھی۔ بعد ازاں اس پر رف بجری ڈال کر گلیاں بنا دی گئیں، جسے بیان میں “فنڈ مکاؤ مہم” کا حصہ قرار دیا گیا۔
امیر جماعت اسلامی ڈھوک منگٹال کے مطابق اب جن گلیوں میں سیوریج لائنیں بچھائی گئی ہیں، وہاں سوئی گیس کے ٹھیکیدار کے بقول منظور شدہ گیس پائپ لائنیں ڈالنے نہیں دی جا رہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ ٹھیکیدار کے مطابق حاجی ریاض کا مؤقف ہے کہ ان گلیوں میں بجری ڈال دی گئی ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب سوئی گیس کی پائپ لائنوں کا کام پہلے ہی شروع ہو چکا تھا اور 50 سال بعد لائنیں تبدیل کی جا رہی ہیں، جبکہ ان کے بغیر لوگوں کا گزارہ مشکل ہو چکا ہے، تو کس قانون کے تحت اس کام کو روکا جا رہا ہے۔
اہلیان علاقہ کی جانب سے حکام بالا سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ گیس پائپ لائنیں ڈالنے کی اجازت دی جائے تاکہ مقامی آبادی کو درپیش مشکلات کم ہو سکیں۔ بیان میں خبردار کیا گیا کہ اگر کام میں رکاوٹ برقرار رہی تو مجبوراً عدالت سے رجوع کیا جائے گا۔
