اسلام آباد، 24 ستمبر: عالمی نظام میں تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلیوں اور ابھرتے ہوئے بین الاقوامی چیلنجز کے تناظر میں مسلم ممالک کے درمیان مضبوط تزویراتی رابطوں اور پائیدار ادارہ جاتی تعاون کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا گیا ہے تاکہ مسلم دنیا بدلتے جغرافیائی و سیاسی حالات کا زیادہ مؤثر انداز میں جواب دے سکے۔ اس حوالے سے ایشیا پیسیفک خطے کی اہمیت کو بھی نمایاں کیا گیا، جہاں دنیا کی بڑی مسلم آبادیوں میں سے کئی آباد ہیں۔
یہ بات ملائیشیا کے انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ایڈوانسڈ اسلامک اسٹڈیز (IAIS) کے وفد نے انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز (IPS)، اسلام آباد کے دورے کے موقع پر کہی۔ اس موقع پر دونوں اداروں کے درمیان مفاہمت کی ایک یادداشت (MoU) پر بھی دستخط کیے گئے۔
IAIS کے وفد میں ادارے کے سی ای او ڈاکٹر سید ازمان بن سید احمد نواوی، ڈپٹی سی ای او ڈاکٹر احمد بدری بن عبداللہ، ریسرچ اینڈ پبلیکیشن ڈویژن کے سربراہ ڈاکٹر عبد اللطیف بن محمد ابراہیم، اور اسٹریٹجک یونٹ کے خصوصی افسر برائے بین الاقوامی امور محمد فائز بن محمد ناوی شامل تھے۔ IPS کی نمائندگی چیئرمین خالد رحمٰن، وائس چیئرمین سید ابرار حسین، امورِ کشمیر کے ماہر عبدالرشید ترابی، ہیڈ آف آپریشنز شفق سرفراز اور ریسرچ فیلو ندیم فرحت نے کی۔
وفد نے کہا کہ بین الاقوامی نظام میں نمایاں تبدیلیوں کے دوران مسلم دنیا کو کئی پیچیدہ چیلنجز کا سامنا ہے۔ شرکا نے اس امر پر زور دیا کہ مسلم ممالک، خصوصاً ایشیا کے ممالک، اپنی بڑی آبادی، معاشی امکانات اور تزویراتی اہمیت کے باعث باہمی روابط کو مزید مستحکم کریں۔ ان کے مطابق بہتر ہم آہنگی، معلومات کا تبادلہ اور ادارہ جاتی تعلقات عالمی و علاقائی حالات کے بارے میں زیادہ باخبر اور پیشگی پالیسی ردعمل تشکیل دینے میں مددگار ہو سکتے ہیں۔
گفتگو میں فلسطین، مقبوضہ کشمیر، افغانستان، سوڈان اور دیگر تنازعات سے متاثرہ خطوں کی صورتحال بھی زیر بحث آئی۔ شرکا نے کہا کہ ان بحرانوں کو جنم دینے والے سیاسی، سماجی اور جغرافیائی و سیاسی عوامل کا گہرا ادراک ضروری ہے۔ ان کے مطابق دیرینہ تنازعات کو محض وقتی بحران سمجھنے کے بجائے مسلسل توجہ کا متقاضی سمجھا جانا چاہیے۔
دونوں اداروں کے جیو اسٹریٹجک ماہرین نے موجودہ عالمی حالات پر تبادلہ خیال کیا، جو دنیا بھر میں مسلم آبادیوں کو شدید طور پر متاثر کر رہے ہیں۔ فلسطین میں نسل کشی اور بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی وسیع خلاف ورزیوں پر خاص طور پر گفتگو ہوئی، جبکہ امن کے لیے سفارتی سطح پر پاکستان اور ملائیشیا کے تعمیری کردار کا بھی ذکر کیا گیا۔ IPS کے ماہرین نے وفد کو آگاہ کیا کہ عالمی امن اور علاقائی ہم آہنگی سے وابستگی کے باعث پاکستان کو کن جیو اسٹریٹجک چیلنجز کا سامنا ہے۔
اجلاس میں بدلتے ہوئے بین الاقوامی نظام اور عالمی حکمرانی سے متعلق ابھرتی ہوئی بحثوں میں مسلم ممالک اور اداروں کے ممکنہ کردار پر بھی زور دیا گیا۔ شرکا نے مسلم فکر کی ڈی کالونائزیشن، اسلاموفوبیا، خاندان اور سماجی نظام، اور مسلم معاشروں کو درپیش مسائل پر فکری مکالمے کو مضبوط بنانے کی ضرورت جیسے معاصر سماجی و فکری موضوعات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
وفد نے مختلف حکومتی اداروں کے ساتھ مؤثر روابط کے تجربات اور پالیسی سازوں کے ساتھ تعمیری اسٹریٹجک کمیونیکیشن کے حوالے سے حاصل ہونے والے اسباق بھی شیئر کیے۔ گفتگو میں اس بات کو اجاگر کیا گیا کہ علمی و تحقیقی کام کے ساتھ ساتھ زمینی حقائق کو سمجھنا اور پالیسی سازوں، حکومتوں اور متعلقہ فریقوں کے ساتھ براہِ راست رابطہ برقرار رکھنا بھی نہایت اہم ہے۔
اسی پس منظر میں IPS اور IAIS کے درمیان طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت عالمی مسلم امور، بین الاقوامی تعلقات، حکمرانی اور باہمی تفہیم کے شعبوں میں پالیسی پر مبنی تحقیق، مکالمے اور وکالت کے لیے تعاون کا ایک فریم ورک فراہم کرتی ہے۔
دونوں جانب سے عملی تعاون کے متعدد شعبوں کی نشاندہی کی گئی، جن میں مشترکہ سیمینارز اور کانفرنسیں، تحقیقی و پالیسی بریفز کا تبادلہ، ایک دوسرے کے پروگراموں میں اسکالرز کی شرکت، اور ممکنہ مشترکہ تحقیق و اشاعت شامل ہیں۔ دورہ کرنے والے وفد نے شاعرِ مشرق اور مفکر علامہ محمد اقبال کے افکار پر مشتمل، ملائی زبان میں ترجمہ شدہ مطبوعات کا ایک سیٹ پیش کیا۔ وفد نے IPS کے بانی اور ممتاز اسکالر پروفیسر خورشید احمد کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ان کی بعض کتب کو ملائی زبان میں ترجمہ کرنے پر بھی اتفاق کیا۔
ملاقات کے اختتام پر خالد رحمٰن نے کہا کہ اداروں کے درمیان مستقل فکری تبادلہ، تحقیقی مواد کی شراکت اور براہِ راست روابط عصرِ حاضر کے چیلنجز کو بہتر طور پر سمجھنے اور زیادہ باخبر پالیسی ردعمل تشکیل دینے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔
