چین پاکستان کی خارجہ پالیسی کا محور ہے، ماؤ نے دوستی کی بنیاد رکھی: مشاہد حسین

newsdesk
5 Min Read
پاکستان چائنا انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام چیئرمین ماؤ زے تنگ کی 50 ویں برسی کے موقع پر خصوصی تقریب منعقد ہوئی۔

اسلام آباد، 10 ستمبر 2026: چینی رہنما چیئرمین ماؤ زے تنگ کی 50 ویں برسی کے سلسلے میں منعقدہ خصوصی تقریب میں مقررین نے چین اور عالمی سیاست کے لیے ان کی تاریخی خدمات کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ پاکستان چائنا انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام ہونے والی اس تقریب میں بڑی تعداد میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔

پاکستان چائنا انسٹی ٹیوٹ کے چیئرمین سینیٹر مشاہد حسین سید نے کلیدی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین ماؤ زے تنگ بیسویں صدی کی ان تین بڑی تاریخی شخصیات میں شامل تھے جنہوں نے اپنی قیادت، فکر اور وژن سے تاریخ کا رخ متعین کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان شخصیات میں روسی انقلاب کے رہنما ولادیمیر لینن اور بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح بھی شامل ہیں۔

سینیٹر مشاہد حسین نے چیئرمین ماؤ کو نئے چین کا معمار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے پچیس سالہ دورِ قیادت میں چینی کسانوں کو جاگیرداری سے نجات ملی، اوسط عمر دوگنی ہوئی، شرحِ خواندگی 20 فیصد سے بڑھ کر 93 فیصد تک پہنچی، چین نے سائنس و ٹیکنالوجی میں اپنی مقامی کوششوں کے ذریعے ایٹمی قوت کا درجہ حاصل کیا اور چینی خواتین کو آزادی و حقوق دیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ماؤ کی قیادت میں چینی عوام کے لیے خوراک، لباس، رہائش اور بنیادی صحت کی سہولتوں کو یقینی بنایا گیا، جس سے آج کے پُرامن، خوشحال اور طاقتور چین کی بنیاد پڑی۔

انہوں نے کہا کہ چیئرمین ماؤ پاکستان چین دوستی کے معمار تھے۔ سینیٹر مشاہد حسین کے مطابق 1965 کی جنگ میں بھارت کے مقابلے میں پاکستان کو چین کی بھرپور حمایت حاصل ہوئی، جبکہ چیئرمین ماؤ نے کشمیر اور فلسطین جیسے مظلوموں کے مسائل کے ساتھ ساتھ افریقہ کی آزادی کی تحریکوں کی بھی حمایت کی۔

سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ چیئرمین ماؤ نے تین اہم مواقع پر چینی انقلاب کو بچانے اور چین و اس کے عوام کے مفادات کے تحفظ میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق 1935 میں ماؤ کی قیادت میں لانگ مارچ نے کمیونسٹ پارٹی کو بچایا اور پیپلز لبریشن آرمی کو محفوظ رکھا۔ 1966 میں انہوں نے ثقافتی انقلاب کا آغاز اس مقصد کے تحت کیا کہ چین کو سوویت یونین جیسے انجام سے بچایا جا سکے، کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ چینی نظام میں خرابی پیدا ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوویت یونین بالآخر 1991 میں ٹوٹ گیا، جبکہ چین اس انجام سے محفوظ رہا۔

انہوں نے مزید کہا کہ 1971 میں امریکہ کے ساتھ چین کے روابط کا آغاز چیئرمین ماؤ کی سفارت کاری کا اہم اقدام تھا، جس نے امریکہ کو سوویت یونین سے الگ کیا اور دونوں طاقتوں کو چین کے خلاف متحد ہونے سے روکا۔

تقریب کے دیگر مقررین نے چیئرمین ماؤ کو حقیقی انقلابی، عظیم مفکر، فلسفی اور بے غرض محبِ وطن قرار دیا، جن کی توجہ چینی عوام کی فلاح و بہبود پر مرکوز رہی۔ ممتاز صحافی حامد میر اور معروف قانون دان سلمان اکرم راجہ بھی مقررین میں شامل تھے۔

سابق اسپیکر قومی اسمبلی سید فخر امام تقریب کے مہمانِ خصوصی تھے۔ انہوں نے چین کے طرزِ حکمرانی کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہی ماڈل امن و استحکام کے ماحول میں چین کی تیز رفتار معاشی ترقی کا ایک بنیادی سبب ہے۔

سابق وزیر خارجہ اور چین میں پاکستان کے سابق سفیر انعام الحق نے تقریب کی صدارت کی۔ انہوں نے چیئرمین ماؤ کے دور میں چین کی سفارت کاری کو امید کی کرن قرار دیا اور کہا کہ چین نے تیسری دنیا اور گلوبل ساؤتھ کے ابھرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

سینیٹر ستارہ ایاز نے تقریب کے اختتام پر کلماتِ تشکر ادا کیے۔ انہوں نے چینی خواتین کو بنیادی حقوق دینے کے حوالے سے چیئرمین ماؤ کی خدمات کو سراہا اور کہا کہ آج چینی خواتین ملک کی غیر معمولی ترقی میں مردوں کے ساتھ برابر کی شریک ہیں۔

تمام مقررین نے اس نکتے پر اتفاق کیا کہ چین پاکستان کی خارجہ پالیسی کا محور اور پاکستان کا بہترین دوست ہے۔ تقریب میں اراکینِ پارلیمنٹ، پالیسی سازوں، سفارت کاروں، کاروباری رہنماؤں، طلبہ، اسکالرز اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔

Share This Article