اسلام آباد، 4 ستمبر 2026 — پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) اور اسلام آباد پولیس نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے بدھ کی علی الصبح سہالہ۔اٹک ریفائنری لمیٹڈ (اے آر ایل) پائپ لائن سے ایندھن چوری کی کوشش ناکام بنا دی، جبکہ موقع سے دو مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔
پی ایس او کے مطابق صبح تقریباً 4 بج کر 30 منٹ پر سہالہ ٹرمینل پر موجود مانیٹرنگ نظام نے پائپ لائن میں دباؤ کی غیر معمولی کمی کی نشاندہی کی۔ پیشگی اطلاع اور حقیقی وقت کی نگرانی کی بنیاد پر پی ایس او کی سکیورٹی ٹیم نے فوری طور پر اسلام آباد پولیس کو آگاہ کیا، جس کے بعد تیس منٹ کے اندر مشترکہ چھاپہ مار کارروائی شروع کر دی گئی۔
کارروائی کے دوران ملزمان کو موقع پر ہی پکڑ لیا گیا۔ ٹیموں نے پائپ لائن پر نصب فعال چوری کلیمپ ہٹا دیا اور جائے وقوعہ سے دو مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا۔ برآمدگیوں میں ڈرموں اور کینز میں محفوظ تقریباً ایک ہزار لیٹر ہائی اسپیڈ ڈیزل، واردات میں استعمال ہونے والی لوڈر گاڑی اور غیر قانونی ٹیپنگ آلات شامل ہیں۔
حراست میں لیے گئے مشتبہ افراد، برآمد شدہ ڈیزل اور گاڑی کو باضابطہ مقدمے کے اندراج اور قانونی کارروائی کے لیے سہالہ پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ مقام کو محفوظ بنا کر پائپ لائن کو محفوظ آپریٹنگ حالت میں بحال کر دیا گیا۔
پی ایس او کے ترجمان نے کہا کہ ایندھن کی چوری قومی اثاثوں کے خلاف جرم ہی نہیں بلکہ انسانی جانوں اور آبادیوں کے لیے بھی خطرہ ہے۔ ترجمان کے مطابق پی ایس او غیر قانونی ٹیپنگ کے معاملے میں زیرو ٹالرنس پالیسی رکھتا ہے اور ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق بھرپور کارروائی جاری رکھے گا۔
پی ایس او نے کہا ہے کہ وہ ملک کی توانائی سپلائی چین کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے اور اہم انفراسٹرکچر کی حفاظت کے لیے وفاقی اور صوبائی حکام کے ساتھ مسلسل کام کر رہا ہے۔
