اسلام آباد، 21 جولائی 2026ء: انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) کے سینٹر فار افغانستان، مڈل ایسٹ اینڈ افریقہ (کیمیا) نے پاکستان افریقہ انسٹی ٹیوٹ فار ڈیولپمنٹ اینڈ ریسرچ (پائیدار) کے اشتراک سے جنوبی افریقہ کے قومی دن اور نیلسن منڈیلا انٹرنیشنل ڈے کی مناسبت سے ایک تقریب کا اہتمام کیا۔
تقریب کا آغاز پاکستان اور جنوبی افریقہ کے قومی ترانوں سے ہوا۔ مقررین میں ڈائریکٹر جنرل آئی ایس ایس آئی سفیر معین الحق، چیئرمین بورڈ آف گورنرز آئی ایس ایس آئی سفیر خالد محمود، صدر پائیدار سینیٹر مشاہد حسین سید، جنوبی افریقہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر محمد فاروق اور ڈائریکٹر کیمیا ڈاکٹر آمنہ خان شامل تھے۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی پاکستان میں جنوبی افریقہ کے قائم مقام ہائی کمشنر روڈولف پیئر جورڈان تھے جبکہ مہمانِ اعزاز وزارتِ خارجہ پاکستان کے ایڈیشنل فارن سیکرٹری (افریقہ) سفیر حامد اصغر خان تھے۔
سفیر معین الحق نے جنوبی افریقہ کے قومی دن اور نیلسن منڈیلا انٹرنیشنل ڈے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان گرمجوش اور دیرینہ تعلقات قائم ہیں، جن کی بنیاد انصاف، آزادی، مساوات اور باہمی احترام جیسی مشترکہ اقدار پر ہے۔ انہوں نے نسل پرستی کے خلاف جنوبی افریقہ کی جدوجہد میں پاکستان کی مستقل حمایت کا ذکر کیا اور کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ اور کثیرالجہتی فورمز پر تعاون میں اضافہ ہو رہا ہے۔ نیلسن منڈیلا کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ مفاہمت، ثابت قدمی اور اخلاقی جرات کی عالمی علامت ہیں، جن کی میراث انسانیت کے لیے آج بھی مشعلِ راہ ہے اور پاکستان و جنوبی افریقہ کی دوستی کو مضبوط بناتی ہے۔
جنوبی افریقہ کے قائم مقام ہائی کمشنر آر پیئر جورڈان نے جنوبی افریقہ کے قومی دن کے ساتھ نیلسن منڈیلا انٹرنیشنل ڈے منانے پر آئی ایس ایس آئی کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ موقع جنوبی افریقہ کے جمہوری سفر اور منڈیلا کی پائیدار میراث کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا دن ہے۔ انہوں نے نیلسن منڈیلا کی انصاف، مساوات، مفاہمت اور انسانی وقار کے لیے زندگی بھر کی جدوجہد کو اجاگر کیا اور انہیں امن کی عالمی علامت قرار دیا، جن کی قیادت دنیا بھر کے لوگوں کو متاثر کرتی ہے۔ انہوں نے 27 سال قید کے بعد تلخی کے بجائے معافی کے منڈیلا کے پیغام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حقیقی قیادت مفاہمت، ہمدردی اور انسانیت کی خدمت میں ہے۔ موجودہ عالمی چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بین الاقوامی قانون کے احترام، کثیرالجہتی تعاون اور تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کے مطابق منڈیلا کا وژن یاد دلاتا ہے کہ دیرپا امن مکالمے، انصاف اور مشترکہ ذمہ داری ہی سے ممکن ہے۔ انہوں نے لانگ واک ٹو فریڈم سے منڈیلا کے الفاظ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک زیادہ منصفانہ، پرامن اور جامع دنیا کے لیے کام کرنا سب کی ذمہ داری ہے اور ’’اچھا کرنے کا اختیار اب بھی ہمارے ہاتھ میں ہے‘‘۔
ڈاکٹر آمنہ خان نے اپنے خطاب میں جنوبی افریقہ کے قومی دن اور نیلسن منڈیلا انٹرنیشنل ڈے کو آزادی، انصاف، مساوات اور مفاہمت کی اقدار منانے کے اہم مواقع قرار دیا۔ انہوں نے نیلسن منڈیلا کی پائیدار میراث کو خراجِ تحسین پیش کیا اور نسل پرستی کے خلاف جدوجہد میں پاکستان کی دیرینہ حمایت کا ذکر کیا، جس میں 1992ء میں نیلسن منڈیلا کے پاکستان اور آئی ایس ایس آئی کے تاریخی دورے کا حوالہ بھی شامل تھا۔ انہوں نے ’انگیج افریقہ‘ پالیسی کے تحت پاکستان افریقہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے کیمیا کے عزم کا اعادہ کیا۔
سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ پاکستان جب جنوبی افریقہ کے قومی دن اور نیلسن منڈیلا انٹرنیشنل ڈے کو یاد کر رہا ہے تو اسے انسانی حقوق اور عالمگیر آزادیوں سے جنوبی افریقہ کی وابستگی پر فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیلسن منڈیلا قائداعظم محمد علی جناح کے معترف تھے اور دونوں رہنماؤں میں اپنی قوموں کے لیے آزادی کے حصول کے غیر متزلزل عزم کی مماثلت پائی جاتی ہے۔ انہوں نے نسل پرستی کے خلاف جنوبی افریقہ کی جدوجہد میں پاکستان کی مالی اور سفارتی حمایت کو یاد کیا اور منڈیلا کو آزادی کی لازوال علامت قرار دیا۔
ہائی کمشنر محمد فاروق نے نیلسن منڈیلا کی پائیدار میراث کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ جدید جنوبی افریقہ کی کہانی انصاف، مساوات اور انسانی وقار کے لیے منڈیلا کی جدوجہد سے جدا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ منڈیلا کی اصل عظمت صرف ظلم پر قابو پانے میں نہیں بلکہ ان کی دانائی، عاجزی اور مفاہمت کے عزم میں بھی تھی۔ انہوں نے نسل پرستی کے خلاف جدوجہد میں پاکستان کی مستقل حمایت کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان اور جنوبی افریقہ کے مضبوط تعلقات کو اجاگر کیا اور کہا کہ نیلسن منڈیلا پاکستانی عوام کے دلوں میں خاص مقام رکھتے ہیں، جنہیں انسانیت، آزادی اور انصاف کے لیے غیر معمولی خدمات پر پاکستان کے اعلیٰ ترین سول اعزازات سے نوازا گیا۔
سفیر حامد اصغر خان نے نیلسن منڈیلا کی پائیدار میراث پر روشنی ڈالتے ہوئے قائداعظم محمد علی جناح کی بصیرت افروز قیادت سے مماثلت بیان کی۔ انہوں نے نسل پرستی کے خلاف جدوجہد میں پاکستان کی مستقل حمایت کا ذکر کیا اور کہا کہ انصاف، آزادی اور جنوبی-جنوبی تعاون جیسی مشترکہ اقدار پاکستان اور جنوبی افریقہ کے تعلقات کی بنیاد ہیں۔ انہوں نے دوطرفہ تعلقات میں موجود امکانات سے فائدہ اٹھانے کے لیے اعلیٰ سطحی سیاسی روابط بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا، خاص طور پر تجارت، سرمایہ کاری، سیاحت اور تعلیم کے شعبوں میں۔
اختتامی کلمات میں سفیر خالد محمود نے نیلسن منڈیلا کی امن، انصاف اور مفاہمت پر مبنی پائیدار میراث کو اجاگر کیا۔ انہوں نے پاکستان اور جنوبی افریقہ کی دیرینہ دوستی کا اعادہ کیا اور اعتماد ظاہر کیا کہ دونوں ممالک کے باہمی مفاد کے لیے دوطرفہ تعاون مزید فروغ پاتا رہے گا۔
