آئی ایم ایف معاہدہ معیشت پر اعتماد بڑھائے گا، عاطف اکرام شیخ

newsdesk
3 Min Read
عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام کو معاشی خود انحصاری کی جانب عبوری مرحلہ سمجھا جائے۔

صدر فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری عاطف اکرام شیخ نے آئی ایم ایف کے ساتھ پاکستان کے 1.21 ارب ڈالر کے اسٹاف لیول معاہدے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام میں پیش رفت سے پاکستانی معیشت پر عالمی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔

عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ معاشی استحکام کے بعد اب ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان پائیدار معاشی ترقی کی جانب تیزی سے آگے بڑھے۔ ان کے مطابق زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ اور کرنٹ اکاؤنٹ کا متوازن رہنا ملکی معیشت کے لیے مثبت اشارے ہیں، تاہم اس استحکام کو برآمدات، سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی میں تبدیل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

صدر ایف پی سی سی آئی نے کہا کہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور گردشی قرضے کا خاتمہ پائیدار معاشی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ بجلی اور گیس کے نرخوں سے متعلق بروقت فیصلے ضرور کیے جائیں، مگر ان فیصلوں میں صنعت و کاروبار کی مسابقت کو بھی پیش نظر رکھا جائے۔

عاطف اکرام شیخ کا کہنا تھا کہ وسیع البنیاد ایندھن سبسڈی کے بجائے مستحق طبقات کو براہ راست ریلیف فراہم کرنا زیادہ مؤثر راستہ ہوگا۔ انہوں نے مہنگائی میں کمی کو مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوام کو اس کے ثمرات مستقل بنیادوں پر منتقل ہونے چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ روپے کی قدر میں استحکام کے ساتھ برآمدات کے فروغ کے لیے مسابقتی کاروباری ماحول ضروری ہے۔ نجکاری کے عمل کے حوالے سے صدر ایف پی سی سی آئی نے مطالبہ کیا کہ شفافیت، میرٹ اور نجی شعبے کی استعداد کو ترجیح دی جائے۔

عاطف اکرام شیخ نے مزید کہا کہ تجارتی اور ریگولیٹری رکاوٹیں کم کیے بغیر نجی سرمایہ کاری میں مطلوبہ اضافہ ممکن نہیں۔ ان کے مطابق معاشی اصلاحات کا تسلسل ہی پاکستان کو بیرونی مالی معاونت سے پائیدار خود انحصاری کی طرف لے جا سکتا ہے۔

صدر ایف پی سی سی آئی نے کہا کہ جغرافیائی کشیدگی اور عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر برآمدات اور زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور نجی شعبے کو مل کر معاشی اصلاحات کو عملی کامیابی میں تبدیل کرنا ہوگا۔

عاطف اکرام شیخ نے واضح کیا کہ آئی ایم ایف پروگرام کو آخری مقصد نہیں بلکہ معاشی خود انحصاری کی طرف ایک عبوری مرحلہ سمجھا جانا چاہیے۔

Share This Article