خلیجی ممالک سے ایک لاکھ 64 ہزار سے زائد پاکستانیوں کی وطن واپسی، بیرون ملک مزدوروں کے بحران پر تشویش

4 Min Read
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جنوری ۲۰۲۱ تا اپریل ۲۰۲۶ میں گلف ممالک سے ایک لاکھ چونسٹھ ہزار سات سو اٹھاسی پاکستانی واپس ہوئے، پارلیمانی تحفظات عیاں۔

خلیجی ممالک سے پانچ برس میں ایک لاکھ 64 ہزار سے زائد پاکستانیوں کی وطن واپسی، بیرون ملک مزدوروں کے بحران پر تشویش

ندیم تنولی

اسلام آباد: گزشتہ پانچ برسوں کے دوران خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک سے ایک لاکھ 64 ہزار 788 پاکستانی شہریوں کو واپس پاکستان بھیجا گیا، جس پر قومی اسمبلی میں شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ ارکان اسمبلی نے اس صورتحال کو بیرون ملک پاکستانی مزدوروں کے استحصال، ناقص حکومتی نگرانی اور مزدوروں کے حقوق کے تحفظ میں ناکامی قرار دیا۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں رکن اسمبلی آسیہ ناز تنولی کے سوال کے جواب میں وزیر داخلہ و انسدادِ منشیات سید محسن رضا نقوی نے بتایا کہ جنوری 2021 سے اپریل 2026 تک مختلف خلیجی ممالک سے ہزاروں پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کیا گیا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ ایک لاکھ 8 ہزار 29 پاکستانی سعودی عرب سے واپس بھیجے گئے، جن میں صرف 2025 کے دوران 27 ہزار 692 جبکہ 2026 کے ابتدائی چار ماہ میں 9 ہزار 621 افراد شامل ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق متحدہ عرب امارات سے 40 ہزار 497، عمان سے 9 ہزار 814، قطر سے 2 ہزار 971، بحرین سے 2 ہزار 779 جبکہ کویت سے 698 پاکستانیوں کو وطن واپس بھیجا گیا۔

ایوان میں اس معاملے پر بحث کے دوران ارکان اسمبلی اور مزدور حقوق کے حامی حلقوں نے کہا کہ یہ اعداد و شمار خلیجی ممالک میں پاکستانی مزدوروں کو درپیش سنگین مسائل کی عکاسی کرتے ہیں، جن میں ویزا خلاف ورزیاں، تنخواہوں کی عدم ادائیگی، خراب رہائشی حالات اور لیبر قوانین کے تحت استحصال شامل ہیں۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ اگرچہ حکومت نے وطن واپسی کے لیے مختلف سہولیات اور نظام قائم کر رکھے ہیں، تاہم بڑھتی ہوئی ڈی پورٹیشن اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی مزدوروں کے تحفظ کے لیے مؤثر اور پیشگی اقدامات ناکافی ہیں۔ خاص طور پر 2025 میں مختلف جی سی سی ممالک سے مجموعی طور پر 38 ہزار 616 پاکستانیوں کی واپسی کو خطرناک رجحان قرار دیا جا رہا ہے۔

وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی نے ایوان کو بتایا کہ وزارت داخلہ صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے اور پاکستانی سفارت خانوں اور لیبر اتاشیوں کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ متاثرہ مزدوروں کی محفوظ وطن واپسی کو یقینی بنایا جا سکے۔

تاہم ناقدین نے اس بحران کے انسانی پہلو پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہزاروں خاندان شدید معاشی مشکلات کا شکار ہو رہے ہیں کیونکہ متعدد مزدور معاہدے مکمل ہونے سے پہلے ہی واپس بھیج دیے جاتے ہیں اور اکثر انہیں تنخواہیں یا واجبات بھی نہیں ملتے۔

ارکان اسمبلی نے مطالبہ کیا کہ بیرون ملک افرادی قوت بھیجنے کی پالیسی میں فوری اصلاحات، بھرتی کرنے والی ایجنسیوں کی سخت نگرانی، اور اوورسیز پاکستانی مزدوروں کے لیے قانونی معاونت کے مؤثر نظام قائم کیے جائیں تاکہ مستقبل میں پاکستانی شہریوں کو اس قسم کے بحران سے بچایا جا سکے۔

Copied From: Pakistan repatriates 164,788 nationals from Gulf in five years amid growing labor crisis

Share This Article
ندیم تنولی اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہیں جو پارلیمانی امور، موسمیاتی تبدیلی، گورننس کی شفافیت اور صحت عامہ کے مسائل پر گہرائی سے رپورٹنگ کے لیے پہچانے جاتے ہیں۔
1 تبصرہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے