اسلام آباد: جرمن بنڈس ٹاگ کے رکن کرسٹوف شمڈ نے کہا ہے کہ جرمنی کو اپنی اور یورپ کی سلامتی کے لیے زیادہ ذمہ داری اٹھانا اور آگے بڑھ کر کردار ادا کرنا ہوگا، تاہم مضبوط دفاعی صلاحیتوں کے ساتھ مکالمہ، قابل اعتماد شراکت داریاں اور یورپ سے باہر مسلسل روابط بھی ناگزیر ہیں۔
انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) میں سینٹر فار اسٹریٹجک پرسپیکٹوز (سی ایس پی) کے زیر اہتمام ایک عوامی لیکچر سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے جرمن وزیر دفاع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جرمنی کو اپنی اور یورپی سلامتی کے لیے قیادت کرنا ہوگی۔ لیکچر کا عنوان ’’بدلتے ہوئے عالمی نظام میں دفاعی اور سلامتی پالیسی: جرمنی اور یورپی یونین کے تناظر‘‘ تھا۔
کرسٹوف شمڈ نے جرمنی کے بدلتے ہوئے تزویراتی رویے کو یوکرین تنازع سے جوڑا اور کہا کہ اس جنگ کے نتیجے میں جرمنی نے اپنی دفاعی تیاری، بیرونی سلامتی انتظامات اور توانائی پر انحصار کا ازسرنو جائزہ لیا ہے۔ انہوں نے بھرتی، بنیادی ڈھانچے اور زیادہ مؤثر دفاعی خریداری کو جرمنی کی اہم دفاعی ترجیحات قرار دیا۔
انہوں نے ابھرتے ہوئے خطرات کے مقابلے کے لیے معاشرتی آگاہی اور مزاحمتی صلاحیت بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ جرمن اور یورپی نقطہ نظر سے انہوں نے روس کو سب سے بڑا سلامتی چیلنج قرار دیا، تاہم واضح کیا کہ زیادہ عسکری تیاری سفارت کاری کی قیمت پر نہیں ہونی چاہیے۔ ان کے بقول، ’’اختلاف پر اتفاق بھی اعتماد سازی کا ایک طریقہ ہے۔‘‘ انہوں نے مختلف خطوں میں شراکت داروں کے ساتھ رابطے برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔
کرسٹوف شمڈ نے امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی حالیہ ثالثی کوششوں کو سراہتے ہوئے اسے ایک بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جرمنی پاکستان کے ثالثی کردار سے سیکھنے کے لیے اس کے ساتھ رابطہ کرنے کو تیار ہوگا۔
اپنے خیرمقدمی کلمات میں آئی ایس ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل سفیر معین الحق نے کہا کہ بڑی طاقتوں کی مسابقت، یوکرین تنازع، مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام جسے ایران پر امریکا-اسرائیل حملے نے مزید بڑھایا، عسکری و تکنیکی تبدیلیاں اور غیر روایتی خطرات مل کر عالمی سلامتی کے ماحول کو نئی شکل دے رہے ہیں۔
انہوں نے عالمی حکمرانی کے ایک ایسے زیادہ نمائندہ اور مؤثر نظام کی ضرورت پر زور دیا جس میں ترقی پذیر ممالک کے جائز سلامتی خدشات کی مناسب عکاسی ہو۔ سفیر معین الحق نے مزید کہا کہ پاکستان اور جرمنی کے پاس سکیورٹی ڈائیلاگ، تجارت، ٹیکنالوجی، ترقی، ماحولیات، توانائی، تعلیم اور علاقائی رابطہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
اختتامی کلمات میں انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز (آئی آر ایس) کے صدر سفیر جوہر سلیم نے معاصر سلامتی چیلنجز کی باہم مربوط نوعیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ تنازعات کے معاشی اور سلامتی اثرات دور رس ہوتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے پائیدار ٹرانس اٹلانٹک تعاون اور ابھرتے ہوئے چین کے ساتھ پُرامن بقائے باہمی کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
اس سے قبل سی ایس پی کی ڈائریکٹر ڈاکٹر نیلم نگار نے کہا کہ جرمنی اور یورپ کی بدلتی ہوئی دفاعی پالیسیاں یورپ سے کہیں آگے تک اثرات رکھتی ہیں۔ انہوں نے ان پیش رفتوں کو پاکستان کے لیے جرمنی اور یورپی یونین کے ساتھ سلامتی، معاشی، ترقیاتی، ماحولیاتی اور رابطہ کاری کے شعبوں میں روابط کے حوالے سے اہم قرار دیا۔
لیکچر کے بعد سوال و جواب کا سیشن بھی ہوا جس میں سفارتی برادری کے ارکان، سرکاری حکام، ماہرینِ تعلیم، محققین، طلبہ، میڈیا نمائندوں اور سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔
