پنجاب حکومت نے زرعی مدد کا بڑا پیکیج جاری کیا

newsdesk
3 Min Read
پنجاب حکومت نے گندم پالیسی، سیلابی معاوضے، سبسڈی اور ٹریکٹر تقسیم کے ذریعے کسانوں کے لیے وسیع زرعی امداد کا اعلان کیا۔

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی ہدایت پر پنجاب حکومت نے گندم کے انتظام، کسانوں کی فلاح و بہبود اور زرعی پیداوار کو مستحکم کرنے کے لیے ایک جامع پروگرام جاری کیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد کاشتکاروں کو فوری مالی سہارا فراہم کرنا اور زرعی شعبے میں استحکام لانا ہے تاکہ مقامی پیداوار کو تحفظ اور فروغ مل سکے۔زرعی امداد کے تحت فوڈ ڈیپارٹمنٹ نے گندم کی ایسی پالیسی ترتیب دی ہے جس میں کسانوں کو زیادہ سے زیادہ مالی فائدہ پہنچانے پر زور دیا گیا ہے۔ سرکاری ذرائع نے بتایا ہے کہ پچھلے تین سال پرانی گندم کے ذخائر کو مؤثر انداز میں استعمال کر کے تازہ خریداری پر دباؤ کم کیا گیا اور سپلائی سسٹم کو ہموار کیا گیا۔ وفاقی سطح کے ایک ادارے سے صرف ایک لاکھ ٹن گندم خریدی گئی جبکہ درآمد پر سختی سے احتیاط اختیار کی گئی تاکہ مقامی کاشتکاروں کی قیمتوں میں استحکام برقرار رہے۔حکومت نے ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت کارروائی کو یقینی بنایا اور ذخیرہ جات کی شفاف نگرانی کے ذریعے مارکیٹ میں استحکام پیدا کیا گیا۔ اس حکمت عملی نے مقامی پیداوار پر اعتماد مضبوط کیا اور گندم کی فراہمی کے نظام کو قابل اعتبار بنایا۔ زرعی پالیسی میں یہ اقدامات کسانوں کے مفاد کو مقدم رکھنے کی واضح ترجمانی ہیں۔شدید سیلابی صورتحال کے دوران متاثرہ کسانوں کو خاطر خواہ ریلیف فراہم کرنے کے لیے بیس ہزار روپے فی ایکڑ کے حساب سے معاوضہ دیا گیا، جو مجموعی طور پر بیس ارب روپے تک پہنچا۔ اسی طرح گندم کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے دوران کسانوں کے لیے پندرہ ارب روپے کا ریلیف پیکیج بھی جاری کیا گیا جس کے تحت ہر ایکڑ کو پانچ ہزار روپے دیے گئے تاکہ کسانوں کی مالی مشکلات میں کمی ہو اور وہ اپنی کاشت جاری رکھ سکیں۔زرعی ترقی کے لیے جدیدی اقدامات کے سلسلے میں ایک ہزار ٹریکٹرز کی تقسیم کا اعلان بھی کیا گیا جس کی مجموعی مالیت بارہ سے تیرہ ارب روپے کے قریب بتائی گئی۔ اس اقدام کا مقصد کاشتکاری کے اخراجات کم کرنا اور زرعی مشینی سہولتیں بڑھا کر پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔حکومت کے مطابق یہ تمام اقدامات ایک مربوط حکمت عملی کا حصہ ہیں جو کسانوں کی خوشحالی، زرعی پیداواری صلاحیت میں بہتری اور پنجاب کی دیہی معیشت کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے مرتب کی گئی ہیں۔ عوامی نمائندہ قیادت کے تحت یہ پروگرام مظبوط زرعی نظام اور کسانوں کے مفاد کو اولین ترجیح دینے کا عکاس ہے اور آئندہ فصلوں کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے