اسلام آباد میں جینیاتی امراض پر عالمی تعاون کے لیے ’’فیوچر ہیلتھ 2035‘‘ سمٹ ہوگی

newsdesk
4 Min Read
فیوچر ہیلتھ 2035 سمٹ میں جینیاتی امراض کی روک تھام اور علاج کے لیے قومی و بین الاقوامی تعاون پر غور کیا جائے گا۔

اسلام آباد: پاکستان میں جینیاتی امراض کی روک تھام اور علاج کے لیے قومی و بین الاقوامی سطح پر تعاون بڑھانے کی غرض سے ایک روزہ سمٹ ’’فیوچر ہیلتھ 2035‘‘ جمعہ 13 نومبر کو منعقد ہوگی۔ سمٹ میں ملک اور بیرونِ ملک سے طبی ماہرین، محققین اور صحت کے ادارے شریک ہوں گے۔

یہ تقریب اسٹرائیو ایریڈیکیشن آف ڈس ایبلٹی فاؤنڈیشن کے زیرِ اہتمام پاکستان پاورٹی ایلیوی ایشن فنڈ کے اشتراک سے منعقد کی جا رہی ہے۔ پروگرام میں کانفرنس کے ساتھ ایک ایکسپو بھی شامل ہوگی، جہاں صحت کے شعبے میں ہونے والی نئی پیش رفت اور سہولتوں کو پیش کیا جائے گا۔

منتظمین کے مطابق سمٹ کا بنیادی مقصد جینیاتی اسکریننگ، جلد تشخیص اور جینومک میڈیسن کو پاکستان کے نظامِ صحت میں شامل کرنے کے امکانات کو آگے بڑھانا ہے، تاکہ جینیاتی امراض کی روک تھام، بروقت شناخت اور علاج کے لیے عملی راستے تلاش کیے جا سکیں۔

کانفرنس کے ساتھ منعقد ہونے والی ایکسپو میں تعلیمی اسٹالز، میڈیکل لیبارٹریز، جدید ٹیکنالوجیز اور صحت کے شعبے کی دیگر پیش رفت دکھائی جائے گی۔ بچوں کے لیے الگ فیملی اور پلے ایریا بھی رکھا جائے گا، جبکہ فوڈ اسٹالز کے ذریعے مختلف عمر کے وزیٹرز کے لیے تقریب کو زیادہ دلچسپ بنایا جائے گا۔

اسٹرائیو کے چیف ایگزیکٹو یاسر خان نے کہا کہ جینیاتی بیماریوں کا علاج عموماً نہایت مہنگا ہوتا ہے اور اگر پاکستان میں دستیاب بھی ہو تو متاثرہ برادریوں کی پہنچ سے باہر رہتا ہے۔ ان کے مطابق اسی لیے توجہ آگاہی اور ابھرتی ہوئی طبی ٹیکنالوجیز کے استعمال کے ذریعے جینیاتی امراض کی روک تھام پر مرکوز کی جا رہی ہے۔

یاسر خان نے کہا کہ دنیا بھر میں میڈیکل سائنس، خصوصاً جینوم سیکوینسنگ اور جین ایڈیٹنگ میں ترقی نے بیماریوں کے بہتر انتظام، جسمانی بحالی اور متاثرہ افراد کے لیے زیادہ خودمختار زندگی کے امکانات پیدا کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سمٹ کا مقصد ملکی اور عالمی مہارت کو ایک جگہ اکٹھا کر کے ایسی شراکت داریوں کا جائزہ لینا ہے جو پاکستان بھر میں متاثرہ خاندانوں اور برادریوں کے لیے جدید علاج اور تھراپیز تک رسائی کو آسان بنا سکیں۔

کانفرنس کے دوران دن بھر مختلف سیشنز ہوں گے جن میں موروثی امراض، جینیاتی خطرات کی جانچ، اسکریننگ اور کونسلنگ، درست تشخیص میں جینیاتی ٹیسٹنگ اور جینوم سیکوینسنگ کے کردار پر گفتگو کی جائے گی۔ مباحثوں میں ڈیٹا پرائیویسی، معیار کے اصولوں اور پاکستان میں جینیاتی خدمات تک رسائی بہتر بنانے کے طریقوں کو بھی زیرِ بحث لایا جائے گا۔

سمٹ میں اسپائنل مسکولر ایٹروفی (SMA) اور ڈوشین مسکولر ڈسٹروفی (DMD) پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ کلینیکل جینیٹسٹس اور جینومک سائنس دان اس بات کا جائزہ لیں گے کہ جینیاتی اسکریننگ اور جینومک میڈیسن کس طرح جلد تشخیص اور بہتر طبی فیصلوں میں مدد دے سکتی ہیں۔

بائیومیڈیکل انجینئرنگ کے ماہرین دماغ اور کمپیوٹر کے باہمی رابطے کی ٹیکنالوجی، روبوٹکس اور ذہین مصنوعی اعضا سمیت ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز پر بھی تبادلہ خیال کریں گے، اور یہ دیکھیں گے کہ یہ پیش رفت جسمانی افعال کی بحالی اور نقل و حرکت میں بہتری کے لیے کس حد تک معاون ہو سکتی ہے۔

SMA سے متعلق سیشنز میں تشخیص، بیماری کے بڑھنے کے مراحل، دستیاب علاج اور ان کی افادیت، بحالی اور سانس کی دیکھ بھال پر بات ہوگی۔ مریضوں اور خاندانوں کے تجربات، SMA کی دیکھ بھال میں عالمی پیش رفت، اور پاکستان میں علاج اور معاون سہولتوں تک رسائی بہتر بنانے کے مواقع بھی زیرِ غور آئیں گے۔

Share This Article