قومی فنونِ لطیفہ کونسل اسلام آباد میں 6 مئی 2026 کو وزارتِ قومی ورثہ و ثقافت کے زیر اہتمام معرکہ حق کی پہلی برسی کے موقع پر ایک ثقافتی تقریب منعقد ہوئی جس میں ملک بھر کے گلوکار، موسیقار، فنکار اور رقاص شریک تھے۔ اس شام میں معرکہ حق کی یاد اور شہداء و غازیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے ملی نغمے، موسیقی اور ثقافتی پیشکشیں نمائش کی گئیں۔
اورنگزیب خان کھچی بطور مہمانِ خصوصی تقریب میں موجود تھے اور انہوں نے معرکہ حق کے دوران قوم کے اتحاد اور ثابت قدمی کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ وزیر نے کہا کہ 6 اور 7 مئی کے واقعات قومی تاریخ کا ایک اہم باب ہیں اور شہری آبادی اور عبادت گاہوں پر حملے بین الاقوامی قانون اور انسانی اقدار کی خلاف ورزی تھے۔
وزیر نے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان نے اپنی خودمختاری اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونے دیا اور جواب وقت پر اور مؤثر طریقے سے دیا گیا۔ ان کے بقول یہ محض دفاعی اقدام نہیں بلکہ قومی عزم، حوصلہ اور وقار کا مظہر تھا، اور اس میں مسلح افواج کی موثر کارروائی کا کردار بے حد اہم رہا۔
تقریب میں وزیرِ اعظم شہباز شریف کی قیادت کو سراہا گیا اور چیف آف ڈیفنس فورسز سید عاصم منیر کی حکمتِ عملی اور قیادت کو خاص طور پر خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ وزیر نے کہا کہ پاک افواج نے جارحیت کو پسپا کیا اور عوام کے اعتماد کو مزید مضبوط بنایا، جس سے قومی استحکام کی علامت واضح ہوئی۔
پروگرام میں سندھی، بلوچی، پشتو اور پنجابی زبانوں میں گانے اور ملی نغمے پیش کیے گئے جبکہ گٹار اور دیگر موسیقی کے سیشنز نے بھی محفل کو سجایا۔ اس موقع پر چینی مہمان، خواتین وکلاء، سرکاری افسران، طلبہ اور شہری سماج کے ارکان بڑی تعداد میں موجود تھے جنہوں نے ثقافتی رنگا رنگی کو سراہا۔
وزارتِ قومی ورثہ و ثقافت نے ثقافتی ورثے کو فروغ دینے اور قومی ہیروز کو اجاگر کرنے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے قومی فنونِ لطیفہ کونسل اور دیگر اداروں کی کوششوں کو سراہا۔ وزیر نے قوم سے اپیل کی کہ وہ ملک کی سلامتی، ترقی اور خوشحالی کے لیے متحد رہیں اور معرکہ حق میں شہید اور غازی بننے والوں کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھیں۔
