وفاقی وزیر نے صحت میں روک تھام کو اولین ترجیح قرار دیا

newsdesk
4 Min Read
وفاقی وزیر نے پاکستان چین علمی کانفرنس میں صحت کو علاج سے روک تھام کی طرف منتقل کرنے کی ضرورت اور نئی حکمتِ عملی کا اعلان کیا۔

سید مصطفیٰ کمال نے پاکستان چین بین الاقوامی علمی کانفرنس میں کہا کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے تناظر میں صحت اور تغذیہ کے مسائل کو اولین ترجیح دینا ضروری ہے۔ انہوں نے کانفرنس میں شریک محققین، اساتذہ اور صحافتی نمائندوں کی شمولیت کی قدر دانی کی اور کہا کہ ایسے علمی فورم معلومات کے تبادلے اور بین الاقوامی تعاون کے لیے اہم ہیں۔وزیر نے واضح کیا کہ پاکستان دنیا کے بڑے آبادی والے ممالک میں شامل ہے اور اسی وجہ سے بڑے پیمانے پر عوامی صحت کے مسائل کا موثر حل ایک بڑا چیلنج ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ نظام عموماً بیماری کے بعد ردِعمل کرتا ہے جبکہ اصل ضرورت یہ ہے کہ ہم اپنی توجہ علاج سے ہٹا کر روک تھام کی طرف منتقل کریں۔”روک تھام علاج سے بہتر ہے”، ان الفاظ کے ساتھ انہوں نے زور دیا کہ ہسپتالوں پر بوجھ اس نظام کا نتیجہ ہے جو مریضی کے بعد ہی حرکت میں آتا ہے۔ وزیر نے کہا کہ صرف نئے ہسپتال بنانا اور مزید ڈاکٹروں کی بھرتی مسئلے کا حل نہیں؛ ضروری یہ ہے کہ مجموعی نظام کو مضبوط بنایا جائے تاکہ لوگ ہسپتالوں میں داخل ہونے کی ضرورت ہی کم محسوس کریں۔کووڈ کی وبا سے سیکھی گئی کہانیاں پیشِ نظر رکھتے ہوئے وزیر نے بتایا کہ حتیٰ کہ ترقی یافتہ نظام بھی اچانک مریضوں کے بڑھتے ہوئے ہجوم میں دب سکتے ہیں، اس لیے ابتدائی مرحلے میں درست حکمتِ عملی اختیار کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ تجربہ کی جگہ اب فیصلہ سازی کا وقت ہے اور غلطیوں کی گنجائش باقی نہیں رہی۔وزارتِ قومی صحت، ضوابط و ہم آہنگی نے بین الاقوامی ماہرین کے مشورے سے ایک نئی حکمتِ عملی تیار کی ہے جس کا مقصد ہسپتالوں پر بوجھ کم کرنا اور عوام میں صحت مند طرزِ زندگی کو فروغ دینا ہے۔ وزیر نے کہا کہ عالمی سائنسدانوں کے ساتھ تعاون پاکستان کو درست سمت میں لے جا سکتا ہے اور اس سلسلے میں فوری فیصلوں کی ضرورت ہے۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جدید طبی نظام کے ساتھ ساتھ روایتی علاجی نظامات کو ضم کرنا ضروری ہے، جن میں جڑی بوٹیوں کا استعمال، چینی اور یونانی نظامِ طب کے عناصر شامل ہیں۔ وزیر نے کہا کہ اُبھرتی ہوئی تحقیق اس بات کی تائید کرتی ہے کہ طرزِ زندگی سے متعلق طبی نقطۂ نظر پائیدار حل فراہم کر سکتا ہے۔سید مصطفیٰ کمال نے نشاندہی کی کہ فطرت سے دوری здоровье کے مسائل میں اضافے کا باعث بن رہی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ سائنسی ترقی کو انسانی فلاح اور قدرتی قوانین کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے تاکہ مضبوط اور صحت مند معاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہ وقت ہے جب تجرباتی رہنمائی ختم کر کے عالمی معیار کی مسابقت کے لیے قدم اٹھانے ہوں گے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے