نوید ستی
اسلام آباد: وفاقی کالج آف ایجوکیشن میں ایک طالبہ کے ساتھ پیش آنے والے مبینہ واقعے سے متعلق شکایت نے ادارے میں طلبہ کے معاملات کو نمٹانے کے طریقہ کار کو توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔
تحریری شکایت کے مطابق بی ایس ایڈ مکمل کرنے والی طالبہ اپنے کیس کی تازہ صورتحال معلوم کرنے کے لیے کالج انتظامیہ کے پاس گئی تھی۔ طالبہ نے الزام عائد کیا کہ ملاقات کے دوران اسے ڈانٹا گیا اور اس کے والدین سے متعلق ایسے الفاظ کہے گئے جنہیں اس نے غیر مناسب سمجھا۔
شکایت کے جواب میں ڈاکٹر نادیہ نے طالبہ کے بیان کو درست تسلیم نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبہ نے مقررہ طریقہ کار پر عمل نہیں کیا۔ ڈاکٹر نادیہ کے مطابق وہ اس وقت کالج میں موجود تھیں اور طالبہ کا تھیسس نامکمل تھا، جس کی بنا پر اسے سرزنش کی گئی۔
واقعے کے بارے میں دونوں جانب سے الگ الگ مؤقف سامنے آیا ہے۔ دستیاب معلومات سے فی الحال یہ طے نہیں کیا جا سکتا کہ طالبہ کے ساتھ واقعی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا یا کالج انتظامیہ کا ردعمل صرف تعلیمی یا طریقہ کار سے متعلق معاملے کی وجہ سے تھا۔
وفاقی کالج آف ایجوکیشن وفاقی نظام تعلیم کا حصہ ہے، اس لیے متعلقہ حکام کے لیے ضروری ہو سکتا ہے کہ وہ دستیاب ریکارڈ کا جائزہ لیں، دونوں فریقوں کا مؤقف سنیں اور غیر جانبدارانہ طریقے سے حقائق واضح کریں۔ اگر کسی کارروائی کی ضرورت ہو تو اس کا فیصلہ مجاز اتھارٹی کی findings کی روشنی میں کیا جا سکتا ہے۔
