دمدمہ مندر کے کشمیری مہاجرین کی بے دخلی

newsdesk
4 Min Read
راولپنڈی کے دمدمہ مندر میں بسے کشمیری مہاجرین کو محکمہ اوقاف نے بے دخلی کا نوٹس جاری کیا، رہائش اور حقوق کی فوری فراہمی کا مطالبہ کیا گیا

راولپنڈی میں قائم دمدمہ مندر کا دورہ پاکستان پیپلز پارٹی آزاد جموں و کشمیر کے سٹی صدر راجہ سلطان صلاح الدین اور سٹی جنرل سیکرٹری راجہ عبدالروف نے کیا اور دمدمہ مندر میں رہائش پذیر متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی۔ دورے کے دوران آمین قریشی، راشد قریشی، زیشان سونو اور طاہر میر سمیت مقیم رہائشیوں نے اپنی خستہ حال رہائش اور در پیش مسائل سے آگاہ کیا۔
یہ خاندان ۱۹۴۷ کی ہجرت کے بعد سے تقریباً ۷۰ سال سے اسی مقام پر آباد ہیں اور اپنے قدیم رہائشی رشتہ کے باوجود مستقل حقوق اور بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ مقیم خاندانوں نے محدود وسائل کے تحت خود مرمت کر کے زندگی کا سلسلہ چلایا مگر حکومتی سطح پر مستقل آبادکاری یا مالکانہ حقوق کا کوئی حل فراہم نہیں کیا گیا۔
دمدمہ مندر میں رہائش کا حالیہ جائزہ بتاتا ہے کہ ایک ایک کمرے میں دو دو خاندان رہنے پر مجبور ہیں، پانی اور گیس کی شدید قلت ہے اور بیت الخلاء کی ایسی حالت ہے کہ ایک ہی بیت الخلاء کو دو خاندان مشترکہ طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ یہ حالات رہائشی حقوق اور انسانی بنیادوں پر سنگین تشویش کا باعث ہیں۔
دورے کے بعد سٹی صدر راجہ سلطان صلاح الدین نے میڈیا کو بتایا کہ محکمہ اوقاف نے بغیر متبادل انتظام کے یہاں کے ۲۵ خاندانوں کو بے دخلی کا نوٹس جاری کر دیا ہے۔ انہوں نے متاثرین کے ساتھ مکمل یکجہتی اور قانونی و اخلاقی مدد کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ اس طرح کے اقدامات واضح سیاسی دباؤ معلوم ہوتے ہیں جو انتخابات کے قریب مقاصد حاصل کرنے کی کوشش قرار پاتے ہیں۔
سٹی صدر نے وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فیصل ممتاز راٹھور سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ اس سنگین مسئلے کا فوری نوٹس لیں اور انسانی ہمدردی، آئین اور مہاجرین کے حقوق کو مدنظر رکھ کر مناسب احکامات جاری کریں۔ ان مطالبات میں دمدمہ مندر میں مقیم کشمیری مہاجرین کو مالکانہ حقوق دینا، کسی بھی قسم کی زبردستی بے دخلی کو فوری طور پر روکنا، سرکاری مجبوری کی صورت میں متبادل بستیاں فوری فراہم کرنا اور کشمیری مہاجرین کی مستقل آبادکاری کے لیے جامع عملی پالیسی بنانا شامل ہیں۔
اس کے علاوہ سٹی صدر نے مطالبہ کیا کہ پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کے لیے ملازمت اور تعلیمی کوٹہ بحال کیا جائے تاکہ ان کے بنیادی حقوق کا تحفظ ممکن ہو۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب سے بھی اس واقعے کا نوٹس لینے کی گزارش کی اور کہا کہ پنجاب میں رہنے والے یہ مہاجرین بھی صوبے کا حصہ ہیں اور ان کے مسائل کا فوری حل ضروری ہے۔
دورے کے اختتام پر راجہ سلطان صلاح الدین نے کہا کہ وہ متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑے رہیں گے اور قانونی و سیاسی دائرے میں ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے کارروائی کریں گے تاکہ دمدمہ مندر کے رہائشیوں کو باعزت اور مستقل رہائش میسر ہو سکے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے