بینکوں کے لیے جامع استثنا زیرِ بحث

newsdesk
3 Min Read
اسٹینڈنگ کمیٹی نے بینکوں اور عہدیداروں کے 'اچھے نیت' کے تحت وسیع قانونی مدافعت پر اعتراض کیا، جائیداد ضبطی شقوں میں توازن اور اپیل کے حقوق مانگے

اسٹینڈنگ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات نے قانون میں تجویز کردہ ایسی تحفظاتی شقوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے جو بظاہر بینکوں اور ان کے عہدیداروں کو غیر محدود قانونی حفاظت فراہم کر سکتی ہیں۔ کمیٹی کے چیئرمین سید نوید قمر نے واضح کیا کہ بینکوں کا استثنا کسی بھی معاملے میں یکطرفہ نہیں ہونا چاہئے بلکہ قانون میں مساوی اطلاق یا شفاف حدود ضروری ہیں۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقدہ کلوز بہ کلوز جائزے کے دوران کمیٹی نے مالیاتی اداروں کی بازیابی کے قانون میں متوقع ترامیم کا تفصیلی مطالعہ کیا اور خاص طور پر سیکشن پندرہ اے جس کا تعلق رہائشی قرضہ اور جائیداد ضبطی کے طریقہ کار سے ہے، اس پر سخت بحث ہوئی۔ ممبران نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر یہ شقیں بلا روک ٹوک منظور ہو گئیں تو عام قرض وصولی کے بجائے فقیر اور عارضی طور پر مقروض شہریوں کے لئے بے رحمانہ نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
کمیٹی نے تسلیم کیا کہ بینکوں اور مالیاتی اداروں کو ڈیفالٹ شدہ قرضے کی وصولی کے لیے قانونی سہولیات درکار ہیں، مگر اس کے ساتھ ساتھ بینکوں کا استثنا ایسے طریقے سے نہیں دیا جانا چاہئے جس سے اداروں کی من مانی یا بلاجواز کارروائیوں کو فروغ ملے۔ ممبران نے زور دیا کہ بازیابی کے نئے فریم ورک میں شفاف احتساب، اپیل کے موثر ذرائع اور متاثرہ افراد کے لیے معقول قانونی تحفظات شامل کیے جائیں۔
چیئرمین سید نوید قمر نے اس بارے میں سخت اعتراض اٹھایا کہ قانون میں عام طور پر شامل کر دی جانے والی ایسی بلا تفریق ضمانتی شقیں جو ‘اچھے نیت’ کے عنوان کے تحت وسیع مدافعت فراہم کرتی ہیں، کسی بھی بل میں بطور معمول شامل نہیں کی جانی چاہئیں بلکہ ہر نکتے کی باریک بینی سے جانچ ہونی چاہئے۔ ان کی رائے تھی کہ عام طرزِ عمل کے طور پر ایسی بوند بوند شقیں قانون سازی کی روح کے منافی ہیں۔
کمیٹی نے وسیع تر رجحان پر تشویش کا اظہار کیا جس میں اداروں کو بے قید اختیارات دیے جاتے ہیں مگر ان اختیارات کے ساتھ موافق احتسابی میکانزم میسر نہیں ہوتے۔ اس نقطۂ نظر کے تحت ممبران نے مطالبہ کیا کہ کسی بھی نئے ری فریم ورک میں متاثرہ افراد کے لیے شفا ف ثالثی، اپیل کے مواقع اور عملی ری میڈیز کا واضح انتظام ہو۔
بالآخر کمیٹی نے متعلقہ وزارت اور اسٹیک ہولڈرز کو ہدایت کی کہ وہ اپنی متفقہ تجاویز اور مشاہدات کو مسودے میں شامل کریں تاکہ بل کو آئندہ کاروائی کے لیے پیش کرنے سے قبل درکار شفافیت اور توازن برقرار رہے۔ قانون سازی سے قبل ان تراکیب کو مربوط کرنا کمیٹی کا واضح مطالبہ رہا تاکہ بینکوں کا استثنا ناانصافی کا ذریعہ نہ بنے اور عام شہریوں کے حقوق محفوظ رہیں۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے