آبنائے ہرمز میں ایران کی ابھرتی طاقت

newsdesk
9 Min Read
ایران کی دفاعی پیشرفت اور آبی گزرگاہ پر اثرات، علاقائی توازن اور پاکستان کی ثالثی کی موجودہ تصویر کا تجزیہ۔

​آبنائے ہرمز میں ایران کا آہنی مککا: امریکی تسلط کا خاتمہ اور مغربی "کاغذی معیشت” کی تباہی۔

​تحریر و تجزیہ: چنگیزخان جدون۔

ایک نئے عالمی نظام کا طلوع ​مشرق وسطیٰ کی سیاست اور جغرافیہ اس وقت ایک ایسی تبدیلی سے گزر رہا ہے جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ برسوں سے جاری امریکی تسلط اور اسرائیلی جارحیت کے بادل اب چھٹ رہے ہیں اور افق پر ایران ایک ناقابل شکست قوت بن کر ابھرا ہے۔ حالیہ واقعات نے ثابت کر دیا ہے کہ اب خطے کے فیصلے واشنگٹن کے بند کمروں میں نہیں بلکہ تہران کی اسٹریٹجک گلیوں اور خلیج فارس کی لہروں پر ہو رہے ہیں۔
​​ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے اعلیٰ حکام کا حالیہ بیان کہ "ہم اپنے سسٹمز کو اپ گریڈ کرنے اور جدید ترین فضائی دفاعی صلاحیتوں کی طرف بڑھنے میں کامیاب ہو گئے ہیں”، محض ایک جملہ نہیں بلکہ ایک عسکری انقلاب کا اعلان ہے۔ ​ایران نے گزشتہ دہائی میں اپنی مقامی دفاعی صنعت پر جو سرمایہ کاری کی، اس کا ثمر اب نظر آ رہا ہے۔ دنیا کے جدید ترین لڑاکا طیارے، جنہیں امریکہ "ناقابل تسخیر” قرار دیتا تھا، اب ایرانی ریڈارز کی زد میں ہیں۔ IRGC کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ ان کے نئے دفاعی نظام نے نہ صرف دشمن کے اسٹیلتھ طیاروں کو ٹریک کیا بلکہ انہیں یہ پیغام بھی دیا کہ ایرانی سرحدوں کی خلاف ورزی کا انجام عبرت ناک ہوگا۔ یہ پیشرفت اسرائیل کے لیے ایک ڈراؤنا خواب ہے، جو ہمیشہ اپنی فضائی برتری کے زعم میں پڑوسی ممالک پر حملے کرتا رہا ہے۔
​​ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے حالیہ بیان میں مغربی معیشت کے بخیے ادھیڑ کر رکھ دیے ہیں۔ انہوں نے مغربی نظام کو "وائب اکانومی” (Vibe Economy) قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ نظام حقیقت کے بجائے صرف جذبات اور مفروضوں پر کھڑا ہے۔ ​جب ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان کیا، تو پوری دنیا کی اسٹاک مارکیٹس لرز اٹھیں۔ حالیہ کارروائیوں میں،
​بوٹسوانا اور انگولا کے جھنڈوں تلے چلنے والے دو بڑے تیل بردار جہازوں کو ایرانی بحری فوج نے واپس موڑ دیا۔
​یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب تہران نے واضح کر دیا تھا کہ جب تک ایران کے خلاف معاشی دہشت گردی بند نہیں ہوتی، یہ آبی گزرگاہ کسی کے لئے محفوظ نہیں ہوگی۔
​اس اقدام نے ثابت کیا کہ ایران صرف دھمکیاں نہیں دیتا بلکہ عمل کرنے کی بھرپور طاقت رکھتا ہے۔ ​ایک طرف امریکہ ایران پر پابندیاں لگاتا ہے، تو دوسری طرف صدر ڈونلڈ ٹرمپ نیویارک پوسٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے ایرانی قیادت سے ملنے کی خواہش ظاہر کرتے ہیں۔ ٹرمپ کا یہ کہنا کہ "اگر مذاکرات میں کوئی بریک تھرو ہوا تو میں ایرانی قیادت سے ملنا چاھوں گا”، دراصل امریکہ کی کمزوری کا اعتراف ہے۔
​ٹرمپ انتظامیہ اب یہ جان چکی ہے کہ وہ ایران کو جنگ کے ذریعے زیر نہیں کر سکتے۔ اسی لیے وہ اپنے نائب صدر جے ڈی وینس کو بار بار پاکستان بھیج رہے ہیں تاکہ کسی طرح تہران تک رسائی حاصل کی جا سکے۔ نور خان ایئر بیس پر امریکی C-17 طیاروں کی لینڈنگ اور جے ڈی وینس کی آمد اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ وائٹ ہاؤس اب "بیک ڈور ڈپلومیسی” کے لیے منتیں کر رہا ہے۔
​​اس پوری صورتحال میں پاکستان کا کردار ایک مرکزی محور کی طرح ابھرا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے اعلیٰ سطح کے مشاورتی اجلاس اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے۔
​تاہم، سب سے اہم پہلو فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کردار ہے۔ برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق، فیلڈ مارشل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے براہ راست گفتگو میں واضح کیا کہ جب تک امریکہ اپنی پالیسیاں نہیں بدلتا، آبنائے ہرمز کی بندش مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ رہے گی۔ ٹرمپ کا فیلڈ مارشل کو یہ یقین دلانا کہ وہ اس مشورے پر غور کریں گے، پاکستانی عسکری قیادت کی عالمی سفارتی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ ​امریکہ نے اپنی روایتی بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایرانی بحری جہاز "ٹوسکا” پر قبضہ کر لیا۔ امریکی حکام نے اسے "بلاک توڑنے کی سزا” قرار دیا، لیکن حقیقت میں یہ بین الاقوامی سمندری قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ​ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اسے "مجرمانہ ناکہ بندی” قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی گردانا ہے۔ ایران نے واضح کر دیا ہے کہ اس طرح کے اوچھے ہتھکنڈے اس کے ارادوں کو کمزور نہیں کر سکتے۔ یمن کی مسلح افواج (انصار اللہ) نے بھی اعلان کر دیا ہے کہ اگر امریکہ نے اشتعال انگیزی بند نہ کی تو وہ باب المندب کو بھی قبرستان بنا دیں گے۔
​​بیلاروسی صدر الیگزینڈر لوکاشینکو نے عالمی میڈیا کے سامنے امریکہ کو آئینہ دکھاتے ہوئے کہا: "ٹرمپ کی پالیسیوں نے ظاہر کر دیا کہ امریکہ اتنا طاقتور نہیں جتنا اسے سمجھا جاتا تھا۔ اگر امریکہ ایک ایران سے نہیں جیت سکا، تو وہ چین جیسی بڑی طاقت کا مقابلہ کیسے کرے گا؟” یہ جملہ عالمی سیاست میں بدلتے ہوئے رجحانات کی عکاسی کرتا ہے۔ آج دنیا کا ہر ملک یہ دیکھ رہا ہے کہ ایران نے اکیلے دم پر پوری مغربی قوت کو ناک رگڑنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ​تہران کے آزادی ٹاور پر جب "میناب اسکول کے شہدا” کی تصاویر اور ویڈیوز دکھائی گئیں، تو وہ صرف ایک خراجِ عقیدت نہیں تھا، بلکہ امریکہ کے خلاف نفرت کا ایک نیا اعلان تھا۔ امریکی حملے میں شہید ہونے والے ان معصوم بچوں کا خون آج ایران کے ہر میزائل اور ہر ڈرون کی طاقت بن چکا ہے۔ ​ایرانی نوجوانوں نے بھی اس جنگ میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔ LEGO Animations کے ذریعے جس طرح امریکی اور اسرائیلی جنگی جرائم کو دنیا کے سامنے پیش کیا گیا، اس نے مغربی میڈیا کے پروپیگنڈے کو خاک میں ملا دیا ہے۔ یہ تخلیقی مزاحمت ثابت کرتی ہے کہ ایران کی نئی نسل اپنے نظریات اور اپنی زمین کے دفاع کے لیے پوری طرح بیدار ہے۔ ​ایرانی قومی سلامتی کمیٹی نے اپنا موقف دو ٹوک الفاظ میں پیش کر دیا ہے کہ
​ایران مذاکرات سے نہیں ڈرتا، لیکن وہ اپنے مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
​اگر امریکہ "میکسیمم پریشر” کی پالیسی جاری رکھے گا، تو ایران "میکسیمم ریزسٹنس” دکھائے گا۔ ​پاکستانی ثالثی کی قدر کی جاتی ہے، لیکن امریکہ کو اپنے رویے میں تبدیلی لانی ہوگی۔ ​وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزیشکیان کے درمیان 45 منٹ طویل ٹیلیفونک گفتگو نے ثابت کیا کہ دونوں برادر ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا موجود ہے۔ وزیراعظم نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے لئے اپنے احترام کا اظہار کر کے یہ واضح کر دیا کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات کسی بھی امریکی دباؤ سے بالاتر ہیں۔ ​آج کا ایران 1979 کا ایران نہیں ہے۔ آج کا ایران ایک ایسی ایٹمی دہلیز پر کھڑی قوت ہے جس کے پاس جدید ترین میزائل ٹیکنالوجی، باصلاحیت قیادت اور ایک پرعزم قوم ہے۔ اسرائیل کی پراکسیز اور امریکی پابندیاں اب اپنی تاثیر کھو چکی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی لہریں پکار پکار کر کہہ رہی ہیں کہ مغرب کا سورج غروب ہو رہا ہے اور مشرق کا ستارہ، یعنی اسلامی جمہوریہ ایران، اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا ہے۔ ​امریکہ کے پاس اب صرف دو راستے ہیں، یا تو وہ ایران کو ایک برابر کی طاقت تسلیم کرکے خطے سے پرامن طور پر نکل جائے، یا پھر ایک ایسی جنگ کے لیے تیار ہو جائے جو تاریخ سے امریکہ کا نام و نشان مٹا دے گی۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے