اعلیٰ سطحی ملاقات میں آزاد کشمیر میں صنعت و تجارت کے فروغ کے لیے عملی اقدامات اور رکاوٹوں کے خاتمے پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے آزاد کشمیر کی کاروباری برادری کو درپیش مسائل خصوصاً صنعت و تجارت کے حوالے سے وزیراعظم کو براہِ راست آگاہ کیا اور ڈبل ٹیکسیشن اور لاجسٹکس کی مشکلات کو فوری طور پر دور کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
ملاقات میں مشیر صنعت فہد یعقوب، نائب صدر ایف پی سی سی آئی طارق جدون اور چیئرمین کیپیٹل آفس کریم عزیز ملک بھی شریک تھے اور انہوں نے علاقے میں سرمایہ کاری اور کاروباری سہولتوں کے فروغ کے لیے ممکنہ انتظامی اور مالیاتی تجاویز پیش کیں۔ صنعت و تجارت کے فروغ کے لیے ٹیکس کے ڈھانچے اور نقل و حمل کے نظام میں اصلاحات کو لازم قرار دیا گیا۔
وزیراعظم آزاد کشمیر سردار فیصل راٹھور نے کاروباری برادری کو خوش آمدید کہا اور بتایا کہ حکومت کاروباری حلقوں کے ساتھ مشاورت کے بعد مسائل کے حل کے لیے پائیدار اقدامات کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کی انتظامیہ تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گی تاکہ سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کی جا سکے۔
ملاقات میں سیلز ٹیکس اور ڈرائی پورٹ جیسے اہم امور پر بھی تفصیلی مشاورت ہوئی اور کہا گیا کہ ٹیکس کے ہم آہنگ اصول اور بہتر لاجسٹک روابط کاروبار کو تقویت دیں گے۔ عاطف اکرام شیخ نے زور دیا کہ ڈبل ٹیکسیشن ختم کی جائے تاکہ کاروباری سرگرمیاں تیز ہوں اور خطے میں معاشی سرخیاں بڑھیں۔
شرکاء نے آزاد جموں و کشمیر کی سیاحتی صلاحیتوں کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ وادی کی خوبصورتی میں سیاحت کا بے پناہ امکان ہے، جسے مقامی اور ملک گیر کاروباری برادری مل کر فروغ دے گی۔ ملاقات میں یہ بھی اعلان کیا گیا کہ پاکستان کی کاروباری کمیونٹی آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں سیاحت کے فروغ کے لیے تعاون کرے گی۔
مزید برآں، صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے آزاد کشمیر میں ہائیڈل پاور پروجیکٹس لگانے کی پیشکش کی تاکہ توانائی کے مسائل حل ہوں اور صنعتی ترقی کو مستقل بنیاد ملے۔ ملاقات میں حکومت اور نجی شعبے کے درمیان شراکت داری کو مضبوط کرنے پر اتفاق ہوا تاکہ صنعت و تجارت کو فروغ دینے کے عملی راستے نکالے جائیں۔
