اسلام آباد، 15 اگست 2026: پاکستان کے سیاحتی شعبے نے ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ مستقبل کی جانب ایک اور قدم بڑھاتے ہوئے مصنوعی ذہانت پر مبنی ڈیجیٹل ٹورازم ایکو سسٹم GOPKZ کا آغاز کر دیا۔ افتتاحی تقریب کی قیادت وزیرِاعظم کے مشیر اور نیشنل کوآرڈینیٹر برائے سیاحت سردار یاسر الیاس خان نے بطور مہمانِ خصوصی کی۔
اسلام آباد کے ایک مقامی ہوٹل میں منعقدہ تقریب میں پاکستان کی سیاحتی صنعت، سفارتی برادری اور نجی شعبے کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر ملک کی وسیع سیاحتی استعداد اور اسے ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور عالمی منڈیوں سے منسلک کرنے کی بڑھتی ہوئی ضرورت کو اجاگر کیا گیا۔
سردار یاسر الیاس خان پاکستان کی سیاحتی صنعت کی ترقی اور عالمی سطح پر تشہیر کے لیے ایک نمایاں آواز کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ وہ نجی شعبے کی زیادہ مؤثر شمولیت، سرمایہ کاری اور جدید انفراسٹرکچر کے ذریعے پاکستان کی سیاحتی صلاحیت کو پائیدار معاشی موقع میں تبدیل کرنے پر زور دیتے رہے ہیں۔ GOPKZ کی افتتاحی تقریب میں ان کی موجودگی قومی سطح کی سیاحتی قیادت اور ٹیکنالوجی کی بنیاد پر نجی شعبے کی کوششوں کے درمیان بڑھتے ہوئے اشتراک کی عکاس تھی، جس کا مقصد پاکستان کو بین الاقوامی مسافروں کے لیے زیادہ قابلِ رسائی اور مسابقتی منزل بنانا ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سردار یاسر الیاس خان نے کہا کہ پاکستان کی بے پناہ سیاحتی صلاحیت سے فائدہ اٹھانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے ایسے ماحول کی تشکیل پر زور دیا جس میں جدت، سرمایہ کاری اور نجی کاروباری سرگرمیاں سیاحت کے شعبے کی ترقی میں بامعنی کردار ادا کر سکیں۔
GOPKZ رہائش، ٹورز، تجربات، ٹرانسپورٹ اور ذہین سفری منصوبہ بندی کو ایک ہی ڈیجیٹل نظام میں یکجا کرتا ہے۔ اس پلیٹ فارم کا مصنوعی ذہانت سے چلنے والا ٹریول کمپینئن ’’نگہبان‘‘ مسافروں کو یہ سہولت دیتا ہے کہ وہ سادہ ہدایات یا prompts کے ذریعے اپنی ضروریات بیان کریں اور اس کے جواب میں اپنی پسند اور ضرورت کے مطابق سفری تجاویز اور حل حاصل کریں۔
اس منصوبے کی قیادت صدیقی ہاسپیٹلٹی اور GOPKZ کے گروپ ایگزیکٹو نائب صدر محمد شہروز حبیب کر رہے ہیں، جنہوں نے پلیٹ فارم کی حکمتِ عملی، تیاری اور نفاذ کی نگرانی کی۔ افتتاحی تقریب میں پی ٹی ڈی سی کے منیجنگ ڈائریکٹر آفتاب الرحمان رانا، سفارت کاروں، سیاحت کے نمائندوں اور کارپوریٹ کمیونٹی کے ارکان نے بھی شرکت کی۔
پاکستان کے لیے ٹیکنالوجی سے مربوط سیاحت کی اہمیت محض سہولت تک محدود نہیں۔ ملک کے پاس گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے بلند و بالا پہاڑوں سے لے کر تاریخی شہروں، ثقافتی ورثے اور ساحلی مقامات تک غیر معمولی سیاحتی اثاثے موجود ہیں۔ تاہم یہ شعبہ اب بھی ڈیجیٹل انضمام، رابطہ کاری اور سیاحوں کے لیے معلومات، منصوبہ بندی اور خدمات تک آسان رسائی جیسے چیلنجز سے دوچار ہے۔
GOPKZ جیسے مصنوعی ذہانت پر مبنی پلیٹ فارمز کا سامنے آنا ان خامیوں کو کم کرنے کا ایک موقع فراہم کرتا ہے۔ اس کے ذریعے بکھری ہوئی سیاحتی خدمات کو ایک جگہ جمع کیا جا سکتا ہے اور ملکی و غیر ملکی مسافروں کو پاکستان کو دریافت کرنے کا زیادہ ذاتی، آسان اور مؤثر طریقہ میسر آ سکتا ہے۔
محمد شہروز حبیب نے کہا کہ پاکستان کی سیاحتی صلاحیت کو ٹیکنالوجی، مواقع اور وسیع تر دنیا سے جوڑنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق مضبوط قومی قیادت اور نجی شعبے کی جدت مل کر ملک کی سیاحتی صنعت کے لیے نئے امکانات پیدا کر سکتی ہے۔
GOPKZ کا آغاز پاکستان کے بدلتے ہوئے ڈیجیٹل سیاحتی منظرنامے میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ یہ اقدام اس وسیع کوشش کی بھی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت پاکستان کو ایک جدید، مسابقتی اور ٹیکنالوجی سے آراستہ عالمی سیاحتی منزل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جہاں قومی سیاحتی قیادت اور مقامی جدت مل کر ملک کی وسیع سیاحتی صلاحیت کو عالمی سطح پر قابلِ رسائی معاشی موقع میں تبدیل کرنے کے لیے کام کر رہی ہیں۔
