قومی اسمبلی کا ووٹ قوم کی امانت ہے

newsdesk
3 Min Read
معروف محقق ڈاکٹر عبد الروف نے کہا ووٹ قوم کی امانت ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ صرف پندرہ فیصد اہل کو ووٹ دیتے ہیں جبکہ پینتیس فیصد غیر اہل کو دیتے ہیں۔

معروف محقق ڈاکٹر عبد الروف نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں ووٹ کے حوالے سے اپنی تحقیق کے نتائج پیش کرتے ہوئے کہا کہ ووٹ قوم کے پاس ایک امانت ہے اور اس کا حقدار صرف وہی شخص ہے جو اہل ہو۔ اُنھوں نے واضح کیا کہ غیر اہل شخص کو ووٹ دینا نہ صرف ایک جرم ہے بلکہ دینی نافرمانی شمار ہوتا ہے کیونکہ ہمارے دین میں امانت کو اس کے اہل کو دینے کا حکم ہے۔تحقیق کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں پچاس فیصد لوگ ووٹ جیسا فرض ادا نہیں کرتے۔ جو باقی پچاس فیصد ووٹرز ہیں اُن میں سے پینتیس فیصد ووٹ غیر اہل کو دے دیتے ہیں اور محض پندرہ فیصد ووٹ اہل افراد کو دیتے ہیں۔ ڈاکٹر عبد الروف نے کہا کہ جن ممالک نے ہم سے بعد میں آزادی حاصل کی وہ آج ہمیں پیچھے نہیں چھوڑے بلکہ ہم اُن کے مقابلے میں پیچھے رہ گئے ہیں، اس کا سبب عوامی شعور اور انتخابی رویے ہیں۔ڈاکٹر صاحب نے تأکید کی کہ قومی ووٹ ایک بہت بڑی نعمت ہے اور ووٹرز کی درست کولیکشن کے لیے ڈیٹا بیس ہونا چاہیے تاکہ معلوم ہو سکے کہ کتنے ووٹ اہل کو دیے گئے اور کتنے نااہل کو۔ اُن کا کہنا تھا کہ ہمارا سب سے بڑا زمرہ ووٹ نہ دینے والوں کا ہے اور اس کے بعد وہ طبقہ ہے جو غیر اہل کو ووٹ دیتا ہے، جبکہ صحیح راستہ یہ ہے کہ اہل کو ووٹ دیا جائے اور غیر اہل کو ووٹ دینا ترک کیا جائے۔دینی حوالے سے اُنہوں نے کہا کہ ووٹ مانگنا دین میں جائز نہیں اور جو لوگ عہدے کے لیے ووٹ مانگتے ہیں وہ اپنے عہدے پر فائز ہونے کے فیصلے میں خود کو شامل کرتے ہیں۔ مزید کہا گیا کہ جو برا عمل ہو رہا ہے اور اسے دیکھ کر روکا نہ جائے تو وہ بھی اس برائی کا شریک ہوتا ہے۔ اور جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب امانت ضائع کی جائے تو قیامت کا انتظار کرو۔ڈاکٹر عبد الروف نے یہ واضح کیا کہ ہمیں اہل اور غیر اہل میں فرق کرنا ہوگا اور اجتماعی طور پر کوشش کرنی چاہیے کہ ووٹنگ کا عمل اہل افراد کے حق میں ہو تاکہ قومی ووٹ کی حرمت برقرار رہ سکے اور عوامی ذمہ داری کا احساس پیدا ہو۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے