اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ پاکستان اور آذربائیجان کے تعلقات اب روایتی سفارتی دوستی تک محدود نہیں رہے بلکہ تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، رابطہ کاری، دفاع، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پر مشتمل ایک مضبوط اور ہمہ جہت شراکت داری کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔
آذربائیجان کے یومِ فتح کی چھٹی سالگرہ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ دن پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان گہری دوستی، باہمی اعتماد، احترام اور مشترکہ اقدار کا نمایاں اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات وقت کے ساتھ مزید مستحکم ہوئے ہیں اور مختلف شعبوں میں تعاون نئی سمتوں میں آگے بڑھ رہا ہے۔
شزہ فاطمہ خواجہ نے ڈیجیٹل شعبے میں تعاون کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ رواں سال اسلام آباد میں آذربائیجان کے تعاون سے قائم ہونے والا آسان خدمت سروس سینٹر دونوں ممالک کی دوستی کا عملی نمونہ ہے۔ ان کے مطابق یہ مرکز آذربائیجان کے صدر کی جانب سے پاکستان کے لیے ایک خوبصورت تحفہ ہے اور اس سے شہریوں کو ایک ہی چھت تلے سہولتوں کی فراہمی کے وژن کو تقویت ملی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ اسلام آباد میں آسان خدمت سروس سینٹر کا قیام وزیراعظم محمد شہباز شریف کے وژن کا تسلسل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے بطور وزیراعلیٰ پنجاب ایسے متعدد سہولت مراکز قائم کیے تھے جہاں عوام کو مختلف خدمات ایک ہی مقام پر دستیاب ہوتی تھیں۔ بعد ازاں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے گزشتہ سال دورۂ باکو کے دوران آذربائیجان سروس سینٹر کا دورہ کیا، جہاں آذربائیجان کے صدر الہام علییف اور وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں اسی طرز کا مرکز قائم کرنے پر اتفاق کیا۔
شزہ فاطمہ خواجہ کے مطابق دونوں ممالک کی قیادت کے فیصلے کے بعد اسلام آباد کے سیکٹر جی نائن میں آذربائیجان آسان خدمت سروس سینٹر ریکارڈ مدت میں قائم کیا گیا۔ انہوں نے آذربائیجان کے سفیر کو مرکز کے دورے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ وہ خود انہیں یہ مرکز دکھانے کو اپنے لیے اعزاز سمجھیں گی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی خواہش ہے کہ آذربائیجان آسان خدمت سروس سینٹرز اور اس سے متعلق سہولتوں کا دائرہ آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور ملک کے دیگر علاقوں تک بڑھایا جائے تاکہ شہریوں کو آذربائیجان کے ماڈل کی طرز پر ایک ہی چھت تلے معیاری اور آسان سرکاری خدمات میسر آ سکیں۔
انہوں نے جولائی 2024 میں پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجیز کے شعبے میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک اس شعبے میں اہم پیش رفت کر چکے ہیں اور اس تعاون کو مزید آگے لے جانے کے لیے پرعزم ہیں۔
شزہ فاطمہ خواجہ نے آذربائیجان کے سابق سفیر حازر فرہادوف کی خدمات کو بھی سراہا اور کہا کہ انہوں نے پاکستان اور آذربائیجان کے دوستانہ تعلقات کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ وفاقی وزیر نے امید ظاہر کی کہ نئے سفیر کی قیادت میں دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے اور نئی بلندیوں تک پہنچیں گے۔
اپنے خطاب میں وفاقی وزیر نے گزشتہ سال پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی جنگ، معرکۂ حق، کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے وزیراعظم محمد شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز و چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں جرات، عزم اور ثابت قدمی کے ساتھ ملک کا دفاع کیا۔
انہوں نے کہا کہ معرکۂ حق میں پاکستان کی کامیابی اور مسلح افواج کی قربانیاں قومی یکجہتی، عزم اور دفاعی صلاحیت کی واضح علامت ہیں۔ شزہ فاطمہ خواجہ نے اس موقع پر آذربائیجان کی جانب سے پاکستان کی حمایت پر خصوصی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاکستان اس تعاون کو نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان گزشتہ سال کے واقعات کے دوران ہی نہیں بلکہ پورے سال آذربائیجان کی مسلسل حمایت اور یکجہتی کو سراہتا ہے۔ ان کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف، چیف آف ڈیفنس فورسز اور دیگر قومی قیادت نے عالمی امن کے تحفظ اور موجودہ پیچیدہ جغرافیائی و سیاسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مشترکہ طور پر اپنا کردار ادا کیا۔
شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا کہ پاکستان کو فخر ہے کہ آذربائیجان جیسے برادر ممالک ہمیشہ پاکستان کے ساتھ کھڑے رہے ہیں اور انہوں نے بین الاقوامی قانون اور عالمی امن کے اصولوں کا احترام کیا ہے۔
وفاقی وزیر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور آذربائیجان روایتی اقتصادی شراکت داری کو مزید مضبوط کرنے کے ساتھ دفاع، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ابھرتے ہوئے جدید شعبوں میں تعاون کو وسعت دیں گے تاکہ دونوں ممالک کے عوام اس مضبوط شراکت داری کے ثمرات سے مستفید ہو سکیں۔
خطاب کے اختتام پر شزہ فاطمہ خواجہ نے آذربائیجان کی قیادت اور عوام کو یومِ فتح کی چھٹی سالگرہ پر دلی مبارکباد پیش کی اور آذربائیجان کے لیے امن، ترقی اور خوشحالی کی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ پاکستان اور آذربائیجان اپنے عوام کے بہتر مستقبل کے لیے باہمی تعلقات کو مزید گہرا اور مضبوط بناتے رہیں گے۔
وفاقی وزیر نے آذربائیجان کے سفیر کو پاکستان آمد پر ایک بار پھر خوش آمدید کہا اور اپنے خطاب کا اختتام پاکستان آذربائیجان دوستی زندہ باد کے الفاظ پر کیا۔
