اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کے تعلقات کی ایک اہم جہت یہ ہے کہ ان کی مضبوطی صرف حکومتی تعاون تک محدود نہیں بلکہ مستقل سیاسی فہم، ادارہ جاتی روابط اور سیاسی جماعتوں کے درمیان تبادلوں پر بھی قائم ہے۔
وہ اسلام آباد میں “شی جن پنگ فکر برائے پارٹی تعمیر اور چین پاکستان گورننس” کے موضوع پر منعقدہ سمپوزیم اور سیمینار کی مشترکہ صدارت کر رہے تھے۔ تقریب کی مشترکہ صدارت کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی مرکزی کمیٹی کے بین الاقوامی شعبہ کے وزیر لیو ہائی شنگ نے بھی کی۔ یہ پروگرام عوامی جمہوریہ چین کے سفارت خانے اور انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد کے اشتراک سے میریٹ ہوٹل اسلام آباد میں منعقد ہوا۔
اپنے خطاب میں سینیٹر اسحاق ڈار نے حکمرانی، ادارہ سازی اور قومی ترقی میں سیاسی جماعتوں کے کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان چین دوستی کو وسیع سیاسی اتفاق رائے حاصل ہے، اس لیے دونوں ملکوں کی سیاسی جماعتوں کے درمیان قریبی روابط اور ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنے کا عمل مزید مضبوط ہونا چاہیے۔ انہوں نے آل ویدر اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ کو مستحکم بنانے کے لیے پارٹی ٹو پارٹی تبادلوں کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کے مطابق سی پیک کے آئندہ مرحلے کو آگے بڑھانے کے لیے سیاسی اتفاق رائے اور پالیسیوں کا تسلسل نہایت اہم ہے۔
کلیدی خطاب میں لیو ہائی شنگ نے پاکستان کی قیادت کا شکریہ ادا کیا کہ وہ دوطرفہ تعاون کو گہرا کرنے کے لیے سیاسی جماعتوں کے روابط کو فروغ دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شی جن پنگ فکر برائے پارٹی تعمیر نے کمیونسٹ پارٹی آف چائنا، ادارہ جاتی حکمرانی اور قومی ترقی کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے پارٹی نظم و ضبط، انسداد بدعنوانی، عوام مرکز حکمرانی اور ادارہ جاتی استعداد کو اس فکر کے اہم پہلو قرار دیا۔
لیو ہائی شنگ نے پاکستان اور چین کے درمیان دیرینہ سیاسی اعتماد کا بھی ذکر کیا، جب کہ دونوں ممالک سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔ انہوں نے پاکستان چائنا ریسرچ سینٹر فار پارٹی اینڈ اسٹیٹ گورننس کے قیام کو مکالمے اور تعاون کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم قرار دیا۔
سینیٹر شیری رحمان نے صدر آصف علی زرداری کا تہنیتی پیغام پیش کیا جس میں پاکستان کی چین کے ساتھ دیرینہ دوستی کا اعادہ کیا گیا۔ پیغام میں باہمی اعتماد، سیاسی اتفاق رائے اور ادارہ جاتی تعاون کی اہمیت کو نمایاں کیا گیا۔ صدر کے پیغام میں سی پیک کے اگلے مرحلے کے تحت صنعتی ترقی، زراعت، ٹیکنالوجی، رابطہ کاری اور روزگار کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا گیا۔
سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کا تہنیتی پیغام بھی پڑھ کر سنایا۔ وزیراعظم کے پیغام میں صدر شی جن پنگ کی قیادت میں چین کی کامیابیوں کو سراہا گیا اور عوام مرکز حکمرانی، ادارہ جاتی دیانت داری اور احتساب کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔ پیغام میں گورننس، قیادت کی تربیت اور سی پیک فیز ٹو میں تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
مسلم لیگ ن کی ایڈیشنل سیکرٹری جنرل سینیٹر انوشہ رحمان نے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے صدر محمد نواز شریف کا تہنیتی پیغام پیش کیا۔ پیغام میں سی پیک اور پاک چین تعلقات کو آگے بڑھانے کے لیے بین الجماعتی مکالمے، ادارہ جاتی تعاون اور سیاسی اتفاق رائے کو ضروری قرار دیا گیا۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے چین کے تجربے سے حاصل ہونے والے اہم اسباق پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے عوام مرکز حکمرانی، احتساب، مضبوط اداروں اور طویل المدتی قومی منصوبہ بندی کو چین کی ترقی کے نمایاں پہلو قرار دیا۔ انہوں نے اڑان پاکستان اور سی پیک 2.0 کو آگے بڑھانے کے لیے سیاسی تعاون، نوجوانوں کی شمولیت اور گورننس کے شعبے میں تبادلوں کی اہمیت پر زور دیا۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل سید نیئر حسین بخاری نے پاک چین تعلقات کے فروغ میں پیپلز پارٹی کے تاریخی کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں کے درمیان تبادلوں میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا، خاص طور پر قیادت سازی، تحقیق، ٹیکنالوجی، زراعت اور باہمی دلچسپی کے دیگر شعبوں میں تعاون کو اہم قرار دیا۔ انہوں نے پاکستان چائنا ریسرچ سینٹر فار پارٹی اینڈ اسٹیٹ گورننس کے قیام کا خیرمقدم بھی کیا۔
پاکستان چائنا انسٹی ٹیوٹ کے چیئرمین سابق سینیٹر مشاہد حسین سید نے سمپوزیم کو ایک تاریخی اقدام قرار دیا۔ انہوں نے عوام مرکز حکمرانی، مؤثر قیادت اور ادارہ جاتی صلاحیت کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
تقریب میں تھائی لینڈ، ملائیشیا، سری لنکا، نیپال اور مالدیپ کے سیاسی رہنماؤں کے ریکارڈ شدہ پیغامات بھی پیش کیے گئے، جن میں پارٹی تعمیر، گورننس، احتساب اور باہمی سیکھنے کے عمل پر خیالات کا اظہار کیا گیا۔ سمپوزیم میں سیکرٹری خارجہ عاصم افتخار احمد، مختلف سیاسی جماعتوں اور تھنک ٹینکس کے نمائندوں، سینئر سرکاری حکام، سفارت کاروں اور ماہرین تعلیم نے بھی شرکت کی۔
