لاہور، 2 نومبر 2026: طبی ماہرین نے کہا ہے کہ پاکستان میں وٹامن ڈی کی کمی ایک وسیع اور بڑھتا ہوا صحت عامہ کا مسئلہ بن چکی ہے، جو وافر دھوپ کے باوجود مختلف عمر کے افراد کو متاثر کر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے عوامی سطح پر آگاہی، بروقت تشخیص اور درست علاج ناگزیر ہیں۔
یہ باتیں عالمی یومِ وٹامن ڈی کے سلسلے میں لاہور کے مال روڈ پر واقع آواری ہوٹل میں منعقدہ ڈی کنیکٹ سمٹ 2026 میں کی گئیں۔ سمٹ کا اہتمام اسکاٹ مین فارماسیوٹیکلز نے کیا، جس میں طبی ماہرین نے وٹامن ڈی کی کمی کے ہڈیوں، خواتین کی صحت اور مجموعی جسمانی کارکردگی پر اثرات کا جائزہ لیا۔
میو ہسپتال لاہور کے شعبہ آرتھوپیڈکس کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر فیصل مسعود نے “بچپن سے بڑھاپے تک: ہڈیوں کی صحت میں وٹامن ڈی، زندگی بھر کا ساتھی” کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہڈیاں انسانی جسم میں حرکت، اہم اعضا کے تحفظ اور کیلشیم کے توازن سمیت کئی بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کیلشیم دل، پٹھوں اور اعصاب کی درست کارکردگی کے لیے ضروری ہے، جبکہ وٹامن ڈی جسم میں کیلشیم کے جذب اور استعمال میں مدد دیتا ہے۔
ڈاکٹر فیصل مسعود کے مطابق پاکستان میں دھوپ کی فراوانی کے باوجود وٹامن ڈی کی کمی تشویش ناک حد تک موجود ہے۔ انہوں نے اندازوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تقریباً 73 فیصد افراد وٹامن ڈی کی کمی یا ناکافی سطح کا شکار ہیں۔
انہوں نے اس مسئلے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا کہ جلد کے رنگ میں تبدیلی کے خدشات، شدید موسمی حالات، لباس کے انداز، سماجی معمولات، گھروں اور دفاتر تک محدود طرزِ زندگی اور فضائی آلودگی لوگوں کو براہِ راست سورج کی روشنی سے دور کر دیتے ہیں۔ ان کے مطابق غذائی عادات میں تبدیلی بھی اہم وجہ ہے، کیونکہ لوگ خوراک کا انتخاب غذائیت کے بجائے ذائقے کی بنیاد پر زیادہ کرنے لگے ہیں۔
آرتھوپیڈک ماہر نے خبردار کیا کہ وٹامن ڈی کی کمی ہڈیوں کو کمزور کر سکتی ہے، خاص طور پر معمر افراد میں اس کے اثرات زیادہ سنگین ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آسٹیوپوروسس اکثر اس وقت سامنے آتا ہے جب معمولی گرنے یا چوٹ کے بعد فریکچر ہو جاتا ہے۔
انہوں نے ایک بزرگ خاتون کی طبی مثال کا ذکر کیا جنہیں گھر میں گرنے کے بعد فریکچر ہوا۔ ڈاکٹر فیصل مسعود کے مطابق بڑھاپا، جسمانی سرگرمیوں کی کمی، اسٹیرائڈ ادویات کا استعمال اور دیگر طبی مسائل ہڈیوں کی کمزوری کے خطرے کو بڑھا سکتے ہیں۔
ڈاکٹر فیصل مسعود نے زور دیا کہ ہڈیوں کی حفاظت صرف بڑھاپے کا مسئلہ نہیں، بلکہ اس کی بنیاد بچپن ہی سے رکھی جانی چاہیے۔ ان کے مطابق ہڈیوں کی زیادہ سے زیادہ مضبوطی کا تقریباً 90 فیصد حصہ کم عمری میں حاصل ہو جاتا ہے، اس لیے بچوں کو بیرونی سرگرمیوں، کھیل کود اور غذائیت سے بھرپور خوراک کی طرف راغب کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ وٹامن ڈی کا کردار صرف ہڈیوں تک محدود نہیں، بلکہ یہ دماغی نشوونما، قوتِ مدافعت اور کیلشیم کے مؤثر استعمال سمیت جسم کے کئی اہم افعال میں حصہ لیتا ہے۔ انہوں نے والدین پر زور دیا کہ بچوں کی غذا اور جسمانی سرگرمیوں پر توجہ دیں تاکہ آئندہ زندگی میں فریکچر اور ہڈیوں کے امراض کے خطرات کم کیے جا سکیں۔
راشد لطیف میڈیکل کالج لاہور کے شعبہ میڈیسن کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر اسماء قاضی نے “وٹامن ڈی کی کمی کا بوجھ اور مؤثر انتظام: پاکستان کا بحران اور پی ایس آئی ایم گائیڈ لائنز” کے موضوع پر گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ وٹامن ڈی کی کمی پاکستان میں ایک اہم عوامی صحت کا مسئلہ ہے، تاہم طبی مشورے کے بغیر سپلیمنٹس کے بے جا استعمال کا بڑھتا رجحان بھی قابلِ تشویش ہے۔
ڈاکٹر اسماء قاضی کے مطابق وٹامن ڈی طبی پریکٹس میں سب سے زیادہ تجویز کیے جانے والے سپلیمنٹس میں شامل ہے، لیکن ڈاکٹروں کے لیے تین سوالات نہایت اہم ہیں: کن افراد کا ٹیسٹ ہونا چاہیے، کسے واقعی سپلیمنٹ کی ضرورت ہے اور مناسب خوراک کتنی ہونی چاہیے۔
انہوں نے پاکستان میں وٹامن ڈی کی کمی کی بلند شرح ظاہر کرنے والی مختلف تحقیقات کا حوالہ دیا۔ ان کے مطابق ایک تحقیق میں کمی کی شرح 84.3 فیصد جبکہ لیبارٹری ریکارڈ پر مبنی ایک سابقہ جائزے میں 61.1 فیصد رپورٹ ہوئی۔
ڈاکٹر اسماء قاضی نے تولیدی عمر کی خواتین سے متعلق اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ 79.7 فیصد خواتین وٹامن ڈی کی کمی کا شکار پائی گئیں، جن میں 54 فیصد میں درمیانی سطح کی کمی جبکہ 25.7 فیصد میں شدید کمی دیکھی گئی۔
ان کے مطابق پاکستان کے مختلف شہروں میں کی گئی بعض تحقیقات میں بچوں اور بالغ افراد میں وٹامن ڈی کی کمی کی شرح 74 سے 95.1 فیصد تک سامنے آئی، جبکہ یہ مسئلہ شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں رپورٹ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فضائی آلودگی، سورج کی روشنی تک محدود رسائی، لباس کے طریقے، جلد کی رنگت اور وٹامن ڈی سے بھرپور غذاؤں کی کمی اس بحران کی اہم وجوہات ہیں۔
ڈاکٹر اسماء قاضی نے بچوں، نوعمر افراد، حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین، بزرگوں، موٹاپے کے شکار افراد، گردوں اور جگر کے مریضوں اور ایسے افراد کو خصوصی توجہ کا مستحق قرار دیا جن میں غذائی اجزا کے جذب ہونے کے مسائل پائے جاتے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ وٹامن ڈی سپلیمنٹیشن مریض کی عمر، طبی حالت اور انفرادی ضرورت کے مطابق ہونی چاہیے۔ زیادہ خوراک تجویز کرنے سے پہلے مریض کی طبی تاریخ، خطرے کے عوامل اور متعلقہ ٹیسٹوں کا جائزہ ضروری ہے۔
ڈاکٹر اسماء قاضی نے خبردار کیا کہ وٹامن ڈی کا ضرورت سے زیادہ استعمال نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق ہر فرد کے لیے معمول کے طور پر ہائی ڈوز سپلیمنٹیشن مناسب نہیں، بلکہ علاج طبی رہنما اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وٹامن ڈی کی ضرورت عمر کے ساتھ بدلتی ہے۔ بعض افراد غذا اور دھوپ سے اپنی ضرورت پوری کر سکتے ہیں، تاہم جب یہ ذرائع ناکافی ہوں، کمی کی تصدیق ہو یا کوئی شخص زیادہ خطرے والے گروپ میں شامل ہو تو ڈاکٹر کے مشورے سے سپلیمنٹس کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
سمٹ میں لاہور جنرل ہسپتال کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر اندلیب ارشد نے بھی خواتین کی صحت اور وٹامن ڈی کی اہمیت پر اظہارِ خیال کیا۔
