اسلام آباد: پاکستان انفارمیشن کمیشن نے اپنے موجودہ ارکان کی مدت ختم ہونے سے متعلق وزارت اطلاعات و نشریات کے ساتھ مبینہ خط و کتابت فراہم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ کمیشن کا مؤقف ہے کہ مانگی گئی معلومات رائٹ آف ایکسیس ٹو انفارمیشن ایکٹ 2017 کے تحت عوامی ریکارڈ کی تعریف میں نہیں آتیں، جبکہ اس کے دفتر کے پاس ایسا کوئی ریکارڈ بھی موجود نہیں۔
یہ معاملہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب موجودہ کمیشن کی مدت جنوری 2027 میں ختم ہونی ہے۔ اس جواب کے بعد یہ سوالات اٹھ رہے ہیں کہ نئے ارکان کی تقرری کے لیے پیشگی کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں اور آیا وزارت اطلاعات و نشریات کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا گیا ہے یا نہیں تاکہ تقرری کا عمل بروقت شروع ہو سکے۔
شہری صدا مظہر نے 14 اکتوبر 2026 کو پاکستان انفارمیشن کمیشن کے پبلک انفارمیشن آفیسر عرفان بشیر کو درخواست بھیجی تھی۔ درخواست میں ان خطوط یا دیگر خط و کتابت کی نقول مانگی گئی تھیں جو وزارت اطلاعات و نشریات کو اس بارے میں بھیجی گئی ہوں کہ موجودہ ارکان شعیب احمد صدیقی، سابق وفاقی سیکریٹری، اور اعجاز حسن اعوان، سابق جج، کی مدت جنوری 2027 میں ختم ہو رہی ہے۔
درخواست کا مقصد یہ جاننا تھا کہ کیا وزارت کو اتنا پہلے مطلع کیا گیا کہ نئے ارکان کی تقرری کا عمل تاخیر کے بغیر شروع کیا جا سکے۔
درخواست میں دوسرا سوال یہ تھا کہ اگست 2022 سے جنوری 2023 کے دوران سابق ارکانِ کمیشن یا کمیشن کے رجسٹرار کی جانب سے وزارت کو بھیجے گئے خطوط کی نقول فراہم کی جائیں۔ درخواست کے مطابق سابق ارکان نے اپنی مدت ختم ہونے سے تقریباً تین ماہ قبل وزارت کو خطوط ارسال کیے تھے۔
یہ معلومات رائٹ آف ایکسیس ٹو انفارمیشن ایکٹ 2017 کے تحت طلب کی گئی تھیں، جس کے تحت شہری قانون میں دی گئی حدود کے اندر عوامی اداروں کے پاس موجود معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔
کمیشن نے 26 اکتوبر 2026 کو اپنے جواب میں کہا کہ درخواست کا جائزہ قانون کی دفعات 2(v)، 2(x) اور 6 کے تحت لیا گیا۔ جواب کے مطابق مانگی گئی معلومات ان دفعات کے تحت عوامی ریکارڈ کے دائرے میں نہیں آتیں۔
کمیشن کے جواب میں مزید کہا گیا: “There is no such record held by this office.”
کمیشن کے جواب سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ آیا ایسے خطوط کبھی تیار ہی نہیں کیے گئے، یا کمیشن کے پاس موجود نہیں، یا کسی اور سرکاری دفتر کے پاس ہو سکتے ہیں۔ جواب سے یہ بھی ثابت نہیں ہوتا کہ وزارت اطلاعات و نشریات کو موجودہ ارکان کی جنوری 2027 میں مدت ختم ہونے کے بارے میں الگ سے آگاہ کیا گیا ہے یا نہیں۔
یہ فرق اہم ہے کیونکہ درخواست کا تعلق کمیشن ارکان کی ذاتی معلومات سے نہیں بلکہ نئی تقرریوں کی تیاری سے ہے۔ اگر تقرری کے عمل کے لیے وزارت کی جانب سے پیشگی کارروائی ضروری ہے تو رسمی خط و کتابت کا وجود اور اس کا وقت یہ ظاہر کرنے میں مدد دے سکتا ہے کہ عمل آگے بڑھ رہا ہے یا نہیں۔
کمیشن کے جواب سے یہ تصدیق نہیں ہوتی کہ تقرریوں میں تاخیر ہو گی، اور نہ ہی یہ ثابت ہوتا ہے کہ وزارت کو آگاہ نہیں کیا گیا۔ تاہم، مطلوبہ خط و کتابت یا اس بات کی واضح وضاحت کے بغیر کہ ریکارڈ کہاں موجود ہو سکتا ہے، یہ سوالات برقرار ہیں۔


