تعز میں حوثی گولہ باری سے 18 افراد جاں بحق، قرآن معلمہ اور والد بھی شہدا میں شامل

newsdesk
4 Min Read
تعز کے رہائشی السعید مسجد میں گولہ باری سے جاں بحق 18 افراد کی نماز جنازہ ادا کر رہے ہیں۔

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) یمن کے تعز گورنریٹ میں جمعہ کے روز شہریوں نے 18 جاں بحق افراد کی تدفین کی۔ جاں بحق ہونے والوں میں زیادہ تر عام شہری تھے، جن میں قرآن کی معلمہ مشیرہ اور ان کے والد محمد قاسم علی بھی شامل ہیں۔ دونوں اس وقت جان سے گئے جب ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کی گولہ باری کے دوران جبل صابر پر واقع ان کے خاندانی گھر پر مارٹر گولہ آ گرا۔

تعز کے رہائشیوں نے السعید مسجد میں نماز جنازہ ادا کی، جہاں تازہ حوثی بمباری اور مقامی جھڑپوں کے دوران جان گنوانے والے 18 افراد کو الوداع کہا گیا۔ مقامی آبادی اور انسانی حقوق کے حلقوں نے جبل صابر پر حملے کی شدید مذمت کی ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق جبل صابر کے علاقے میں شدید گولہ باری سے تعلیمی اور مذہبی عمارتیں بھی متاثر ہوئیں۔ النجد گاؤں میں عمر الطیار مسجد اور اس سے ملحقہ اسکول کو سخت نقصان پہنچا۔

یمن میں جاری کشیدگی کے دوران شہری آبادی مسلسل بھاری قیمت ادا کر رہی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق حوثی فورسز کی جانب سے سیاسی مخالفین، قبائلی حریفوں اور ناقدین کے گھروں اور املاک کو دھماکہ خیز مواد سے جان بوجھ کر مسمار کرنے کا ریکارڈ طویل عرصے سے دستاویزی شکل میں موجود ہے۔ گنجان آباد علاقوں میں ایسے دھماکوں کے نتیجے میں قریبی عمارتیں بھی گر جاتی ہیں، جس سے خواتین اور بچوں سمیت غیر جنگجو شہری ملبے تلے دب کر جاں بحق ہوتے ہیں۔

یمنی نیٹ ورک برائے حقوق و آزادی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا ستمبر 2014 سے اگست 2026 تک 17 گورنریٹس میں 1,774 گھروں، شہری عمارتوں اور سرکاری و نجی املاک کی مسماری کی ذمہ دار ہے۔

نیٹ ورک کی رپورٹ، جس کا عنوان ’’سزا کے طور پر گھروں کی مسماری: حوثی ملیشیا کی مستقل دہشت گرد پالیسی‘‘ ہے، کے مطابق مسمار کی گئی املاک میں 1,129 رہائشی مکانات، 136 مساجد اور قرآنی مدارس، 179 پل اور عوامی سڑکیں، 146 کھیت اور پانی کے کنویں، 41 اسکول اور تعلیمی مراکز، 39 سرکاری عمارتیں اور 19 طبی سہولتیں شامل ہیں۔ رپورٹ میں تجارتی عمارتوں، سیاسی جماعتوں کی ملکیت والی عمارتوں اور تاریخی مقامات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

انسانی حقوق کے حلقوں کے مطابق اس طرز عمل نے لاکھوں شہریوں کو بے گھر کیا، انہیں چھت سے محروم کیا اور یمن کے پہلے سے سنگین انسانی بحران کو مزید گہرا کر دیا۔ مخالفین کے گھروں میں دھماکہ خیز مواد نصب کر کے انہیں تباہ کن دھماکوں سے اڑانے کے واقعات نے شہری جانوں کا نقصان کیا اور پورے خاندانوں کو گھروں سے نکلنے پر مجبور کیا۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے زور دیا ہے کہ رہائشی املاک کی دانستہ تباہی اور خاندانوں کی جبری بے دخلی انسانی حقوق اور شہریوں کے تحفظ کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔ ان کے مطابق ایسے اقدامات کی بھرپور مذمت ہونی چاہیے اور شہریوں کو نقصان پہنچانے اور ان کے گھروں کی تباہی کے ذمہ داروں کو جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔

Share This Article