تکنیکی مشاورتی گروپ کا اجلاس 13 اور 14 مئی کو پاکستان اور افغانستان کے نمائندوں، ماہرین، پروگرام قیادت اور دیگر شراکت داروں کی شرکت سے منعقد ہوا جہاں پولیو خاتمہ کے اہداف، موجودہ صورتحال اور آئندہ حکمتِ عملیاں زیرِ غور آئیں۔ اجلاس میں پولیو خاتمہ کے لیے عملی اقدامات اور علاقائی ہم آہنگی کو مرکزی حیثیت دی گئی۔ڈاکٹر سباسٹین ٹیلر نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے زور دیا کہ پولیو خاتمہ کے لیے مضبوط علاقائی تعاون، آپریشنز میں درستگی اور مستقل عزم ناگزیر ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ صرف مربوط کوششوں سے سالِ 2026 میں وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکتا ہے اور مہمات کی کارکردگی میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔محترمہ عائشہ رضا فاروق نے پاکستان کی واضح وابستگی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت 2026 کو پولیو کے پھیلاؤ کے خاتمے کا سال بنانے کے عزم کے ساتھ مہمات کی معیار سازی، نگرانی میں اضافہ، کمیونٹی انگیجمنٹ کو مضبوط بنانے اور افغانستان کے ساتھ سرحدی ہم آہنگی کو مزید بہتر کرے گی۔ ان کی بات چیت میں مہمات کی تفصیلی نگرانی اور مقامی سطح پر انضمام کو اہم قرار دیا گیا۔اجلاس کے دوران شرکاء نے موجودہ وبائی صورتحال، تازہ کیسز، ماحولیاتی نگرانی کے رجحانات، حفاظتی مہمات کی کارکردگی اور کلیدی ٹرانسمیشن زونز کی آپریشنل ترجیحات پر مفصل تبادلۂ خیال کیا۔ کراچی اور جنوبی خیبرپختونخوا میں جاری چیلنجز اور وہاں آپریشنل بہتری کے اقدامات کو خصوصی توجہ دی گئی تاکہ پولیو خاتمہ کے اہداف تک پہنچا جا سکے۔شرکاء کا یہ بھی کہنا تھا کہ مسلسل شراکت داری، آپریشنل بہترین طریقہ کار اور برادری کی مکمل حمایت کے بغیر پولیو خاتمہ ممکن نہیں۔ اجلاس نے اگلے مراحل کے لیے واضح اہداف اور عملی اقدامات مرتب کیے اور مشترکہ کوششوں کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا تاکہ پولیو خاتمہ کی منزل قریب کی جا سکے۔
