اسلام آباد، 23 اکتوبر 2026: وزارتِ وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت نے قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن کے اشتراک سے فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن کے اداروں میں ہیریٹیج ایجوکیشن انیشی ایٹو کا آغاز کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد طلبہ میں ثقافتی شعور کو فروغ دینا، روایتی دستکاری کے تحفظ کی اہمیت اجاگر کرنا اور پاکستان کے متنوع اور بھرپور ثقافتی ورثے سے ان کا تعلق مضبوط بنانا ہے۔
اس پروگرام کے تحت جماعت ششم سے ہشتم تک کے طلبہ کو عملی سرگرمیوں، تخلیقی اظہار، مشاہدے اور تجرباتی تعلیم کے ذریعے ورثے پر مبنی سیکھنے کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ ابتدائی آزمائشی مرحلہ فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن کے تحت 10 سرکاری اسکولوں میں نافذ کیا جائے گا، جہاں ہر اسکول میں 20 سے 30 طلبہ پر مشتمل ہیریٹیج کلب قائم کیا جائے گا۔
وزارت کے مطابق یہ اقدام موجودہ نصاب کی تکمیل کے طور پر ترتیب دیا گیا ہے۔ اس کے تحت کوئی اضافی مضمون، امتحان یا گریڈڈ اسائنمنٹ متعارف نہیں کرائی جائے گی۔ اس کے بجائے طلبہ کو پاکستان کی ثقافتی روایات کو سمجھنے کے لیے عملی کام، تحقیق، مشاہدے اور تخلیقی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا موقع ملے گا۔
پروگرام میں چھ روایتی اور عصری ہنری شعبوں پر توجہ دی جائے گی، جن میں ٹرک آرٹ، پیچ ورک، زیورات سازی، مٹی کے برتن، رباب اور ڈیجیٹل آرٹ شامل ہیں۔ ان فنون کے ذریعے طلبہ ان مہارتوں، روایات اور ثقافتی کہانیوں کو بہتر طور پر سمجھ سکیں گے جنہوں نے نسل در نسل پاکستان کی شناخت کو تشکیل دیا ہے۔
چھ ماہ پر مشتمل آزمائشی پروگرام ایک منظم تعلیمی سفر کے طور پر چلایا جائے گا، جس میں دریافت، تجربہ، تخلیق اور نمائش کے مراحل شامل ہوں گے۔ پروگرام کے اختتام پر طلبہ کی تیار کردہ نمائش منعقد کی جائے گی، جہاں شرکا اپنے کام، سیکھنے کے عمل اور پاکستان کے ثقافتی ورثے سے متعلق اپنی سمجھ کو وسیع تر برادری کے سامنے پیش کریں گے۔
یہ اقدام مرحلہ وار روڈ میپ کے تحت آگے بڑھایا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں پروگرام کو آزمایا جائے گا اور اس کے تصور کی عملی افادیت واضح کی جائے گی۔ دوسرے مرحلے میں استحکام اور توسیع پر توجہ دی جائے گی، جبکہ تیسرے مرحلے کا مقصد اسے تعلیمی نظام کا مستقل حصہ بنانا اور طویل مدتی پائیداری کو یقینی بنانا ہوگا۔
وزارت کا کہنا ہے کہ ہیریٹیج ایجوکیشن انیشی ایٹو اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ تعلیم کو روایتی کمرۂ جماعت کی حدود سے آگے لے جایا جائے۔ پروگرام طلبہ کو صرف تاریخی حقائق یاد کرانے کے بجائے ثقافتی روایات کا مشاہدہ کرنے، سوال اٹھانے، تحقیق کرنے اور انہیں نئے انداز سے سمجھنے کی ترغیب دے گا۔ اس سے تخلیقی صلاحیت، تنقیدی سوچ، ثقافتی قدردانی اور مشترکہ قومی شناخت کے احساس کو فروغ دینے کی کوشش کی جائے گی۔
ہیریٹیج کلبز کے ذریعے طلبہ کو پاکستان کے مادی اور غیر مادی ورثے سے بامعنی طور پر جوڑنے، روایتی علم اور دستکاری کی قدر پہچاننے، اور ان روایات کو آج کے تناظر میں محفوظ رکھنے اور نئے انداز میں پیش کرنے کے طریقے تلاش کرنے کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔
وزارتِ وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت اور قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن کا یہ اشتراک اس بات کو نمایاں کرتا ہے کہ ثقافتی تحفظ کو تعلیمی ترقی کے ساتھ جوڑنا اہم ہے۔ یہ اقدام کم عمر طلبہ کو روایتی فنون اور مقامی برادریوں کے ثقافتی علم سے روشناس کرا کے نسلوں کے درمیان رابطے مضبوط کرنے کا موقع بھی فراہم کرے گا۔
وزارت کو توقع ہے کہ آزمائشی مرحلہ پروگرام کے نفاذ، طلبہ کی شرکت اور تعلیمی نتائج کے بارے میں مفید رہنمائی فراہم کرے گا۔ یہی تجربات مستقبل میں وفاقی تعلیمی اداروں میں ورثہ تعلیم کے پائیدار فریم ورک اور اس کی توسیع میں مدد دیں گے۔
کمرۂ جماعت میں عملی، دلچسپ اور طالب علم مرکز سرگرمیوں کے ذریعے ثقافتی ورثہ شامل کر کے اس پروگرام کا مقصد ایسی نسل تیار کرنا ہے جو اپنی ثقافتی جڑوں کی اہمیت کو سمجھے، پاکستان کی روایات کے تنوع کی قدر کرے اور اس ورثے کو آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ رکھنے کی ذمہ داری کو پہچانے۔
اپنے ورثے کو جانیے، اپنے ورثے کو محفوظ رکھیے۔
