پاکستان، مالدیپ تجارتی روابط بڑھانے پر متفق، مفاہمتی یادداشت پر دستخط

newsdesk
3 Min Read
پاکستان مالدیپ بزنس فورم کے موقع پر اقتصادی و تجارتی تعاون کے فروغ کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔

اسلام آباد: پاکستان اور مالدیپ کے درمیان اقتصادی و تجارتی تعاون کے فروغ کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے گئے، جس کے تحت دونوں ممالک تجارت، سرمایہ کاری، کاروباری روابط اور مشترکہ منصوبوں کو آگے بڑھائیں گے۔

پاکستان مالدیپ بزنس فورم کے موقع پر فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عاطف اکرام شیخ اور مالدیپ کے وزیر اقتصادی ترقی نے دوطرفہ تعاون کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔ تقریب میں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف، مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو اور دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے معاہدے کو پاکستان اور مالدیپ کے دوطرفہ تعلقات میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعاون کا نیا باب کھل گیا ہے۔

عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ پاکستان اور مالدیپ کی دیرینہ دوستی کو مضبوط تجارتی شراکت داری میں تبدیل کرنے اور کاروباری برادری کے درمیان براہ راست روابط بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں۔

پاکستان مالدیپ بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری میں اضافے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ ان کے مطابق سیاحت، ماہی گیری، زراعت، غذائی مصنوعات اور تعمیرات کے شعبوں میں باہمی تعاون کے روشن امکانات ہیں، جن سے دونوں ممالک کی کاروباری برادری فائدہ اٹھا سکتی ہے۔

صدر ایف پی سی سی آئی نے کہا کہ پاکستان اور مالدیپ کے نجی شعبے مختلف شعبوں میں ایک دوسرے کی معاونت کے ذریعے اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ دے سکتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ فیڈریشن دونوں ممالک کے کاروباری اداروں کے براہ راست روابط بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔

عاطف اکرام شیخ کا کہنا تھا کہ تجارتی وفود کے تبادلوں اور مشترکہ کاروباری منصوبوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی تاکہ باہمی تجارت اور سرمایہ کاری میں اضافہ ہو سکے۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور مالدیپ کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کو صرف دستاویزی معاہدہ نہیں رہنے دیا جائے گا بلکہ اسے عملی اقدامات اور قابل پیمائش معاشی نتائج میں تبدیل کیا جائے گا۔ ان کے مطابق نجی شعبوں کے درمیان مضبوط تعاون سے دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا اور روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

Share This Article