راوت میں لائیوسٹاک جینومکس پر قومی سمپوزیم، نسلوں کی بہتری اور غذائی تحفظ پر زور

newsdesk
4 Min Read
نیشنل سینٹر فار لائیوسٹاک بریڈنگ، جینیٹکس اینڈ جینومکس کے زیر اہتمام راوت میں قومی سمپوزیم منعقد ہوا۔

راولپنڈی: نیشنل سینٹر فار لائیوسٹاک بریڈنگ، جینیٹکس اینڈ جینومکس، پیر مہر علی شاہ ایریڈ ایگریکلچر یونیورسٹی راولپنڈی کے زیر اہتمام ’’Transforming Livestock Through Genomics‘‘ کے عنوان سے قومی سمپوزیم نیشنل سینٹر، راوت میں منعقد ہوا، جس میں پاکستان کے تمام صوبوں سے شرکاء نے شرکت کی۔

سمپوزیم کا مقصد لائیوسٹاک کی افزائش نسل، جینیاتی بہتری، پیداواری صلاحیت میں اضافے اور شعبہ لائیوسٹاک کی پائیدار ترقی میں جدید جینومک ٹیکنالوجیز کے کردار پر غور و خوض کرنا تھا۔

پیر مہر علی شاہ ایریڈ ایگریکلچر یونیورسٹی راولپنڈی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر قمر الزمان نے تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ اپنے خطاب میں انہوں نے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال کی جانب سے نیشنل سینٹر کے قیام اور ترقی کے لیے مسلسل تعاون کو سراہا۔

وائس چانسلر نے کہا کہ سینٹر کی جدید لیبارٹریز، اعلیٰ آلات اور جینومک ٹیکنالوجیز پاکستان میں مویشیوں کی نسلوں میں بہتری، پیداوار بڑھانے اور سائنسی تحقیق کو مضبوط بنانے کے لیے اہم مواقع فراہم کرتی ہیں۔

انہوں نے پاکستان میں لائیوسٹاک کے وسیع امکانات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تحقیق کے نتائج کو کسانوں اور لائیوسٹاک سے وابستہ افراد کے لیے عملی حل میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق مقامی نسلوں کی جینیاتی بہتری سے دودھ کی پیداوار میں اضافہ، ڈیری مصنوعات کے معیار اور دستیابی میں بہتری، قومی غذائی تحفظ کو تقویت، کسانوں کی آمدن میں اضافہ اور ریونیو جنریشن کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔

سمپوزیم کا ایک نمایاں پہلو پاکستان میں جینومک سلیکشن ٹیکنالوجی کا تعارف تھا، جس کا مقصد لائیوسٹاک بریڈنگ سے متعلق فیصلوں کو زیادہ درست بنانا اور جینیاتی بہتری کے عمل کو تیز کرنا ہے۔ یہ نیشنل سینٹر فار لائیوسٹاک بریڈنگ، جینیٹکس اینڈ جینومکس کے زیر اہتمام پہلا قومی سمپوزیم بھی تھا، جس نے ملک بھر کے محققین، سائنس دانوں، لائیوسٹاک ماہرین اور اسٹیک ہولڈرز کو علم کے تبادلے اور اشتراک کے امکانات کا جائزہ لینے کے لیے قومی پلیٹ فارم فراہم کیا۔

اس سے قبل نیشنل سینٹر کے مرکزی پراجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر غلام بلال نے شرکاء کو سینٹر کے مینڈیٹ اور سرگرمیوں سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ نیشنل سینٹر پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر میں قائم سات ذیلی مراکز کے ذریعے لائیوسٹاک بریڈنگ، جینیٹکس اور جینومکس کے شعبوں میں تحقیق و ترقی میں معاونت کر رہا ہے۔

سمپوزیم کے ساتھ ایک نمائش کا بھی انعقاد کیا گیا، جس میں جدید زرعی اور لائیوسٹاک ٹیکنالوجیز سے متعلق تحقیقی اور تکنیکی اسٹالز لگائے گئے۔ تکنیکی نشستوں اور اسٹیک ہولڈرز و صنعتی شراکت داروں کے ساتھ مشاورتی اجلاسوں میں ماہرین نے تبادلہ خیال کیا، علم کا تبادلہ کیا اور مشترکہ تحقیق و جدت کے شعبوں کی نشاندہی کی۔

اسی موقع پر ورلڈ ایگ ڈے بھی منایا گیا۔ انسٹی ٹیوٹ آف اینیمل سائنسز نے انڈوں کو غذائیت سے بھرپور خوراک کے طور پر اجاگر کیا اور غذائی تحفظ، عوامی آگاہی اور پولٹری سیکٹر کی ترقی میں ان کے کردار پر روشنی ڈالی۔

Share This Article