پاکستان نے اے آئی خدمات کے لیے مضبوط ڈیجیٹل بنیادوں کو ناگزیر قرار دے دیا

newsdesk
7 Min Read
وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن نے سیول میں ورلڈ بینک کے زیر اہتمام پینل ڈسکشن سے خطاب کیا۔

سیول: جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں گلوبل اے آئی اینڈ ڈیجیٹل سمٹ 2026 کے دوران پاکستان کے وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن نے ورلڈ بینک کے زیر اہتمام خصوصی پینل ڈسکشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت کو عوامی خدمات میں مؤثر، محفوظ اور قابل اعتماد بنانے کے لیے پہلے مضبوط ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر ناگزیر ہے۔

پینل ڈسکشن کا عنوان “Enabling Digital Government Service Delivery through DPI and AI” تھا۔ وفاقی وزیر نے خطاب کے آغاز میں ورلڈ بینک کا شکریہ ادا کیا اور پاکستان کے تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت پہلی نہیں بلکہ آخری تہہ ہے۔ ان کے مطابق کوئی بھی اے آئی ماڈل اسی حد تک معیاری، منصفانہ اور قابل اعتماد ہو سکتا ہے جس حد تک اس کے نیچے موجود انفراسٹرکچر مضبوط ہو۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ جب حکومتیں بنیادی ڈھانچے کو نظر انداز کر کے آگے بڑھتی ہیں تو عوامی خدمات میں حقیقی اے آئی نظام نہیں بنتا، بلکہ ایسے پائلٹ منصوبے سامنے آتے ہیں جو بڑے پیمانے پر نہیں پھیلتے اور ایسے نظام تشکیل پاتے ہیں جن پر شہری اعتماد نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ اصل سوال یہ نہیں کہ کون سی اے آئی استعمال کی جائے، بلکہ یہ ہے کہ اے آئی سے پہلے کون سی بنیادیں موجود ہوں تاکہ ہر شہری کو محفوظ انداز میں خدمات فراہم کی جا سکیں۔

وفاقی وزیر نے پاکستان کے تجربے کی روشنی میں چار اہم بنیادوں کی نشاندہی کی۔

پہلی بنیاد ڈیجیٹل شناخت ہے۔ وفاقی وزیر کے مطابق اے آئی سروس کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ وہ کس شہری کو خدمت فراہم کر رہی ہے، جبکہ شہری کو بھی یہ اختیار حاصل رہنا چاہیے کہ اس کے ڈیٹا تک کس کی رسائی ہو۔ انہوں نے کہا کہ نادرا کا قومی شناختی نظام 10 کروڑ سے زائد پاکستانیوں کو تصدیق شدہ شناخت فراہم کر چکا ہے اور اب اسے ڈیجیٹل شناخت کی شکل میں آگے بڑھایا جا رہا ہے، جو شہری کی آن لائن تصدیق کے ساتھ اس کی رضامندی کو ریکارڈ اور نافذ کر سکے گی۔

انہوں نے کہا کہ شناخت ہی وہ بنیاد ہے جو اے آئی سروس کو شہری کے لیے ذاتی نوعیت کی سہولت بنانے کی اجازت دیتی ہے، مگر اسے مداخلت میں تبدیل نہیں ہونے دیتی۔

دوسری بنیاد ادائیگیوں کا نظام ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ بہت سی سرکاری خدمات کا تعلق آخرکار رقم کی منتقلی سے جڑتا ہے، چاہے وہ سماجی تحفظ کی رقم ہو، سبسڈی ہو یا کوئی فیس۔ اس حوالے سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا فوری ادائیگی کا نظام راست ایک عوامی پیمنٹ ریل فراہم کرتا ہے۔ ان کے مطابق جب کوئی اے آئی ماڈل کسی ایسے گھرانے کی نشاندہی کرے جو امداد کا اہل ہو، تو یہی ادائیگی نظام اس نشاندہی کو عملی فراہمی میں بدلتا ہے۔

تیسری بنیاد قابل اعتماد ڈیٹا کا تبادلہ ہے، جسے وصل کے ذریعے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت میں اے آئی اس وقت ناکام ہوتی ہے جب ہر وزارت کا ڈیٹا الگ الگ خانوں میں بند رہتا ہے۔ ورلڈ بینک کی معاونت سے جاری ڈیجیٹل اکانومی انہانسمنٹ پروجیکٹ، ڈیپ، کے تحت پاکستان اپنا پہلا قومی ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر اسٹیک تیار کر رہا ہے، جس کا مرکزی حصہ وصل ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وصل قومی ڈیٹا ایکسچینج لیئر ہے، جس کے ذریعے ادارے واضح قواعد کے تحت محفوظ طریقے سے ڈیٹا کا تبادلہ کرتے ہیں۔ ہر ٹرانزیکشن کی تصدیق ہوتی ہے، اسے انکرپٹ کیا جاتا ہے اور اس کا لاگ رکھا جاتا ہے، جبکہ شہری کی رضامندی بھی اسی نظام کا حصہ ہے۔ وصل کے اوپر شہریوں کے لیے سپر ایپ اور نیشنل اوپن ڈیٹا ایکو سسٹم، نوڈ، قائم کیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے محققین، اسٹارٹ اپس اور اے آئی ڈیولپرز کو سرکاری ڈیٹا تک قانونی رسائی فراہم ہو گی۔

چوتھی بنیاد تحفظات اور قومی ڈیٹا گورننس پالیسی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کی جاری کردہ نیشنل ڈیٹا گورننس پالیسی سرکاری ڈیٹا کی درجہ بندی، تبادلے، تحفظ اور اشاعت کے لیے ایک قومی اصولی فریم ورک فراہم کرتی ہے۔ اس کے ساتھ شہری کی واضح اور واپس لی جا سکنے والی رضامندی، اداروں کے احتساب کے لیے آڈٹ ٹریلز، اور یہ اصول شامل ہے کہ اے آئی انسانی فیصلوں میں معاون ہو گی مگر کسی شہری کے حقوق یا استحقاق کا فیصلہ خود نہیں کرے گی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ چاروں بنیادیں مل کر اے آئی کو قابل توسیع، جامع اور قابل اعتماد بناتی ہیں۔

آئندہ حکمت عملی پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت انہی بنیادوں پر این اے آئی ای ڈی پی پروگرام کے تحت اے آئی کی تہہ تعمیر کر رہی ہے، جس کے دو بنیادی حصے ہیں۔ پہلا حصہ خودمختار قومی اے آئی انفراسٹرکچر ہے، جس کے تحت سرکاری کمپیوٹ صلاحیت کی خریداری اور فراہمی کی جا رہی ہے تاکہ پاکستانی ڈیٹا پاکستان ہی میں پروسیس ہو اور اس سے پیدا ہونے والی قدر ملکی معیشت کے اندر رہے۔

دوسرا حصہ پاکستان کا اپنا لارج لینگویج ماڈل براق ہے، جسے اردو اور علاقائی زبانوں کی بنیاد پر تربیت دی جا رہی ہے تاکہ اے آئی کو ہر شہری کے لیے ابتدا ہی سے جامع بنایا جا سکے۔

خطاب کے اختتام پر وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کو پہلے بنانا بظاہر سست عمل محسوس ہو سکتا ہے، تاہم جب یہ بنیادیں قائم ہو جائیں تو اس کے بعد آنے والی ہر اے آئی سروس کو شروع کرنا زیادہ تیز، کم خرچ اور محفوظ ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے یہی راستہ اختیار کیا ہے اور اس سفر میں ورلڈ بینک کے ساتھ تعاون پر شکر گزار ہے۔

Share This Article