کراچی: علی بابا کلاؤڈ نے الخدمت فاؤنڈیشن کے اشتراک سے پاکستان میں پہلی بار اے آئی ہیکاتھون کا انعقاد کیا۔ یہ ایونٹ حال ہی میں نیشنل ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک (NASTP) کراچی میں منعقد ہوا۔
ہیکاتھون میں 16 ہزار درخواستوں میں سے شارٹ لسٹ کی گئی 430 ٹیموں نے اپنی اے آئی پر مبنی مصنوعات اور حل ماہر جیوری پینلز کے سامنے پیش کیے اور ان کا عملی مظاہرہ کیا۔ جیوری پینلز میں ٹیکنالوجی، بینکاری، صحت، صنعت اور اکیڈمیا سے تعلق رکھنے والے ماہرین شامل تھے۔
مقابلے کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں صرف آئیڈیاز پیش کرنے کے بجائے عملی طور پر کام کرنے والی اے آئی مصنوعات تیار کرنے پر توجہ دی گئی۔ شرکا کو منظم تربیت، رہنمائی اور اے آئی ڈیولپمنٹ ٹولز تک رسائی فراہم کی گئی۔
اس اقدام پر گفتگو کرتے ہوئے بنو قابل پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر شاہد اقبال نے کہا کہ یہ ہیکاتھون پاکستانی نوجوانوں کو اے آئی ٹیکنالوجیز کے محض صارفین سے ایسے حل تیار کرنے والوں میں تبدیل کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے جو مقامی اور عالمی چیلنجز سے نمٹ سکیں۔
انہوں نے کہا کہ بنو قابل کا مقصد نوجوانوں کو صرف تکنیکی مہارتیں فراہم کرنا نہیں بلکہ ایسے مواقع پیدا کرنا بھی ہے جہاں وہ ان مہارتوں کو استعمال کر سکیں، رہنمائی حاصل کر سکیں اور وسیع تر ٹیکنالوجی ایکو سسٹم سے منسلک ہو سکیں۔
علی بابا کلاؤڈ میں مشرق وسطیٰ، ترکیہ اور افریقا کے ہیڈ آف مارکیٹنگ ییلان ژوانگ نے ابھرتے ہوئے ٹیلنٹ کو بین الاقوامی ٹیکنالوجی، مہارت اور پلیٹ فارمز تک رسائی دینے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہیکاتھون کے ذریعے شرکا کو کلاؤڈ وسائل، اے آئی ڈیولپمنٹ ٹولز، ماہرین کی رہنمائی، تکنیکی معاونت اور قومی سطح پر شناخت کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔ پروگرام کا مقصد باصلاحیت ٹیموں کو اپنے آئیڈیاز کو عملی اور قابل توسیع اے آئی حل میں تبدیل کرنے میں مدد دینا ہے۔
کلیدی مقرر اور ہیکسالائز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سعد شاہ نے کہا کہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کے ابھرنے سے چیلنجز بھی پیدا ہوئے ہیں اور مواقع بھی، اس لیے پاکستان کو تیزی سے بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے کے لیے اپنے نوجوانوں کو ضروری مہارتوں سے آراستہ کرنا ہوگا۔
سعد شاہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کی مستقبل کی ترقی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ وہ اپنے گریجویٹس اور نوجوانوں کو اے آئی سے چلنے والی معیشت کے لیے کس حد تک مؤثر انداز میں تیار کرتا ہے۔
انہوں نے کہا، "اگر ہم اپنے گریجویٹس اور نوجوانوں کو اے آئی کی دنیا کے لیے درست انداز میں تیار کر لیں تو نہ صرف ہماری آئی ٹی برآمدات میں اضافہ ہوگا بلکہ پورا آئی ٹی ایکو سسٹم تبدیل ہو جائے گا، جس سے ٹیکنالوجی پر مبنی معاشرے کی راہ ہموار ہوگی۔"
سعد شاہ نے کم عمری سے اے آئی تعلیم اور اس کے اطلاقات متعارف کرانے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ ٹیکنالوجی سے زیادہ آگاہی اس کے استعمال میں اضافے اور معاشرے میں اس کے تعمیری اور اختراعی استعمال کو فروغ دینے میں مدد دے گی۔
یہ اقدام علی بابا کلاؤڈ اور الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کے درمیان وسیع تر شراکت داری کا حصہ ہے، جس کا مقصد پاکستانی نوجوانوں کو اے آئی اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ میں عالمی معیار کی مہارتوں سے آراستہ کرنا ہے۔ اس شراکت داری کے تحت کراچی اور لاہور میں بنو قابل نیٹ ورک کے ذریعے علی بابا کلاؤڈ کے مخصوص تربیتی مراکز قائم کیے جا رہے ہیں، جہاں علی بابا کلاؤڈ کے بین الاقوامی نصاب کے مطابق اے آئی اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کی تربیت فراہم کی جائے گی۔
