اسلام آباد میں نصرت جی کی انفرادی نمائش ’’واٹ ریمینز ٹو بی سین‘‘ کا افتتاح

newsdesk
4 Min Read
پی این سی اے کے تحت نیشنل آرٹ گیلری اسلام آباد میں نصرت جی کی انفرادی نمائش ’’WHAT REMAINS TO BE SEEN‘‘ کا افتتاح کیا گیا۔

اسلام آباد، 13 اکتوبر 2026ء: پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس (پی این سی اے) کے زیر اہتمام معروف امپریشنسٹ مصورہ نصرت جی کی اہم انفرادی نمائش ’’WHAT REMAINS TO BE SEEN‘‘ کا نیشنل آرٹ گیلری، اسلام آباد میں افتتاح کر دیا گیا۔

افتتاحی تقریب کے مہمانِ خصوصی وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن اورنگزیب خان کھچی تھے، جبکہ مہمانِ اعزاز ہم نیٹ ورک لمیٹڈ کی سی ای او اور بانی سلطانہ صدیقی تھیں۔ تقریب میں قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن کے سیکرٹری اسد الرحمٰن گیلانی، ہم ٹی وی کے شریک بانی درید قریشی اور پی این سی اے کے ڈائریکٹر جنرل ایم ایوب جمالی سمیت نمایاں شخصیات نے شرکت کی۔

نمائش کو دو گیلریوں میں پیش کیا گیا ہے۔ گیلری ون ’’IMMERSIVE EXPERIENCE‘‘ کے عنوان سے ہے، جس میں پروجیکٹڈ امیجری، روشنی اور آواز کے ذریعے ایک بصری تجربہ تشکیل دیا گیا ہے۔ گیلری ٹو ’’DRAWING & PAINTING‘‘ پر مشتمل ہے، جہاں اصل پینٹنگز اور 50 ڈرائنگ اسٹڈیز رکھی گئی ہیں۔

یہ نمائش یادداشت، ادراک اور دیکھے جانے والے اور اَن دیکھے رہ جانے والے مناظر کے درمیان بدلتی ہوئی فضا کو ایک عمیق بصری تجربے کے طور پر سامنے لاتی ہے۔

تقریب سے ڈاکٹر ارجمند فیصل، ڈاکٹر مامونہ خان اور سجاد حیدر نے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے نصرت جی کی پینٹنگز، ڈرائنگز اور امیَرسو نمائش کے تصور پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے ان کی اظہاریت سے بھرپور پیلیٹ نائف تکنیک، گھوڑوں کی معروف پینٹنگز اور پاکستان کے ثقافتی ورثے، مناظر، فنِ تعمیر اور لوک روایات سے ان کے گہرے تعلق کو اجاگر کیا۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے نصرت جی نے اپنے چار دہائیوں سے زائد پر محیط فنی سفر کا ذکر کیا اور نمائش کو ممکن بنانے میں تعاون کرنے والوں کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے خاص طور پر پی این سی اے کے ڈائریکٹر جنرل ایم ایوب جمالی، ڈائریکٹر وی اے ڈی مریم احمد اور ان کی ٹیم، نیز امیَرسو نمائش کے کیوریٹر وحید لطیف اور ان کی ٹیم کا شکریہ ادا کیا۔

نصرت جی نے اپنے بیان میں کہا، ’’اگر رنگ کا اپنا سحر ہے تو لکیر کی اپنی سرمستی ہے۔‘‘ ان کے مطابق نمائش میں اصل پینٹنگز کے ساتھ 100 اسٹڈیز بھی شامل ہیں، جو ان کے اردگرد کی زندگی سے اخذ کی گئی ہیں۔ ان میں تھر سیریز، فوک لورز، گھوڑے، فنِ تعمیر، خطاطی اور فطرت کے موضوعات شامل ہیں، جن میں توانائی، حرکت اور ایک داخلی آہنگ نمایاں ہے۔

سلطانہ صدیقی نے دیہی خواتین کے اندرونی مناظر پر مبنی نصرت جی کی ڈرائنگز میں موجود طاقتور سماجی تبصرے کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ان فن پاروں میں محنت اور استقامت کو ’’بے چہرہ‘‘ انداز میں پیش کیا گیا ہے، جو غور و فکر کا اہم موضوع ہے۔

نصرت جی پاکستان کی نمایاں امپریشنسٹ مصوراؤں میں شمار ہوتی ہیں۔ وہ 25 سے زائد انفرادی نمائشیں کر چکی ہیں اور برطانیہ، کینیڈا، امریکا، متحدہ عرب امارات، بحرین اور دیگر ممالک میں بین الاقوامی سطح پر بھی ان کے فن پارے پیش کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کے بصری فنون کے منظرنامے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔

یہ نمائش نیشنل آرٹ گیلری، پی این سی اے، اسلام آباد میں عوام کے لیے 27 اکتوبر 2026ء تک جاری رہے گی۔ ہفتہ کے روز گیلری بند رہے گی۔

Share This Article