اسلام آباد: نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ وقت آ گیا ہے کہ یہ خطہ امن و استحکام کے فروغ کے لیے اپنی آزاد سکیورٹی آرکیٹیکچر تشکیل دے اور علاقائی امن و سلامتی کی ذمہ داری زیادہ سنجیدگی سے خود سنبھالے۔
وہ انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) کے زیر اہتمام بین الاقوامی کانفرنس ’’پاکستانز ایوالوِنگ کاؤنٹر ٹیررازم لینڈ اسکیپ: ٹی ٹی پی، کراس بارڈر تھریٹس اینڈ ریجنل سکیورٹی‘‘ سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کر رہے تھے۔
اپنے خطاب میں سینیٹر اسحاق ڈار نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے غیر متزلزل عزم اور علاقائی امن و سلامتی کے فروغ کے عہد کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں انسداد دہشت گردی محض پالیسی بحث نہیں بلکہ قربانی اور بہادری کی مسلسل داستان ہے۔ انہوں نے پاکستان کی جانب سے دی جانے والی بھاری انسانی اور معاشی قربانیوں کو بھی اجاگر کیا۔
وزیر خارجہ نے گزشتہ سال افغانستان کے اپنے تین دوروں اور افغان طالبان حکام سے رابطوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے صرف ایک مطالبہ کیا تھا کہ ٹی ٹی پی اور اس سے منسلک دیگر دہشت گرد گروہوں اور افغان سرزمین پر موجود ان کی پناہ گاہوں کے خلاف واضح، قابل تصدیق اور ناقابل واپسی اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے افغان حکام پر زور دیا کہ وہ دوحہ اور پاکستان سے کیے گئے انسداد دہشت گردی کے وعدے پورے کریں۔
سینیٹر اسحاق ڈار نے سرحد پار دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے مضبوط علاقائی و عالمی تعاون، انٹیلی جنس شیئرنگ اور اجتماعی کارروائی کی ضرورت پر زور دیا۔
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ پاکستان نے گزشتہ چار دہائیوں کے دوران دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے افغان حکام پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشت گرد گروہوں کے استعمال سے روکیں۔ عطااللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان علاقائی امن و استحکام کے لیے پرعزم ہے، تاہم امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔
کانفرنس کے پہلے ورکنگ سیشن کی نظامت ڈاکٹر اشتیاق احمد نے کی۔ اس سیشن میں افغانستان میں پاکستان کے سابق سفیر ابرار حسین نے افغانستان میں عسکریت پسندوں کی پناہ گاہوں اور ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے درمیان بڑھتے ہوئے عملی اشتراک کی نشاندہی کی۔ انہوں نے چین، روس اور ایران کو شامل کرتے ہوئے کابل کے ساتھ مربوط سفارتی رابطوں کی ضرورت پر زور دیا۔
گلف اسٹیٹ اینالیٹکس، امریکا کے سی ای او اور بانی جارجیو کافیرو نے کہا کہ خلیجی ریاستیں پاکستان کا استحکام چاہتی ہیں اور کابل سے رابطہ بھی برقرار رکھے ہوئے ہیں، تاہم ان کے سفارتی ذرائع ابھی تک طالبان پر بامعنی اثرانداز ہونے میں تبدیل نہیں ہو سکے۔ اینکر اور سکیورٹی تجزیہ کار نسیم زہرہ نے کہا کہ انسداد دہشت گردی میں بھرتی کے اسباب پر توجہ دینا ضروری ہے، جس کے لیے قانونی احتساب، آئینی سیاسی گنجائش اور شہری قیادت میں روک تھام اہم ہیں۔
دوسرے ورکنگ سیشن کی صدارت و نظامت ڈاکٹر شبانہ فیاض نے کی۔ افغانستان کے لیے پاکستان کے سابق نمائندہ خصوصی سفیر آصف درانی نے افغانستان کے ساتھ مسلسل مکالمے، مؤثر بارڈر مینجمنٹ اور جائز تجارت کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔ رائل میلبرن، آسٹریلیا کے پروفیسر آف ہیومن سکیورٹی اینڈ انٹرنیشنل ڈپلومیسی پروفیسر جوزف سیراکوسا نے انٹیلی جنس کی بنیاد پر انسداد دہشت گردی، قانونی احتساب، شدت پسندی سے علیحدگی کے راستوں اور پاکستان کی قربانیوں کے وسیع تر بین الاقوامی اعتراف کی حمایت کی۔
لندن میں دی ایمبیسڈر پارٹنرشپ ایل ایل پی کے پارٹنر سفیر جیمز واٹ سی وی او نے قانون کی حکمرانی، ریاستی خودمختاری اور علاقائی تعاون پر زور دیا۔ انہوں نے ابھرتے ہوئے سکیورٹی خطرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ پاکستان کے دفاعی معاہدے اسٹریٹجک ہم آہنگی میں مدد دے سکتے ہیں۔
تیسرے ورکنگ سیشن کی نظامت ڈاکٹر سلمیٰ ملک نے کی۔ پاکستان کے سابق سیکرٹری خارجہ سفیر اعزاز احمد چوہدری نے افغانستان میں دہشت گرد پناہ گاہوں سے نمٹنے کے لیے مضبوط بین الاقوامی تعاون اور اقوام متحدہ کی پابندیوں کے مؤثر نفاذ پر زور دیا۔ نسٹ انسٹی ٹیوٹ آف پیس اینڈ کنفلکٹ اسٹڈیز کے پرنسپل میجر جنرل زاہد محمود نے ستمبر 2026 میں پاکستان میں 225 عسکریت پسند حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے بارڈر مینجمنٹ اور علاقائی تعاون کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی کارروائیاں افغان عوام کے خلاف نہیں بلکہ دہشت گرد انفراسٹرکچر کے خلاف ہیں۔
امریکا کے سابق اسسٹنٹ سیکرٹری آف اسٹیٹ برائے پولیٹیکل ملٹری افیئرز بریگیڈیئر جنرل مارک کِمٹ نے امریکا اور پاکستان کے درمیان عملی انسداد دہشت گردی تعاون، علاقائی رابطہ کاری اور مشترکہ سلامتی مفادات کو وسیع تر جغرافیائی سیاسی رقابتوں سے الگ رکھنے کی وکالت کی۔
اختتامی کلمات میں آئی ایس ایس آئی کے بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین سفیر خالد محمود نے ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے خطرات سے نمٹنے کے لیے جامع انسداد دہشت گردی فریم ورک کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے انٹیلی جنس شیئرنگ، مربوط کارروائی، خودمختاری کے احترام اور دہشت گردی کو اسٹریٹجک دباؤ کے آلے کے طور پر مسترد کرنے کے ذریعے علاقائی امن کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔
کانفرنس میں پاکستان اور بیرون ملک سے سینئر پالیسی سازوں، سفارت کاروں، سکیورٹی ماہرین اور ماہرین تعلیم نے شرکت کی۔ شرکا نے خطے میں انسداد دہشت گردی کے بدلتے ہوئے منظرنامے، افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہوں سے پاکستان اور وسیع تر خطے کو لاحق خطرات، اور علاقائی و بین الاقوامی شراکت داروں کے درمیان قریبی اور پائیدار تعاون کی ضرورت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
