اسلام آباد: وزارت قومی صحت، ضوابط و رابطہ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں ملازمین کی ترقی اور تنخواہوں سے متعلق انتظامات پر انکوائری کے بعد ابو بکر کو گریڈ 16 کے سپرنٹنڈنٹ کے عہدے سے واپس گریڈ 9 کے لوئر ڈویژن کلرک کے عہدے پر لانے کا حکم دیا ہے۔
وزارت کے 21 مارچ 2024 کو جاری نوٹیفکیشن کے مطابق فیکٹ فائنڈنگ انکوائری کمیٹی نے ابو بکر کی گریڈ 14 میں بطور اسسٹنٹ تقرری کا ریکارڈ دیکھا۔ کمیٹی کے جائزے میں یہ بات سامنے آئی کہ مذکورہ تقرری مقررہ معیار کے مطابق نہیں تھی۔
نوٹیفکیشن میں ہدایت کی گئی کہ ابو بکر کو گریڈ 16 کے سپرنٹنڈنٹ کے عہدے سے واپس گریڈ 9 کے لوئر ڈویژن کلرک کے عہدے پر لایا جائے۔ وزارت نے متنازع انتظام کے تحت حاصل کیے گئے تمام فوائد کی ریکوری کا بھی حکم دیا۔
وزارت نے پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کو ہدایت کی کہ فیصلے پر متعلقہ قواعد کے مطابق عملدرآمد کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں۔ یہ نوٹیفکیشن سیکریٹری وزارت قومی صحت، ضوابط و رابطہ کی منظوری سے جاری ہوا اور اس پر سیکشن آفیسر سید حسن محمود کے دستخط موجود ہیں۔
دستاویزات کے مطابق معاملہ پمز کے پروموشن سیل کے پاس موجود ڈائریکٹ پروموشن کوٹہ اور روسٹر سے متعلق تھا۔ انکوائری میں یہ دیکھا گیا کہ ابو بکر کو پہلے گریڈ 14 میں اسسٹنٹ کیسے مقرر کیا گیا اور بعد ازاں وہ گریڈ 16 کے سپرنٹنڈنٹ کے عہدے تک کیسے پہنچے۔ وزارت کے حکم میں کہا گیا کہ تقرری کا ریکارڈ مطلوبہ معیار پر پورا نہیں اترتا۔
مارچ کے حکم کے بعد معاملہ عملدرآمد کے لیے زیر التوا رہا۔ وزارت قومی صحت نے 6 مئی 2024 کے خط میں کہا کہ اس کی سابقہ ہدایات پر عملدرآمد کی رپورٹ پمز کی جانب سے تاحال موصول نہیں ہوئی۔
وزارت نے پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کو ہدایت کی کہ مزید تاخیر کے بغیر عملدرآمد رپورٹ جمع کرائی جائے۔ یہ خط بھی وزارت کے سیکریٹری کی منظوری سے جاری کیا گیا اور اس پر سیکشن آفیسر محمد بلال خان کے دستخط تھے۔
دستیاب ریکارڈ میں پانچ اسسٹنٹ ملازمین کی ترقی کے کیسز کا بھی ذکر ہے۔ ان ملازمین میں مہر غلام یاسین، حشمت خان، منیر حسین، محمد شاہد بھٹی اور ابو بکر شامل ہیں۔
ریکارڈ کے مطابق ان ملازمین کو سپرنٹنڈنٹ کے عہدے پر ترقی دینے کے معاملات کا جائزہ لیا گیا تھا۔ دستاویز میں درج ہے کہ انہیں ترقی اور تنخواہ کے مقصد کے لیے چارج نرس کی خالی اسامی کے خلاف ایڈجسٹ کیا گیا، تاہم اس انتظام کو درست قرار نہیں دیا گیا کیونکہ چارج نرس اور سپرنٹنڈنٹ الگ الگ کیڈر ہیں۔
اسی دستاویز میں کہا گیا کہ متعلقہ طریقہ کار کے تحت کسی اسسٹنٹ کو مطلوبہ مدت کے اندر متوقع سپرنٹنڈنٹ اسامی کے خلاف ترقی کے لیے زیر غور لایا جا سکتا ہے، تاہم ایسی ترقی کا اطلاق اسی وقت ہوگا جب سپرنٹنڈنٹ کی واضح خالی اسامی دستیاب ہو۔
دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پمز میں اسسٹنٹ ملازمین کی ترقی کے لیے اسامیوں کے استعمال اور تنخواہ کے تعین کے طریقہ کار پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔ خاص طور پر چارج نرس کی خالی اسامی کو سپرنٹنڈنٹ سے متعلق ترقی اور تنخواہ کے انتظام کے لیے استعمال کرنے کو مسئلہ قرار دیا گیا۔
وزارت کے 21 مارچ کے حکم کا مرکزی نکتہ ابو بکر کا کیس تھا، جس میں انہیں گریڈ 16 سپرنٹنڈنٹ سے گریڈ 9 لوئر ڈویژن کلرک کے عہدے پر واپس لانے اور حاصل شدہ فوائد کی ریکوری کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 6 مئی کے مراسلے سے واضح ہوتا ہے کہ وزارت پمز سے اس حکم پر عملدرآمد کی باقاعدہ رپورٹ کی منتظر تھی۔
دستیاب دستاویزات میں انکوائری کمیٹی کی مکمل کارروائی کی تفصیل شامل نہیں، نہ ہی موجود ریکارڈ میں یہ تصدیق موجود ہے کہ فوائد کی ریکوری کب مکمل ہوئی۔ تاہم ریکارڈ سے یہ واضح ہے کہ وزارت نے تبدیلی کا حکم جاری کیا اور بعد میں پمز سے عملدرآمد رپورٹ طلب کی۔
یہ معاملہ سرکاری اداروں میں ترقی کے لیے منظور شدہ پروموشن کوٹہ، اسٹاف روسٹر، کیڈر اسٹرکچر اور خالی اسامیوں سے متعلق قواعد کی پابندی کی اہمیت کو نمایاں کرتا ہے۔ دستاویزات یہ بھی ظاہر کرتی ہیں کہ حکومت ایک بڑے سرکاری اسپتال میں ترقی اور تنخواہ کے انتظامات کو مقررہ طریقہ کار کے مطابق جانچ رہی تھی۔
Read in English: PIMS Official Ordered Reverted From Grade 16 to Grade 9
