تصدیق شدہ دستاویزات پر بیرون ملک وارث اپنا حصہ چھوڑ سکتے ہیں، سندھ ہائیکورٹ

newsdesk
10 Min Read
سندھ ہائیکورٹ نے غیر متنازع وراثتی معاملات میں بیرون ملک وارثوں کے حصص چھوڑنے سے متعلق اہم رہنمائی جاری کی۔

کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ بیرون ملک رہائش پذیر قانونی وارث غیر متنازع وراثتی کارروائی میں اپنا وراثتی حصہ کسی دوسرے وارث کے حق میں چھوڑ سکتے ہیں، تاہم اس کے لیے دستاویزات کی باضابطہ تصدیق ضروری ہوگی۔ عدالت نے کہا کہ مناسب صورتوں میں نوٹری سے تصدیق شدہ دستاویزات، ویڈیو لنک کے ذریعے وارثوں کی جانچ کے بعد قبول کی جاسکتی ہیں تاکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو وراثتی معاملات مکمل کرنے میں غیر ضروری مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

یہ حکم سندھ ہائیکورٹ کراچی نے ایم اے نمبر 212 آف 2024 میں یکم اپریل 2026 کو جاری کیا۔ اپیل کنندہ کی جانب سے ایڈووکیٹ آصف رشید پیش ہوئے۔ اپیل 19 نومبر 2024 کے حکم کے خلاف دائر کی گئی تھی جو ایس ایم اے نمبر 240 آف 2024 میں دیا گیا تھا۔ اس حکم میں لیٹر آف ایڈمنسٹریشن جاری کردیا گیا تھا، مگر اپیل کنندہ کے حق میں حصص سے دستبرداری کی درخواست قبول نہیں کی گئی تھی۔

ہائیکورٹ نے نشاندہی کی کہ وراثتی کارروائی پورے مقدمے میں غیر متنازع رہی۔ اخبار میں نوٹس شائع کیا گیا، لیکن کوئی شخص اعتراض کے لیے سامنے نہیں آیا۔ اپیل کنندہ کے وکیل نے سندھ ہائیکورٹ کے دو سابقہ فیصلوں، ایس ایم اے نمبر 164 آف 2015 اور ایس ایم اے نمبر 150 آف 2018، کا حوالہ دیا تھا، تاہم سابقہ عدالت نے انہیں اس بنیاد پر زیر غور نہیں لایا کہ وہ غیر رپورٹ شدہ فیصلے تھے۔ اس عدالت نے یہ رائے بھی دی تھی کہ وراثتی کارروائی میں حصہ چھوڑنے کی درخواست دائرہ اختیار سے باہر ہے۔

مقدمہ مقبول احمد کے ترکے سے متعلق تھا، جن کا انتقال تقریباً 2019 میں ہوا۔ ان کے ترکے میں ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کراچی کی متعدد غیر منقولہ جائیدادیں شامل تھیں۔ ان کے انتقال کے بعد، اعتراضات نہ ہونے کی بنا پر، یہ جائیدادیں ان کے قانونی وارثوں میں منتقل ہوئیں جن میں ان کے بیٹے، والدہ راحت ناز، بیٹیاں ندا فلک اور ثنا فلک، اور والدہ سلطانہ بیگم شامل تھیں۔

بعد ازاں سلطانہ بیگم کے انتقال کے بعد جائیدادوں میں ان کے حصے کے بارے میں الگ وراثتی معاملہ دائر کیا گیا۔ اس کارروائی میں ان کے متعدد قانونی وارثوں نے حلف نامے جمع کرائے جن میں کہا گیا کہ انہیں درخواست پر کوئی اعتراض نہیں اور وہ اپنا ایک چھٹا غیر منقسم حصہ اپیل کنندہ کے حق میں relinquish، release اور give up کر رہے ہیں۔

عدم اعتراض کے حلف نامے جمع کرانے والے وارثوں میں اقبال احمد، محمد طارق، راحت ناز احمد، ندا فلک احمد، ثنا فلک احمد، یاسمین آصف، محمد جاوید احمد، محمد نوید اور آفتاب احمد سومرو شامل تھے۔ عدالتی حکم کے مطابق مسماۃ نرگس اختر کے سوا یہ تمام وارث بیرون ملک مقیم تھے اور ان کے حلف نامے نوٹری سے تصدیق شدہ تھے۔

سندھ ہائیکورٹ نے نوٹ کیا کہ ٹرائل کورٹ نے دستاویزات کی اصل حیثیت جانچنے کے لیے ایک اضافی قدم اٹھایا اور بیرون ملک مقیم وارثوں کے بیانات ویڈیو لنک کے ذریعے لیے۔ ہائیکورٹ نے اس عمل کو سراہا اور کہا کہ اس سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے متعلق معاملات کو جلد نمٹانے میں مدد ملتی ہے۔

عدالت نے اپیل کنندہ کی جانب سے پیش کیے گئے دونوں سابقہ وراثتی فیصلوں کا بھی جائزہ لیا۔ ایس ایم اے نمبر 164 آف 2015 میں عدالت نے بعض قانونی وارثوں کی جانب سے حصص چھوڑنے کو اس بنا پر قبول کیا تھا کہ انہوں نے الگ الگ دستبرداری کی دستاویزات تیار کیں جن کی بیرون ملک پاکستان مشن سے تصدیق ہوئی، کیونکہ وہ وارث امریکہ اور نیدرلینڈز میں رہتے تھے۔

ایس ایم اے نمبر 150 آف 2018 میں بھی قانونی وارثوں اور باقی ماندہ مستحقین کے باضابطہ عدم اعتراض حلف ناموں کی بنیاد پر حصہ چھوڑنے کی درخواست قبول کی گئی تھی۔ ان حلف ناموں میں واضح پیراگراف شامل تھا کہ متعلقہ وارث اپنے حصے surrender اور relinquish کر رہے ہیں۔

سندھ ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ سابقہ عدالت کا ان فیصلوں کو محض اس وجہ سے نظر انداز کرنا درست نہیں تھا کہ وہ قانونی جرائد میں شائع نہیں ہوئے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اعلیٰ عدالتوں کے فیصلے رپورٹ شدہ ہوں یا غیر رپورٹ شدہ، اگر وہ زیر سماعت معاملے سے متعلق ہوں تو ان کا وزن اور قانونی اثر یکساں ہوتا ہے۔

عدالت کے مطابق غیر رپورٹ شدہ فیصلے کی صداقت سرکاری عدالتی ریکارڈ سے معلوم کی جاسکتی ہے۔ چونکہ عدالتیں courts of record ہیں، اس لیے کوئی فیصلہ صرف اس بنا پر اپنی قانونی اہمیت نہیں کھوتا کہ وہ لا رپورٹ میں شائع نہیں ہوا۔

ہائیکورٹ نے یہ مؤقف بھی مسترد کردیا کہ حصص سے دستبرداری کی درخواست وراثتی کارروائی کے دائرہ کار سے باہر تھی۔ عدالت نے کہا کہ مقدمے کے حالات میں ایسی درخواست پر غور کیا جاسکتا تھا۔

وراثت کے سوال پر عدالت نے قرار دیا کہ غیر متنازع وراثتی معاملات میں عملی طرز عمل اختیار کیا جانا چاہیے، خاص طور پر جہاں اسلامی قانون وراثت کا اطلاق ہو اور بعض قانونی وارث پاکستان سے باہر مقیم ہوں۔ عدالت کے مطابق مقصد یہ ہے کہ بیرون ملک پاکستانیوں کے جائز وراثتی انتظامات مکمل کرنے میں سہولت دی جائے اور انہیں غیر ضروری طور پر سفر پر مجبور نہ کیا جائے۔

عدالت نے ایسے وارثوں کے لیے دو عملی راستے بھی بیان کیے جو اپنا حصہ چھوڑنا چاہتے ہوں۔

پہلے راستے کے تحت وارث باضابطہ طور پر تیار کردہ relinquishment deeds نوٹری پبلک سے تصدیق کرانے کے بعد متعلقہ پاکستانی مشن سے قانونی طریقہ کار کے مطابق endorsed اور attested کرا کے بھیج سکتے ہیں۔

دوسرے راستے کے تحت، اگر حقیقی عملی وجوہات کی وجہ سے پہلا طریقہ اختیار نہ کیا جاسکے، تو relinquishment deed نوٹری پبلک سے تصدیق کے بعد پاکستان بھیجی جاسکتی ہے، بشرطیکہ اس دستاویز میں واضح طور پر درج ہو کہ پہلا طریقہ کیوں اختیار نہیں کیا جاسکا۔ عدالت نے کہا کہ اگر حصہ چھوڑنے والے وارثوں کی پہلے ہی ویڈیو لنک کے ذریعے تصدیق ہوچکی ہو تو دوسرے طریقے کے تحت ایسی دستاویزات کو بھی پاکستان میں سرکاری دفاتر اور حکام مکمل اثر دیں گے۔

عدالت کے اس طریقہ کار کے تحت بیرون ملک وارثوں کو ایک عملی متبادل ملتا ہے جہاں پاکستان مشن سے تصدیق کرانا حقیقی طور پر مشکل ہو۔ تاہم حکم میں واضح کیا گیا کہ درست نوٹری تصدیق، وجہ کی وضاحت اور ویڈیو لنک کے ذریعے تصدیق اہم حفاظتی اقدامات رہیں گے۔

سندھ ہائیکورٹ نے سابقہ حکم اس حد تک جزوی طور پر کالعدم قرار دیا جس میں غیر رپورٹ شدہ عدالتی نظائر اور حصص سے دستبرداری کی درخواست کو زیر غور لانے سے انکار کیا گیا تھا۔ تاہم لیٹر آف ایڈمنسٹریشن جاری کرنے سے متعلق سابقہ حکم کا باقی حصہ برقرار رکھا گیا۔

اس حد تک اپیل منظور کرلی گئی۔ عدالت نے یہ بھی ہدایت کی کہ فیصلے کی نقل اس جوڈیشل افسر کو بھجوائی جائے جس نے سابقہ حکم جاری کیا تھا۔

یہ فیصلہ ان وراثتی مقدمات کے لیے اہم رہنمائی فراہم کرتا ہے جہاں قانونی وارثوں میں کوئی تنازع نہیں۔ فیصلے سے واضح ہوتا ہے کہ عدالتیں بیرون ملک مقیم وارثوں کی تصدیق کے لیے ویڈیو لنک جیسے عملی طریقے اختیار کرسکتی ہیں، جبکہ وراثتی دستاویزات کی قانونی تصدیق کے تقاضے بھی برقرار رہیں گے۔

یہ حکم بیرون ملک مقیم پاکستانی خاندانوں کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اس میں ایسے حالات کے لیے واضح راستہ دیا گیا ہے جہاں وارث پاکستان سے باہر ہوں اور اپنا حصہ چھوڑنا چاہتے ہوں۔ ساتھ ہی عدالت نے وکلا اور ماتحت عدالتوں کے لیے یہ اصول بھی واضح کیا کہ اعلیٰ عدالت کا غیر رپورٹ شدہ فیصلہ صرف اس وجہ سے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ وہ کسی لا رپورٹ میں شائع نہیں ہوا؛ اس کی مطابقت اور صداقت عدالتی ریکارڈ سے دیکھی جاسکتی ہے اور متعلقہ صورت میں اسے رپورٹ شدہ فیصلے جیسی قانونی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔

Share This Article