لاہور ہائی کورٹ نے نجی کمپنی کے خلاف ای او بی آئی اسیسمنٹ کالعدم قرار دے دی

9 Min Read
جسٹس جواد حسن نے ای او بی آئی ایکٹ کی دفعہ 12 کے تحت اسیسمنٹ کے طریقہ کار پر فیصلہ سنایا۔

لاہور: لاہور ہائی کورٹ ملتان بنچ نے قرار دیا ہے کہ ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹس انسٹی ٹیوشن (ای او بی آئی) کسی آجر کے خلاف ای او بی آئی ایکٹ 1976 کی دفعہ 12(3) کے تحت براہ راست اسیسمنٹ نہیں کر سکتا، جب تک پہلے دفعہ 12(1) کے تحت ریکارڈ کی جانچ اور تصدیق کا طریقہ کار اختیار نہ کیا جائے۔ تاہم اگر آجر ریکارڈ برقرار رکھنے یا ریٹرنز فراہم کرنے میں ناکام ہو اور اس وجہ سے واجبات کا تعین مشکل ہو جائے تو قانون کے مطابق دفعہ 12(3) کا سہارا لیا جا سکتا ہے۔

جسٹس جواد حسن نے یہ فیصلہ 29 ستمبر 2026 کو رٹ پٹیشن نمبر 800/2020 میں سنایا۔ درخواست Security Organizing System Pakistan Private Limited نے ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹس انسٹی ٹیوشن اور دیگر کے خلاف دائر کی تھی۔ عدالت نے قرار دیا کہ دفعہ 12 کے دونوں حصوں کو الگ الگ نہیں بلکہ باہم مربوط انداز میں پڑھا جائے گا، اور ای او بی آئی کے لیے لازم ہے کہ خصوصی اسیسمنٹ کے اختیار کو استعمال کرنے سے پہلے آجر کے ریکارڈ کا جائزہ لے۔

مقدمے کا تعلق Security Organizing System Pakistan Private Limited سے تھا، جو بینکوں اور تجارتی اداروں کو خدمات فراہم کرتی ہے۔ کمپنی کا ہیڈ آفس ملتان میں ہے اور وہ ای او بی آئی ایکٹ کی دفعہ 11 کے تحت رجسٹرڈ تھی۔ کمپنی نے جولائی 2013 میں ڈیرہ غازی خان دفتر شروع کیا۔ عدالت کے سامنے موجود ریکارڈ کے مطابق کمپنی ای او بی آئی کنٹری بیوشنز ادا کر رہی تھی اور اس نے جولائی 2013 سے اپریل 2015 تک ادائیگیوں کا ریکارڈ بھی پیش کیا تھا۔

ای او بی آئی نے 14 مئی 2015 کو ای او بی آئی ایکٹ کی دفعہ 12(3) کے تحت ڈیمانڈ نوٹس جاری کیا۔ بعد ازاں 25 اگست 2015 کو پنجاب لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 کی دفعہ 79 کے تحت شوکاز نوٹس جاری کیا گیا۔ کمپنی نے اس اقدام کو ای او بی آئی ایڈجیوڈیکیٹنگ اتھارٹی لاہور کے سامنے چیلنج کیا، تاہم 12 دسمبر 2018 کو درخواست بنیادی طور پر کمپنی کی عدم حاضری کی وجہ سے خارج کر دی گئی۔ بعد میں اپیل بھی اپیلیٹ بورڈ، بورڈ آف ٹرسٹیز، ای او بی آئی فیصل آباد کیمپ آفس نے 26 اگست 2019 کو مسترد کر دی۔

درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر ایم اے حیات ہراج نے مؤقف اختیار کیا کہ ای او بی آئی نے دفعہ 12(1) کے تحت مطلوبہ کارروائی کیے بغیر براہ راست دفعہ 12(3) کا اطلاق کیا۔ انہوں نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے Tariq Iqbal Malik versus Messrs Multiplierz Group Private Limited and others، رپورٹڈ بطور 2022 CLD 468، میں وضع کردہ Doctrine of Intertwined پر انحصار کیا۔ احمد رضا بھی درخواست گزار کی طرف سے بطور وکیل پیش ہوئے۔

ای او بی آئی کی جانب سے میاں خالد حسین مترو ایڈووکیٹ پیش ہوئے اور درخواست کی مخالفت کی۔ انہوں نے مؤقف اپنایا کہ ڈیمانڈ نوٹس قانونی تھا اور اتھارٹی و اپیلیٹ بورڈ کے فیصلوں میں ایسی کوئی قانونی خامی نہیں جس کی بنیاد پر ہائی کورٹ مداخلت کرے۔ رانا محمد جاوید اقبال، اسسٹنٹ اٹارنی جنرل، جبکہ بشیر احمد بزدار اور راؤ عمران شوکت، اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرلز، بھی مقدمے میں پیش ہوئے۔

ہائی کورٹ نے ای او بی آئی ایکٹ کی دفعہ 12 کا تفصیلی جائزہ لیا۔ عدالت نے کہا کہ دفعہ 12(1) ای او بی آئی حکام کو یہ اختیار دیتی ہے کہ وہ آجروں سے معلومات طلب کریں، کاروباری مقامات میں داخل ہوں، اکاؤنٹس اور دیگر ریکارڈ کا معائنہ کریں اور آجروں، ملازمین یا متعلقہ افراد سے پوچھ گچھ کریں۔ اس کے برعکس دفعہ 12(3) کے تحت دستیاب شہادت کی بنیاد پر اسیسمنٹ صرف اسی صورت ممکن ہے جب آجر ریکارڈ برقرار رکھنے، ریٹرنز جمع کرانے یا دفعہ 12(1) کی تعمیل میں ناکام رہے، اور اسی ناکامی کے باعث بیمہ شدہ افراد یا قابل ادائیگی کنٹری بیوشن کا تعین مشکل ہو جائے۔

جسٹس جواد حسن نے قرار دیا کہ دفعہ 12(3) ای او بی آئی کو یہ غیر محدود اختیار نہیں دیتی کہ وہ محض اپنے خیال کی بنیاد پر کوئی رقم واجب الادا قرار دے دے۔ عدالت کے مطابق اس دفعہ کے استعمال کے لیے قانونی شرائط کا موجود ہونا ضروری ہے اور ان شرائط کا ریکارڈ سے ثابت ہونا بھی لازم ہے۔

عدالت نے نوٹ کیا کہ کمپنی نے اپنے ماہانہ کنٹری بیوشن کا ریکارڈ ای او بی آئی کے سامنے پیش کر رکھا تھا۔ جب متعلقہ مواد دستیاب تھا تو ای او بی آئی پہلے اس ریکارڈ کا جائزہ لیے بغیر اور یہ طے کیے بغیر کہ دفعہ 12(3) کے اطلاق کی قانونی شرائط موجود ہیں یا نہیں، براہ راست اس دفعہ کے تحت کارروائی نہیں کر سکتا تھا۔ عدالت نے کہا کہ دفعہ 12(3) کے تحت اسیسمنٹ سے پہلے دستیاب ریکارڈ پر مناسب غور اور مبینہ بقایا کنٹری بیوشن کی بنیاد کی نشاندہی ضروری ہے۔

فیصلے میں Doctrine of Intertwined کا بھی اطلاق کیا گیا، جس کے تحت باہم متعلقہ قانونی دفعات کو ایک ساتھ پڑھا جاتا ہے اور کسی ایک دفعہ کو الگ تھلگ نہیں دیکھا جاتا۔ عدالت نے اس ضمن میں Tariq Iqbal Malik، Malik Mehboob versus Commissioner Rawalpindi، Messrs Nordex Singapore Equipment Limited versus Federal Board of Revenue اور Messrs Future Vision Advertising Private Limited versus Federation of Pakistan سمیت سابقہ فیصلوں کا حوالہ دیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ ریکارڈ سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ پہلے دفعہ 12(1) کا طریقہ کار اختیار کیا گیا، یا یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ کمپنی ریکارڈ رکھنے یا ریٹرنز جمع کرانے میں ناکام رہی جس کی وجہ سے کنٹری بیوشن کا تعین مشکل ہوا۔ جسٹس جواد حسن نے کہا کہ یہ محض معمولی ضابطہ جاتی غلطی نہیں، کیونکہ مطلوبہ قانونی شرائط اسیسمنٹ کی بنیاد سے براہ راست منسلک ہیں۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ مبینہ بقایاجات کا کوئی مطالبہ اس وقت تک نہیں کیا جا سکتا جب تک مجاز اتھارٹی قانون کے مطابق رقم کو درست طور پر ascertain، determine، calculate اور tabulate نہ کرے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ کمپنی کی سابقہ درخواست کا عدم حاضری کی بنیاد پر اخراج اسیسمنٹ سے متعلق قانونی اور factual امور پر باقاعدہ فیصلے کا متبادل نہیں بن سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے رٹ پٹیشن منظور کرتے ہوئے ای او بی آئی ایڈجیوڈیکیٹنگ اتھارٹی کا 12 دسمبر 2018 کا فیصلہ اور اپیلیٹ بورڈ کا 26 اگست 2019 کا حکم کالعدم قرار دے دیا۔ معاملہ مجاز اتھارٹی کو ازسرنو فیصلے کے لیے واپس بھجوا دیا گیا تاکہ درخواست گزار کو مناسب سماعت کا موقع دے کر دفعہ 12(1) کی سختی سے پیروی کی جائے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگر بعد میں دفعہ 12(3) کی قانونی شرائط موجود پائی جائیں تو ای او بی آئی قانون کے مطابق اس دفعہ کے تحت کارروائی کر سکتا ہے۔

عدالت نے اتھارٹی کو ہدایت کی کہ فیصلے کی مصدقہ نقل موصول ہونے کے دو ماہ کے اندر speaking اور reasoned order جاری کیا جائے۔ ساتھ ہی واضح کیا گیا کہ اس فیصلے کو مبینہ کنٹری بیوشن واجبات کی اصل merits یا رقم کے تعین پر فیصلہ تصور نہیں کیا جائے گا۔

فیصلے میں یہ بھی بیان کیا گیا کہ ای او بی آئی ایکٹ کی دفعہ 9 کے تحت ماہانہ کنٹری بیوشن ادا کرنا آجر کی ذمہ داری ہے اور آجر اپنے حصے کی رقم بیمہ شدہ ملازم کی اجرت سے وصول نہیں کر سکتا۔

Share This Article
ندیم تنولی اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہیں جو پارلیمانی امور، اوورسیز پاکستانیوں، موسمیاتی تبدیلی، گورننس کی شفافیت اور صحت عامہ کے مسائل پر گہرائی سے رپورٹنگ کے لیے پہچانے جاتے ہیں۔